آجکل خارش بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے۔ مفت معلومات

Why is itching increasing nowadays-muft malomat

آجکل خارش بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے۔

پاکستان میں کچھ سالوں سے ایک عجیب بیماری نمو پا چکی ہے جو پہلے نہیں تھی ۔اور اب بیماری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی فرد اس کا شکار ضرور ہوا ہے یہ بیماری خارش کی ہے ۔یہ بیماری صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے دیگر ممالک میں بھی ہے ۔

یہ خارش اس طرح کی ہو رہی ہے کہ اس کے بہت سے  علاج بھی کروائے جارہےیہاں تک کے کچھ لوگوں میں یہ شدید صورت میں نمودار ہوتی کہ اس کا علاج کروانے کے باوجود بھی اس

سے نجات نہیں ہوتی ۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ خارش کی بیماری کیوں بڑھ رہی ہے اور کس طرح ہوتی ہے ،اس کی وجوہات کونسی ہیں ۔

دیکھا جائے تو خارش کی بڑی وجہ جلد کا ڈرائی (خشک )ہونا ہے ۔جس کے لیے مختلف طرح کی کریمیں لگائی جاتی ہیں جبکہ جلد کا خشک ہونا جسم میں پانی کی کمی سے ہوتا ہے ۔پانی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے لیکن لوگ پانی کم پیتے ہیں ۔سائنسی تحقیق کے مطابق دن میں ڈھائی یا تین لیٹر پانی ضرور پینا چاہیے ۔

جب پانی نہیں پیا جاتا تو جلد خشک ہو جاتی ہے جس پر خارش ہوتی ہے ۔

چہرہ بھی بشاش نہیں رہتا اور رنگ بھی خراب ہو جاتا ہے ۔جلد پر جھریاں بھی جلدی نمودار ہوتی ہیں ۔اور خارش سے جب نشانات پڑ نے لگیں تو سمجھ جانا چاہیے کہ پانی کی کمی سے جلد خشک ہو رہی ہے۔لہذا پانی کی مقدار پوری کرنی ضروری ہے اس لیے صبح ناشتے سے پہلے تھوڑا تھوڑا کر کے پانی کے 2،3 گلاس پینے چاہئیے پھر ناشتے کے درمیان یا بعد میں پانی نہ پیئں ۔اسی طرح دن بھر میں پانی کی مقدار پوری کرنے سے دو ہفتوں میں ہی اس کا اچھا نتیجہ سامنے آئے گا ۔جسم میں انفیکشن ختم ہو جائے گا یورن کا رنگ بھی ٹھیک ہو جائے گا ۔

جب سے واٹر بوتل کے ساتھ پانی پینے کا رواج ہوا ہے لوگ کم پانی پینے لگے ہیں اس لیے بوتل چھوڑ کر گلاس کے ساتھ ہی پانی پیئیں اور دن  بھر کی مقدار کو پورا کریں ۔

کچھ لوگوں کو الرجی کی شکایت بھی ہوتی ہے ۔کیونکہ دنیا بھر میں  ماحولیاتی آلودگی ہے اور پاکستان میں بھی آب و ہوا کافی آلودہ ہے ۔جو  الرجی کا باعث بھی بنتی ہے کچھ لوگوں کو گندگی سے الرجی ہوتی ہے کچھ کو پھولوں سے ہوتی ہے کبھی کوئی چیز کھانے سے بھی الرجی ہوتی ہے ۔کیونکہ کچھ لوگ کھانے پینے کے بہت شوقین ہوتے ہیں ۔ایسی حالت میں سب سے پہلے تو ڈاکٹر سے رجوع

کرنا چاہئے خارش کی صورت میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس دن ایسا کیا کھایا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات ڈاکٹر خارش میں بہت سی چیزیں کھانے سے منع کر دیتے ہیں مثلا زیادہ مرچ یا مصالحہ دار کچھ کھانے سے ،یا گوشت، پیزا ،برگر وغیرہ کھانے سے جن میں سوس کا استعمال ہوتا ہے ۔کھاتے ہوئے تو اکثر پتہ نہیں چلتا لیکن کچھ دنوں بعد بھی الرجی ہو سکتی ہے اس لیے یاد رکھنا ہے کہ کس چیز کے کھانے سے الرجی ہوئی تھی تاکہ اگلی دفع اسے کھانے سے پرہیز کیا جائے ۔لہذا غذا کا خاص خیال رکھنا ہو گا اور اس سلسلے میں ڈاکٹر سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے ۔کیونکہ ہمیں

