آزاد کشمیر میں مریم نواز کی جانب سے کی جانے والی تقاریر سنیں۔ مفت معلومات

maryam nawaz jalsa Azaad Kashmir 2021- muft malomat

مفت معلومات ۔ آزاد کشمیر میں مریم نواز کی جانب سے کی جانے والی تقاریر سنیں۔
محترمہ کے لیے ضروری تھا کہ وہ کشمیریوں کو اپنے دور حکومت میں انہوں نے جو کارنامے سرانجام دیے ان سے آگاہی دیتیں۔

کہ کتنے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا؟کن کن پروجیکٹس کا اعلان کیا اور کس پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا؟؟ عوام کے لیے کیا کیا ریلیف مہیا کیا؟؟

لیکن ہااااااااااااااااۓ رے قسمت کے وہ ان سب باتوں کو ذہن سے نکال کر ایران توران کی باتوں میں مشغول رہیں ۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوام کو چاہیے کہ وہ محترمہ مریم نواز صاحبہ سے سوال کریں

کہ بی بی ہم آپ کو اگلی مدت کے لیے ووٹ کس بنیاد پر دیں؟
کیا آپ کو لگتا ہے آپ کے الفاظ، اعمال اور اقدامات تضادات کا شکار نہیں ہیں؟؟
کشمیر کی آزادی کے لیے اقدام تو بہت دور، آزاد کشمیر کی عوام کے لیے آج تک کیا کیا آپ کی حکومت نے؟؟؟

اسی طرح کل ہمارے معزز وزیراعظم عمران خان نے بھی آزاد کشمیر کی عوام کے سامنے لمبی چوڑی تقریر کی ۔
نہ صرف تقریر کی بلکہ میرے اور آپ کے ٹیکس پر پلنے والی پوری کابینہ کو بھی جلسے میں شرکت کا موقع فراہم کیا ۔

کشمیر کے لیے یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے ۔

لیکن بھرے مجمع میں آج بھی کسی میں یہ سوال اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی…… کہ محترم وزیر اعظم عمران خان صاحب کہ ان تین سالوں میں گزشتہ حکمرانوں کی طرح آپ کے دور حکومت میں بھی مہنگائی کا طوفان پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی شر سامانیوں کو عروج پر رکھے ہوۓ ہے
تو کیا اب پاکستان کے بعد کشمیر میں بھی یہی حالات ہوں گے مستقبل میں؟؟؟
یاں پھر ترقی سلوگن تک ہی محدود ہو کر رہ جاۓ گی؟
روٹی، کپڑے اور مکان تک رسائی غریب عوام کے لیے خواب میں خواب ہی رہ جاۓ گی؟؟
کیونکہ بہت سے دعوے دار اپنے دعوؤں سے سبز باغ دکھا کر عوام الناس کو گمراہ کرتے آۓ ہیں۔
تو کیا آپ بھی آزاد کشمیر کی عوام کو ذہنی غلامی سے نجات کی بجاۓ مزید اس کا شکار کرنے کے لیے ووٹ مانگنے آۓ ہیں؟؟
ایسے اور بھی بے انتہا سوالات ہیں جو گزشتہ اور موجودہ حکمرانوں کی بے حسی اور ناقص کارکردگی کے باعث اپنی اہمیت کھو چکے ہیں ۔
لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ سوال اٹھانے کی ہمت ہے کس میں؟ کیوں کہ سوال وہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کے اندر عصبیت نہ ہو، جو اندھی نگری میں اندھے بن کر چلنے کے قائل نہ ہوں…

|اس لیے موجودہ اور گزشتہ قائدین اطمینان رکھیں عوام کل بھی مصائب میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی قائل تھی نہ کہ حساب مانگنے کی اور آج بھی صورتحال یہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.