بال گرنے کی چند وجوہات اور ان کا علاج – مفت معلومات

بال گرنے کی چند وجوہات اور ان کا علاج - مفت معلومات

بال گرنے کی چند وجوہات اور ان کا علاج
مرد ہوں یا خواتین جہاں چہرے کے خدوخال اور رنگت ان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے وہیں اگر بال بھی گھنے اور خوبصورت ہوں تو شخصیت اور بھی خوبصورت اور دلکش ہو جاتی ہے ۔کیونکہ اکثر لوگ دیکھنے میں خوبصورت خدوخال تو رکھتے ہیں لیکن بالوں کے معاملے میں کمی رہ جاتی ہے ۔ جس سے شخصیت کا حسن ماند پڑ جاتا ہے ۔
آج کل مرد ہو یا خواتین ہر کوئی بالوں کی کمی یابالوں کے گرنے اور جھڑنے سے پریشان دکھائی دیتا ہے۔

بالوں کی نشوونما میں کمی ،بال گرنے اور جھڑنے میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔
انسانی جسم میں پروٹین ،آئرن ،زنک اور مختلف وٹامن کی کمی بال گرنے کی بڑی وجہ ہے ۔لہذا ایسی غذا کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے جن سے تمام نمکیات اور وٹامن ملیں ۔مثلا گوشت ،مچھلی ،انڈے ،دودھ ،خشک میوہ جات ،پھل اور سبز پتوں والی سبزیاں،
کھارے یا گدلے پانی سے سر دھونے سے بھی بال جھڑنے لگتے ہیں ۔
بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی بہت کمی ہے اس لیے عام استعمال کے لیے ملنے والا پانی

زیادہ تر کھارا ہی ہوتا ہے ۔لیکن جہاں تک ممکن ہو بالوں کو دھونے کے لیے میٹھا پانی استعمال کیا جائے ۔
نیند پوری نہ لینا اور بہت زیادہ ذہنی دباو سے بھی بال گرتے ہیں ۔
دن بھر کے کام اور تھکن کے بعد ایک اچھی نیند جہاں اچھی صحت کی علامت ہے وہیں خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتی ہے اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ 8 سے 9 گھنٹےکی نیند لازمی لی جائے اور بلاوجہ کی ذہنی پریشانی اور دباو سے بچا جائے ۔ہر طرح کے حالات میں حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا جائے۔
ہاضمہ کی خرابی اور کام کی زیادتی

بھی اکثر بالوں کی نشونما پر اثر انداز ہوتی ہے ۔
روزمرہ غذا کے ساتھ پھلوں اور مختلف طرح کے سلاد کا استعمال کیا جائے تاکہ نظام انہضام درست کام کر سکے کیونکہ ہر وقت مرغن غذا کھانا صرف بالوں ہی نہیں صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔
ہارمونز کی بے اعتدالی کے مسائل،خاص طور پر خواتین میں پریگنینسی یا ڈلیوری کے بعد، بھی بالوں کے جھڑنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے اچھی اور مکمل غذا کا استعمال اس بےاعتدالی کو ختم کر سکتا ہے ۔
وراثت میں بھی بالوں کی نشونما میں

کمی اکثر منتقل ہوتی ہے خاص طور پر مردوں میں ہیر لائن پیچھے چلے جانا ۔یا خواتین میں بال باریک ہونا۔ بالوں کا ایک خاص عمر میں جا کر جھڑنا وراثتی طور پر ہوتا ہے اور یہ مردوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔جسے اچھی غذا اور معتدل معمولات زندگی سے بہتر کیا جا سکتا ہے ۔عورتوں میں میں خون کی کمی یا انیمیا کی صورت میں بال جھڑ جاتے ہیں جسے آئرن والی غذائیں یا سپلیمنٹس کی مدد سے پورا کیا جا سکتا ہے ۔
بالوں پر لگائی جانے والی مختلف طرح کی پروڈکٹس اور فیشن کلرز جن میں کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جو بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔

ان سے بچاو کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور قدرتی چیزوں کا استعمال کرنا چاہیے جیسے دہی،انڈے ،ایلوویرہ،مہندی، اور مختلف قدرتی تیل ،
بالوں کے گرنے کی ایک اور وجہ شیمپو کا بہت زیادہ یا ہر روز استعمال ہے ،کیونکہ شیمپو میں بھی کیمیکل کا استعمال ہوتا ہے جو بالوں کو صاف تو کرتا ہے مگر ان کی نشونما کو روک دیتا ہے ،اس لیے ہفتے میں دو یا پھر تین بار ہی سر دھونا چاہیے اس سے زیادہ نہیں ۔
نئے نئے ہیر اسٹائل بنانے اور اس کے لیے مختلف ٹولز ڈرائیر،سٹریٹنر وغیرہ سے بھی بال بہت خراب اور روکھے ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔اس لیے

ان کا استعمال بھی بہت کم کرنا چاہیے ۔
موسموں کی تبدیلی اور نمی بالوں کے مسائل کا باعث بھی ہیں اس لیے بدلتے موسم کے ساتھ بالوں کی دیکھ بھال اور آئلنگ کی جائے۔
پلاسٹک کے کنگھے کا استعمال ترک کر کے لکڑی کا کنگھا استعمال کریں۔
متوازن غذا اور وٹامنز کی کمی کو دور کر کے بالوں کو گرنے سے کافی حد تک بچایا جا سکتا ہے ۔اگر پھر بھی بہت زیادہ بال گر رہے ہوں تومعالج سے باقائدہ رجوع کریں ۔

