احساس وسیلہ تعلیم پروگرام غریب بچوں کے لیے تعلیمی وظائف -مفت معلومات

Ehsaas waseela e Taleem program for students

 

احساس وسیلہ تعلیم پروگرام

غریب بچوں کے لیے تعلیمی وظائف

حکومت پاکستان کی طرف سے احساس کفالت پروگرام کے تحت غریبوں کی مدد کا جو سلسلہ شروع کیا گیا اسی احساس پروگرام کے تحت اب غریب بچوں کے لیے تعلیمی سلسلے کو آسان بنانے کے لیے ان کو مدد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کے لیے احساس وسیلہ تعلیم پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔

یوں تو وسیلہ تعلیم پروگرام 2012 میں شروع کیا گیا تھا جو پہلے پانچ ڈسٹرکٹ تک محدود تھا اور پھر 2019

 تک پچاس ڈسٹرکٹ تک چھوٹے پیمانے پر کام کیا جا رہا تھا یہ پروگرام محدود پیمانے اور کاغذی کاروائی جیسے مسائل کا شکار تھا ۔بچوں کو جو وظیفہ دیا جاتا تھا وہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا ۔اس پروگرام کو زیادہ تر این جی اوز چلا رہی تھیں ۔لیکن اب

 وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں احساس پروگرام کے تحت لا کر اسے منظم اور ڈیجیٹل طریقے سے ملک گیر سطح پر کیا جا رہا ہے ۔اور اس پروگرام کو نادرا کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ سارا عمل شفاف طریقے سے اور اہل لوگوں کے لیے ہو

سکے ۔

اس پروگرام کے تحت پرائمری سے لے کر سولہویں جماعت تک کے اہل طلبا و طالبات کے لیے وظائف مقرر کیے گئے ہیں ۔ جو پورے پاکستان کے طلبہ کےلیے ایک بڑی خوشخبری ہے ۔

اس پروگرام کو کچھ مقاصد کے حصول کے لیے شروع کیا جا رہا ہے ۔

وہ لوگ جو احساس کفالت اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مدد لے رہے ہیں ان میں بچوں کی خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کا احساس پیدا کیا جائے ۔

سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔اور ان کی حاضری کو یقینی بنایا جائے ۔

تعلیم کے لئے یکساں مواقع مہیا کئے جائیں اور غربت کا خاتمہ کیا جائے۔

 احساس کفالت پروگرام اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ماہانہ امداد لینے والے افراد کے بچے ان وظائف کے اہل ہوں گے ۔

جن لوگوں کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھ رہے ہیں ان بچوں کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے ۔

سرکاری سکولوں میں ان بچوں کی حاضری 70 فیصد ہونی ضروری ہو گی ۔تبھی وہ ان وظائف کےاہل ہوں سکیں گے ۔

اس پروگرام کے تحت تین درجوں میں وظائف دئیے جائیں گے ۔

پہلا ۔پہلی جماعت سے لے کر پانچویں

تک کے لڑکوں کے لیے 1500 روپے اور لڑکیوں کے لیے 2000 روپے ملیں گے ۔پانچویں جماعت پاس کرنے پر لڑکیوں کو 3000کا بونس بھی ملے گا ۔

دوسرا۔چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک کےلڑکوں کو 2500 روپے اور لڑکیوں کو 3000 روپے دئے جائیں گے ۔

تیسرا ۔بارہویں جماعت کے لڑکوں کو 3500 روپے اور لڑکیوں کو 4000روپے دئے جائیں گے ۔

جو ہر چار ماہ کے بعد دیے جائیں گے۔

احساس وسیلہ تعلیم پروگرام میں بچے کا اندراج کروانے کے لیے درج ذیل چیزوں کی ضرورت ہو گی ۔

تحصیل و ضلع کی سطح پر قائم

احساس دفاتر سے فارم حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔

بچے کا ب فارم ،اور سکول ہیڈ ماسٹر سے تصدیق شدہ داخلہ فارم لازمی ہو گا ۔

ان چیزوں کو احساس سینٹر پر جمع کروائیں گے تو وہاں سے ایک فارم یا رسیدملے گی ۔

اس رسید پر دی گئی ہدایات کے مطابق اسے بچے کے سکول سے پر کروائیں ۔جس میں بچے کا نام ،والدین کا نام ،داخلہ نمبر، سکول کا رجسٹریشن نمبر، بچے کی جماعت اور دیگر کوائف سکول کے ہیڈ ماسٹر سے پر کروائیں ۔

پھر یہ رسید اور اندراج کردہ بچوں کو اسی احساس دفتر لے جائیں ۔جہاں ان کی ڈیجیٹل تصویر بنائی جائے گی اور نادرا کے ذریعے ویریفیکیشن کی جائے گی ۔

یوں بچے کی رجسٹریشن ہو جائے گی اور وظیفہ ملنے لگے گا ۔

جن خاندانوں کا اندراج احساس کفالت پروگرام اور بےنظیر انکم سپورٹ میں ہو چکا ہے ان کی ویری فکیشن آسانی سے ہو جائے گی کیونکہ ان کی رجسٹریشن پہلے ہی ہو چکی ہے ۔

پھر بچے کے متعلق ویریفکیشن کے لیے ماں کا شناختی کارڈ نمبر جیسے ہی دیا جائے گا نادرا سے تمام معلومات

حاصل ہو جائیں گی۔

 احساس صارفین جن کے بچوں کی عمر چار سال سے چودہ سال تک ہے ۔وہ اپنے سات بچوں تک کا اندراج کروا سکتے ہیں ۔

صارفین جب کفالت کی رقم لینے جائیں گے تو بچوں کا وظیفہ بھی ساتھ ہی مل جائے گا۔

بچوں کا اندراج سارا سال ہوتا رہے گا۔

ملک بھر کے تمام سرکاری سکول اس میں شامل ہیں ۔

احساس انڈر گریجویٹ سکالرشپس، فیز 3

اس میں گریجویشن سے ماسٹرز تک کے طلبہ شامل ہوں گے ۔جو ایچ ای

سی کی منظور شدہ یونیورسٹی میں میرٹ پر داخل ہوں گے ۔اس میں چالیس ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک کے سکالرشپس دئے جائیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.