آئی ایس آئی زبان زد عام مُفت معلومات

 

  آئی ایس آئی زبان زد عام

افغانستان میں اس وقت جو معاملات ہیں۔خواں ان میں طالبان کی حکومت ہو یا افغانستان میں ان کی جاری جنگ,اس صورتحال میں شہ سرخیوں پر آئی ایس آئی چھایا ہوا ہے۔آئی ایس آئی پاکستان کی شان ہے۔جس طرح آئی ایس آئی ملک کے لیے کام کرتا ہے ۔

اُسی طرح مختلف ممالک کی ایجنسیز ہیں ۔ ان ایجنسیز کی اہمیت کا تب اندازہ ہوتا ہے جب جنگی صورتحال سے سامنا ہوتا ہے۔ ان کی خفیہ طور پر اکٹھی کی گئی معلومات جنگ کے دوران دشمن کو شکست دینے میں کام آتی ہیں۔ آئی ایس آئی کا ایک مقام ہے ۔ اسی طرح امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ہے۔ اور انڈیا کی خفیہ ایجنسی را ہے۔ گذشتہ روز آئی ایس آئی کے جنرل فیض حمید کی کابلی چائے کے ساتھ ایک تصویر وائرل ہوئے ہے ۔

یہ تصویر ہی ایک راز بنا ہوا ہے۔ اس راز کی کھوج میں کئی لوگ سرگرداں ہیں ۔ خاص کر سی آئی اے اور را کے کوششیں قابل تحسین ہیں ۔ لیکن جب تک یہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوں گے تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ آئی ایس آئی اس وقت دنیا کی نظروں میں ہے۔

لیکن کوئی بھی ان کے اگلے قدم سے واقف نہیں۔انیس سو اٹھاسی میں یونیسیف کے دو ممبران نمبر ون سویڈن نمبر دو امریکہ جو کہ سی آئی اے کے انڈر کور ایجنٹ تھے۔ ان کی یہ کوشش تھی کہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور جموں کشمیر کو ایک ریاست بنایا جاسکے۔ تاکہ اس کا استعمال پاکستان کے خلاف کیا جائے۔ اس ریاست کی ذریعے پاکستان اور چین کا زمینی رابطہ ختم کیا جائے۔ گوادر پورٹ ایک ایسی سونے کی چڑیا ہے ۔ جس سے پاکستان ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا ۔

ایشیا کے علاقے میں گوادر پورٹ کی مدد سے ایک نئی معیشت کا نظام جلد تشکیل پا جائے گا ۔ اس ایشیائی بلاگ کا سب سے زیادہ اثر امریکا کی معیشت کو ہو گا ۔ اس ساری صورت حال کو سمجھتے ہوئے امریکا اپنا ہر حربہ آزما چکا ہے۔ لیکن آئی ایس آئی میں کام کرنے والے جوانوں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا ۔اور تمام بیرونی سازشوں کو شکست فاش ہوئی۔

آئی ایس آئی کے سابق چیف حمید گل کے کچھ کلپس سامنے آ رہے ہیں۔ جن میں اُن کے الفاظ کچھ یوں ہیں”جب تاریخ رقم ہو گی تو کہا جائے گا کے آئی ایس آئی نے امریکا کی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دے دی۔پھر ایک جملہ ہو گا کہ آئی ایس آئی نے امریکا کی مدد سے امریکا کو شکست دے دی۔ آئی ایس آئی کے کارناموں پر بات کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے میجر عامر جو کہ سابق آئی ایس آئی افسر رہ چکے ہیں۔

میجر عامر نے دوایسے واقعات کا ذکر کیا ہے ۔ جن میں را ایجنٹس کو کلٹی ویٹ کر کے آئی ایس آئی میں شامل کر لیا گیا۔ ان میں سے ایک ایجنٹ جو آئی ایس آئی کے نیٹ ورک میں گھس چکا تھا۔ اس کے ذریعے را کے ایک دوسرے ایجنٹ کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ بنا لیا گیا ۔ میجر عامر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.