نہیں پتہ ہوتا کہ کھانے میں ایسی کونسی چیز ہے جو ہمارے جسم میں کہیں الرجی کا باعث بن سکتی ہے ۔اس لیے ایسی باتوں کا بہت خیال رکھنا ہے ۔

دیکھا جائے تو پاکستان میں آدھی آبادی معاشی طور پر مضبوط نہیں ہے اور غریب لوگ اکثر ریڑھی سے،سیکنڈ ہینڈ یا لنڈے کے کپڑے خرید کر پہن لیتے ہیں ۔اس سے بھی لوگوں کو خارش کی شکایت ہوتی ہے کیونکہ اگر وہ کپڑے کسی ایسے شخص کے ہیں جسے الرجی رہی ہو تو وہ کپڑوں کے ذریعے دوسرے کو بھی لگ جائے گی ۔اس لیے اس بات کو نوٹ ک کریں کہ کہیں ایسا کپڑا پہننے کے بعد تو خارش

نہیں شروع ہو گئی تو پھر فورا ہی اس کو بدل لیں اور آئیندہ استعمال نہ کریں ۔

خارش کی ایک وجہ سکیبیز بھی ہے جو ایک طرح کا ننھا ساباریک سا کیڑا ہے جو عام طور پر انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتا اسے دیکھنے کے لیے مائیکرو سکوپ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ پسوکی نسل کا ایک باریک سا کیا ہے جو انسانی جسم کا سکون برباد کر دیتا ہے  یہ عام طور پر نہ نہانے کی وجہ یا گندگی کی وجہ سے اکثر جسم کے  اوپری مساموں یا اوپر کی جلد کی تہہ میں گھس جاتے ہیں اور اسی میں سفر کرتے رہتے ہیں ایک وقت میں

دس سے پندرہ سکیبیز انسان کو ہو سکتے ہیں ان سے انسانی جلد میں سخت قسم کا ری ایکشن ہوتا ہے

 اس لیے لوگوں کو خاص طور پر صفائی کی عادت اپنانا چاہئیے روزانہ نہانا چاہئیے، وضو اور نماز کا خیال رکھنا چاہئیے

ایک اور چیز دیکھیں کہ جس صابن یا باڈی شاور سے نہا رہے ہیں تو کہیں اس سے بھی الرجی تو نہیں ہو رہی کیونکہ اکثر لوگوں کو صابن وغیرہ سے بھی الرجی ہو جاتی ہے ۔

سکیبیز جلد کے اندر دھاگے دار لائن بنا کر انڈے دیتے ہیں اور جسم کے اوپری ایک لکیر دکھائی دیتی ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ آپ ان کا شکار ہو

گئے ہیں ۔اس میں ڈاکٹر روزانہ نہانے کا کہتا ہے تا کہ سن کا پھیلاو رک سکے لیکن ختم کرنے کے لیے ڈاکٹر کریم دیتے ہیں جس کے استعمال سے یہ مر جاتے ہیں ۔

یہ خارش سے ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہے میاں سے بیوی کو ،

یورپ میں یہ بیماری عام ہے کیونکہ وہ روز نہاتے نہیں ،اسی طرح جیل میں رہنے والے قیدیوں کے استعمال شدہ بستر ،کمبل وغیرہ اور ہسپتالوں میں اکثر کسی ایسے مریض کے جانے سے دوسروں کو لگتی ہے ۔اس لیے ہر جگہ پر احتیاط کرنی چاہئیے کیونکہ جب خارش کی جاتی ہے تو جلد کا مواد ناخنوں میں بھی چلا جاتا ہےجو

ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے جس سے مرض پھیلتا ہے اس لیے کبھی خارش ہو بھی تو انگلی کی پوروں سے کریں اور فورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئیے اور صاف ستھرا رہنا چاہیے کیونکہ اسلام نے تو صفائی کو نصف ایمان کہا ہے ۔ اس لیے نہانے اور با وضو  رہنےسے انسان پاک رہتا ہے اور بیماریوں سے بچا رہتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.