ایک نئی خبر جو  کےآئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی چائے کا کپ پکڑے ہوئے وائرل ہوئی ہے -مفت معلومات

“The tea is fantastic”

حال ہی میں طالبان نے امریکی فوجیوں کو دھول چٹائی ہے۔عرصہ دراز تک طالبان امریکا سے لڑتے

لڑتے بالآخر انہیں افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ تو وہ خبریں ہیں جو گزشتہ کئی دنوں سے گردش میں ہیں۔ ایک نئی خبر جو  کےآئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی چائے کا کپ پکڑے ہوئے وائرل ہوئی ہے۔

اس تصویر کے آتے ہی انڈیا کی چیخیں نکل گی ہیں۔ اگر کسی بھی ملک کا کوئی بھی عہدیدار آتا ہے تو اس سے بات چیت کے دوران اس کی مہمان نوازی کی جاتی ہے۔لیکن جنرل فیض حمید کی آتے ہی اُن کا استقبال کابلی چائے سے کیا گیا۔آخر اس چائے میں ایسا کیا راز پوشیدہ ہے؟ یہ چائے بیرونی طاقتوں کو کیا پیغام دے رہی ہے؟چائے کا کپ پکڑے ہوئی جنرل فیض حمید نے ایک خاص انداز سے تصویر بنوائی ہے ۔ اس تصویر اور چائے کپ میں بھائی چارے کا پیغام پوشیدہ ہے ۔

اس میں پیغام ہے بیرونی طاقتوں کے لئے کے پاکستان اور افغانستان میں پختہ تعلقات قائم ہیں۔ اور پاکستان کبھی بھی افغانستان کو اکیلا نہیں چھوڑ ے گا۔یہی بات انڈیا کو کھٹک رہی ہے۔کیوں کے کابل کی چابیاں اب پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان، رشیا اور چین افغانستان کے ساتھ ہیں۔یہ ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک ہیں جو افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اگر کوئی بھی ملک افغانستان سے راہ و رسم بڑھانا چاہتا ہے تو اُسے اسلام آباد کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ ایک اور اہم بات کہ افغان حکومت کا اعلان ہونے سے پہلے ہی کیوں جنرل فیض حمید نے دورہ کابل کیا؟

اس دورے کی دوران جنرل فیض حمید سے دورے کا کوئی خاص مقصد پوچھا گیا۔ جس کے جواب میں جنرل صاحب نے کہا کہ ابھی تک طالبان کے لیڈرز سے ملاقات کنفرم نہیں ہے ۔دوسری جانب ذمی اللہ مجاہد کے الفاظ کچھ یوں ہیں ” انہوں نے ملاقات کی درخواست کی تھی۔اس لیے وہ یہاں پر آئے ہیں اور ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں مہاجروں کا معاملہ ،سیکیورٹی اور دیگر معاملات پر بات چیت ہو گی۔

زمی اللہ مجاہد کے اور جنرل فیض حمید کے دیے گے بیان میں واضح فرق ہے۔جو اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ آئی ایس آئی کے چیف اور ذمی اللہ مجاہد کی اگلے اٹھائے جانے والے قدم سے ہم سمیت اُن کی مخالفین بھی بے خبر ہیں۔دوسری طرف پنجشیر کے علاقے میں طالبان کو کامیابی پر کامیابی مل رہی ہے ۔ علاقے کا بہت سا حصہ طالبان کے قبضے میں آ چکا ہے۔انٹرنیٹ پر وقتاً فوقتاً طالبان کی ویڈیوز جو وہ ویرائل کرنا چاہتے ہیں کر دیتے ہیں۔

پنجشیر کی علاقے سے کافی سارا اسلحہ طالبان نے پکڑا ہے۔ اب جب کے طالبان کی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے۔اور پاکستان اپنے افغان باڈر پر تعینات فوج کو انڈین باڈر پر تعینات کرے گا ۔ مزید جھنڈے گاڑ ے جائیں گے جو پوری دنیا دیکھے گی۔ اس تمام صورت حال میں اگر کہیں خاموشی ہے تو وہ ترکی ہے۔کیا یہ خاموشی کسی طوفان کا عندیہ ہے؟اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ فلحل تو اس کابلی چائے نے انڈیا کی چھکے چھڑائے ہوئے ہیں۔

چائے تو چاه کی نشانی ہے۔جو جنرل فیض حمید کو پلائی گئی ہے۔ جو چائے انڈیا کو پلائی جائے گی وہ میٹھی تو ہو گی لیکن اس کی جلن وہ اپنی سینوں میں محسوس کریں گے۔ c پیک منصوبے کے ذریعے پاکستان کے ساتھ بُہت سے ممالک کا اتحاد ہو گا جب کے ترقی یافتہ ملک چین پہلے ہی پاکستان کا بہترین دوست ہے ۔مزید افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی خوشگوار ہیں ۔

انڈیا کو اپنی گرد گھیرا تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔جس کے باعث یہ ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔اس کی زندہ مثال نریندر مودی کا امریکا کا دورہ ہے۔تا کے cia کے ساتھ مل کر کوئی راہ نکالی جائے۔اس وقت انڈیا کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ سوائے ہوا میں تیر چھوڑنے کے ۔ پاکستان کل بھی افغانستان کے ساتھ کھڑا تھا۔اور آج بھی کھڑا ہے۔ پاکستان کا کھلم کھلا افغانستان کی حمایت کرنا کئی ممالک کی آنکھوں میں چھبن کا باعث ہے۔اور انڈیا کی آنکھوں میں یہ چھبن واضح نظر آ رہی ہے۔
ازقلم: عائشہ عظیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.