آپ کو کیا لگتا ہےفیشن کے نام پہ بے ہودہ لباس پروموٹ کرنے میں پاکستانی اداکاراؤں کے ساتھ ساتھ پاکستانی ڈیزائنرز کا بھی ہاتھ ہے؟

Hum style award 2021 - muft malomat

Hum style awards 2021

آپ کو کیا لگتا ہےفیشن کے نام پہ بے ہودہ لباس پروموٹ کرنے میں پاکستانی اداکاراؤں کے ساتھ ساتھ پاکستانی ڈیزائنرز کا بھی ہاتھ ہے؟

اس سال ہم آوارڈ شو میں ایسا کیا دیکھا گیا کہ پاکستانی مشہور اداکارئیں خصوصاً علیزہ شاہ عوام کے دل سے اتر چکی ؟ کیوں؟

آپ کو بتاتے چلے کہ ہر سال ہم آوارڈ شو کی تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں تمام سلیبریٹیز شرکت کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی پر داد وصول کرتے ہیں لیکن اس سال منعقد ہونے والے ہم آوارڈ شو میں کچھ اداکاراؤں کی برہنہ ڈریسنگ دیکھ کر عوام تپ گئ۔ ڈرامہ، فلم انڈسٹریز میں کام کرنے والی مشہور سلیبریٹیز آئمہ بیگ، عروہ حسین، مایہ علی، امر خان، مشل خان، ماڈل ناٹی خان، فیضی خان، فہیم انصاری ، نوشین شاہ اور مشہور اے آر وائے ڈرامے بلبلے کی ادکارا عائشہ عمر اور خصوصاً ہم ٹی وی پہ لگنے والے جو تو چاہیں مشہور ڈرامےکی معصوم دکھنے والی ادکارا علیزہ شاہ عوام کی فیورٹ رہی ہے۔ لیکن اب یہ ادکارائیں اپنے مدھوؤں کے دل سے اتر چکی ہے۔ یہ تمام ادکارائیں اس سال منعقد ہونے والے ہم آوارڈ شو میں اپنی برہنہ ڈریسنگ کی وجہ سے عوام کے دل سے اتر چکی ہے۔ ان اداکاراؤں کی ڈریسنگ پر فلم انڈسٹریز میں کام کرنے والے ایکٹرز فیروز خان، فیضان شیخ، بلال قریشی اور خلیل و رحمان نے ان کی بے ہودہ ڈریسنگ پر پوائنٹ آؤٹ کیا دوسری طرف اچھی ڈریسنگ کرنے والی ادکارائیں جن کی فہرست میں سارہ خان، عائزہ خان، ایمن خان، اریج شاہ اور یمنی زیدی ہیں جو اب لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن چکی ہے جو اپنے کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈریسنگ کرتی رہی انھوں نے ہم سٹائل آوارڈ شو پر ساتھی اداکاراوں کے کپڑوں پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ اداکاراوں نے تو باقاعدہ طور پر ہم آوارڈ شو کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس کے علاوہ یہ تمام ادکارائیں عوام کی تنقید کا نشانہ بنی۔ عوام کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ملک پاکستان میں ایسی برہنہ ڈریسنگ کرنا زیب نہیں دیتا۔ خوبصورت دکھنے کے لیے برہنہ ڈریسنگ کرنا ضروری نہیں جبکہ خوبصورتی آپ کے اندر ہوتی ہے آپ اتنی خوبصورت ہے آپ کوئی بھی کلچر ڈریسنگ کریں آپ کے سوٹ کریں گے اور لوگ بھی آپ کو سراہے گے اور برہنہ ڈریسنگ کرنے والی ایکٹریسز اور طوائفوں میں کیا فرق رہ گیا اس کے علاوہ اس غیر مذہب و کلچر ڈریسنگ سے دوسرے ممالک میں ہمارے اسلامی جمہوریہ ملک اور کلچر کا امپریشن بھی کتنا برا پڑے گا۔ انڈین اور پاکستانی ایکٹریس میں فرق ختم ہو چکا ہے۔ نیم برہنہ ڈریسنگ کو بے حیائ کو فیشن کا نام دے دیا گیا ہے۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں ان ڈریسنگ کی وجہ سے ریپ کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کا بھی کہنا ہے کہ مرد رابوٹ نہیں ہے۔ عمران خان صاحب کی بات بھی قابل غور ہے کہ ہم سب کی نظریں جھکا نہیں سکتے لیکن ہم خود کو ایسے فل کور کر سکتے ہیں کہ لوگ خود ہی احترام سے نظریں جھکا لے اگر خود کو فل کور نہیں کرسکتی تو خود کو نیم برہنہ بھی کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ لیکن کچھ ایکٹریس یہ کہتی ہے کہ سوچ اچھی ہونی چاہیے کپڑوں سے فرق نہیں پڑتا تو انہیں بتاتے چلے کہ آپ کی سوچ آپ کے عمل سے آپ کے کپڑوں سے واضح ہوتی ہے کوئی آپ کے اندر جا کر آپ کی سوچ کو نہیں جان سکتا۔ آپ کا کردار آپ کا ڈریسنگ سینس آپ کا اخلاق آپ کے ملک ، آپ کے مذہب اور آپ کےکلچر کی عکاسی کرتا ہے۔ ان اداکاراؤں کو یوتھ فولو کرتی ہے۔ تو یہ غوروفکر کی بات ہے کہ یہ اداکارائیں کیا پروموٹ کر رہی ہے یہ بے ہودہ ڈریسز پروموٹ کرنے میں پاکستانی ڈیزائنرز کا بھی ہاتھ ہے۔ فیشن کے نام پہ بے حیائ پھیلائی جارہی ہے۔ انڈین ڈریسز کی کاپی کی جارہی ہے۔ آخر کیا ضرورت پیش آئی کہ