مرد ہوں یا خواتین جہاں چہرے کے خدوخال اور رنگت ان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے وہیں اگر بال بھی گھنے اور خوبصورت ہوں تو شخصیت اور بھی خوبصورت اور دلکش ہو جاتی ہے ۔کیونکہ اکثر لوگ دیکھنے میں خوبصورت خدوخال تو رکھتے ہیں لیکن بالوں کے معاملے میں کمی رہ جاتی ہے ۔ جس سے شخصیت کا حسن ماند پڑ جاتا ہے ۔
آج کل مرد ہو یا خواتین ہر کوئی بالوں کی کمی یابالوں کے گرنے اور جھڑنے سے پریشان دکھائی دیتا ہے۔

بالوں کی نشوونما میں کمی ،بال گرنے اور جھڑنے میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔
انسانی جسم میں پروٹین ،آئرن ،زنک اور مختلف وٹامن کی کمی بال گرنے کی بڑی وجہ ہے ۔لہذا ایسی غذا کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے جن سے تمام نمکیات اور وٹامن ملیں ۔مثلا گوشت ،مچھلی ،انڈے ،دودھ ،خشک میوہ جات ،پھل اور سبز پتوں والی سبزیاں،
کھارے یا گدلے پانی سے سر دھونے سے بھی بال جھڑنے لگتے ہیں ۔
بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی بہت کمی ہے اس لیے عام استعمال کے لیے ملنے والا پانی

زیادہ تر کھارا ہی ہوتا ہے ۔لیکن جہاں تک ممکن ہو بالوں کو دھونے کے لیے میٹھا پانی استعمال کیا جائے ۔
نیند پوری نہ لینا اور بہت زیادہ ذہنی دباو سے بھی بال گرتے ہیں ۔
دن بھر کے کام اور تھکن کے بعد ایک اچھی نیند جہاں اچھی صحت کی علامت ہے وہیں خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتی ہے اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ 8 سے 9 گھنٹےکی نیند لازمی لی جائے اور بلاوجہ کی ذہنی پریشانی اور دباو سے بچا جائے ۔ہر طرح کے حالات میں حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا جائے۔
ہاضمہ کی خرابی اور کام کی زیادتی

بھی اکثر بالوں کی نشونما پر اثر انداز ہوتی ہے ۔
روزمرہ غذا کے ساتھ پھلوں اور مختلف طرح کے سلاد کا استعمال کیا جائے تاکہ نظام انہضام درست کام کر سکے کیونکہ ہر وقت مرغن غذا کھانا صرف بالوں ہی نہیں صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔
ہارمونز کی بے اعتدالی کے مسائل،خاص طور پر خواتین میں پریگنینسی یا ڈلیوری کے بعد، بھی بالوں کے جھڑنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے اچھی اور مکمل غذا کا استعمال اس بےاعتدالی کو ختم کر سکتا ہے ۔
وراثت میں بھی بالوں کی نشونما میں

کمی اکثر منتقل ہوتی ہے خاص طور پر مردوں میں ہیر لائن پیچھے چلے جانا ۔یا خواتین میں بال باریک ہونا۔ بالوں کا ایک خاص عمر میں جا کر جھڑنا وراثتی طور پر ہوتا ہے اور یہ مردوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔جسے اچھی غذا اور معتدل معمولات زندگی سے بہتر کیا جا سکتا ہے ۔عورتوں میں میں خون کی کمی یا انیمیا کی صورت میں بال جھڑ جاتے ہیں جسے آئرن والی غذائیں یا سپلیمنٹس کی مدد سے پورا کیا جا سکتا ہے ۔
بالوں پر لگائی جانے والی مختلف طرح کی پروڈکٹس اور فیشن کلرز جن میں کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جو بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔

ان سے بچاو کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور قدرتی چیزوں کا استعمال کرنا چاہیے جیسے دہی،انڈے ،ایلوویرہ،مہندی، اور مختلف قدرتی تیل ،
بالوں کے گرنے کی ایک اور وجہ شیمپو کا بہت زیادہ یا ہر روز استعمال ہے ،کیونکہ شیمپو میں بھی کیمیکل کا استعمال ہوتا ہے جو بالوں کو صاف تو کرتا ہے مگر ان کی نشونما کو روک دیتا ہے ،اس لیے ہفتے میں دو یا پھر تین بار ہی سر دھونا چاہیے اس سے زیادہ نہیں ۔
نئے نئے ہیر اسٹائل بنانے اور اس کے لیے مختلف ٹولز ڈرائیر،سٹریٹنر وغیرہ سے بھی بال بہت خراب اور روکھے ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔اس لیے

ان کا استعمال بھی بہت کم کرنا چاہیے ۔
موسموں کی تبدیلی اور نمی بالوں کے مسائل کا باعث بھی ہیں اس لیے بدلتے موسم کے ساتھ بالوں کی دیکھ بھال اور آئلنگ کی جائے۔
پلاسٹک کے کنگھے کا استعمال ترک کر کے لکڑی کا کنگھا استعمال کریں۔
متوازن غذا اور وٹامنز کی کمی کو دور کر کے بالوں کو گرنے سے کافی حد تک بچایا جا سکتا ہے ۔اگر پھر بھی بہت زیادہ بال گر رہے ہوں تومعالج سے باقائدہ رجوع کریں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.