پاکستانی ڈیزائنرز کو انڈین ڈریسز کی کاپی کرنی پڑی۔ اگر ڈیزائنرز نے کاپی کر کے ہی ڈریسز بنانے ہے تو آپ ڈیزائنر کس نام کے۔ پاکستانی ڈیزائنرز کو چاہیے اپنے ملک مذہب اور کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈریسز تیار کریں۔

Hum style awards 2021

آپ کو کیا لگتا ہےفیشن کے نام پہ بے ہودہ لباس پروموٹ کرنے میں پاکستانی اداکاراؤں کے ساتھ ساتھ پاکستانی ڈیزائنرز کا بھی ہاتھ ہے؟

اس سال ہم آوارڈ شو میں ایسا کیا دیکھا گیا کہ پاکستانی مشہور اداکارئیں خصوصاً علیزہ شاہ عوام کے دل سے اتر چکی ؟ کیوں؟
آپ کو بتاتے چلے کہ ہر سال ہم آوارڈ شو کی تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں تمام سلیبریٹیز شرکت کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی پر داد وصول کرتے ہیں لیکن اس سال منعقد ہونے والے ہم آوارڈ شو میں کچھ اداکاراؤں کی برہنہ ڈریسنگ دیکھ کر عوام تپ گئ۔ ڈرامہ، فلم انڈسٹریز میں کام کرنے والی مشہور سلیبریٹیز آئمہ بیگ، عروہ حسین، مایہ علی، امر خان، مشل خان، ماڈل ناٹی خان، فیضی خان، فہیم انصاری ، نوشین شاہ اور مشہور اے آر وائے ڈرامے بلبلے کی ادکارا عائشہ عمر اور خصوصاً ہم ٹی وی پہ لگنے والے جو تو چاہیں مشہور ڈرامےکی معصوم دکھنے والی ادکارا علیزہ شاہ عوام کی فیورٹ رہی ہے۔ لیکن اب یہ ادکارائیں اپنے مدھوؤں کے دل سے اتر چکی ہے۔ یہ تمام ادکارائیں اس سال منعقد ہونے والے ہم آوارڈ شو میں اپنی برہنہ ڈریسنگ کی وجہ سے عوام کے دل سے اتر چکی ہے۔ ان اداکاراؤں کی ڈریسنگ پر فلم انڈسٹریز میں کام کرنے والے ایکٹرز فیروز خان، فیضان شیخ، بلال قریشی اور خلیل و رحمان نے ان کی بے ہودہ ڈریسنگ پر پوائنٹ آؤٹ کیا دوسری طرف اچھی ڈریسنگ کرنے والی ادکارائیں جن کی فہرست میں سارہ خان، عائزہ خان، ایمن خان، اریج شاہ اور یمنی زیدی ہیں جو اب لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن چکی ہے جو اپنے کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈریسنگ کرتی رہی انھوں نے ہم سٹائل آوارڈ شو پر ساتھی اداکاراوں کے کپڑوں پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ اداکاراوں نے تو باقاعدہ طور پر ہم آوارڈ شو کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس کے علاوہ یہ تمام ادکارائیں عوام کی تنقید کا نشانہ بنی۔ عوام کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ملک پاکستان میں ایسی برہنہ ڈریسنگ کرنا زیب نہیں دیتا۔ خوبصورت دکھنے کے لیے برہنہ ڈریسنگ کرنا ضروری نہیں جبکہ خوبصورتی آپ کے اندر ہوتی ہے آپ اتنی خوبصورت ہے آپ کوئی بھی کلچر ڈریسنگ کریں آپ کے سوٹ کریں گے اور لوگ بھی آپ کو سراہے گے اور برہنہ ڈریسنگ کرنے والی ایکٹریسز اور طوائفوں میں کیا فرق رہ گیا اس کے علاوہ اس غیر مذہب و کلچر ڈریسنگ سے دوسرے ممالک میں ہمارے اسلامی جمہوریہ ملک اور کلچر کا امپریشن بھی کتنا برا پڑے گا۔ انڈین اور پاکستانی ایکٹریس میں فرق ختم ہو چکا ہے۔ نیم برہنہ ڈریسنگ کو بے حیائ کو فیشن کا نام دے دیا گیا ہے۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں ان ڈریسنگ کی وجہ سے ریپ کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کا بھی کہنا ہے کہ مرد رابوٹ نہیں ہے۔ عمران خان صاحب کی بات بھی قابل غور ہے کہ ہم سب کی نظریں جھکا نہیں سکتے لیکن ہم خود کو ایسے فل کور کر سکتے ہیں کہ لوگ خود ہی احترام سے نظریں جھکا لے اگر خود کو فل کور نہیں کرسکتی تو خود کو نیم برہنہ بھی کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ لیکن کچھ ایکٹریس یہ کہتی ہے کہ سوچ اچھی ہونی چاہیے کپڑوں سے فرق نہیں پڑتا تو انہیں بتاتے چلے کہ آپ کی سوچ آپ کے عمل سے آپ کے کپڑوں سے واضح ہوتی ہے کوئی آپ کے اندر جا کر آپ کی سوچ کو نہیں جان سکتا۔ آپ کا کردار آپ کا ڈریسنگ سینس آپ کا اخلاق آپ کے ملک ، آپ کے مذہب اور آپ کےکلچر کی عکاسی کرتا ہے۔ ان اداکاراؤں کو یوتھ فولو کرتی ہے۔ تو یہ غوروفکر کی بات ہے کہ یہ اداکارائیں کیا پروموٹ کر رہی ہے یہ بے ہودہ ڈریسز پروموٹ کرنے میں پاکستانی ڈیزائنرز کا بھی ہاتھ ہے۔ فیشن کے نام پہ بے حیائ پھیلائی جارہی ہے۔ انڈین ڈریسز کی کاپی کی جارہی ہے۔ آخر کیا ضرورت پیش آئی کہ
پاکستانی ڈیزائنرز کو انڈین ڈریسز کی کاپی کرنی پڑی۔ اگر ڈیزائنرز نے کاپی کر کے ہی ڈریسز بنانے ہے تو آپ ڈیزائنر کس نام کے۔ پاکستانی ڈیزائنرز کو چاہیے اپنے ملک مذہب اور کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈریسز تیار کریں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.