ترکی میں لگی تباہ کن آگ قدرتی آفت یا پھر سازش – مفت معلومات

Fire disaster or conspiracy in Turkey - muft malomat

ترکی میں لگی تباہ کن آگ
قدرتی آفت یا پھر سازش

قدرتی آفات  زلزلے،سیلاب اور آگ کی صورت میں دنیا کی بڑی اور طاقتور قوموں کے لیے ایک کڑی آزمائش ہوتی ہیں ۔

باہمت قومیں ہمیشہ ڈٹ کر اور حوصلہ مندی سے مقابلہ کرتی ہیں کیونکہ ان آفتوں کے اثرات بہت دیر تک اور بہت دور تک برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔

ایسی ہی ایک آفت سے ہفتہ دس دن پہلے ترکی کو نمٹنا پڑا، جب
ترکی میں بڑے پیمانے پرجنگلوں میں  تباہ کن آگ بھڑک اٹھی ۔ترکی کے سترہ صوبوں کے 20 شہروں کے بیک وقت 60 کے

قریب جنگلوں کو آگ نے اپنی لپیٹ  میں لے لیا  جمعرات کو لگنے والی آگ ابتدائی تحقیق پر قدرتی طور پر چار مقامات پر لگی

جو تیز ہوا اور درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے جنوبی علاقوں میں بڑھتی گئی،پورے ملک میں کہرام مچ گیا ایمرجنسی

نافذ کر دی گئی ،ہیلی کاپٹر اور فائر انجن آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے اور تقریبا ابتدائی مرحلے میں 36 جنگلوں میں

لگی آگ پر قابو پالیا گیا اور 17 میں کوشش جاری رہی۔انتالیہ شہر اور اس پاس کے دیہات، اڑانا اور مرسن میں 16 کے قریب

علاقے خالی کروا لیئے گئے آتشزدگی کے باعث متعدد ہوٹلز، گھر اور علاقوں کو خالی کرالیا گیا ترکی حکام کے مطابق

140 کے قریب افراد زخمی اور 3 جاں بحق ہو گئے ۔صدر اردگان کا بیان تھا کہ ہم بغیر جانی نقصان کے جلد آگ پر قابو پا لیں گے

،یہی وجہ ہے کہ بہتر حکمت عملی سے لوگوں کو جلد محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا،

سیاحوں کو جلد نکال لیا گیا۔لیکن ترکی میں اٹھتا ہوا

دھواں اور راکھ کے ڈھیر دل دہلا دیتے ہیں موغلا کا بجلی گھر جل کے راکھ ہو گیا ،زراعت ختم ہو گئی، سیاحت کو نقصان پہنچا، ماریسس

میں صنوبر کے خوبصورت جنگل آ گ کی نظر ہو گئے جن سے شہد حاصل کیا جاتا تھا جو مقامی لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ تھا جو کہ اب ختم ہو گیا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ آگ حادثاتی طور پر لگی ہے جو اکثر جنگلات میں  گرمی کی حدت سے لگ جاتی ہے مگر جنگل تک محدود رہتی ہے

جیسے امریکی ریاست کیلیفورنیا  میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔

لیکن ترکی کے جنگلوں میں لگی آگ شہروں تک کیسے پہنچ گئی۔صدر طیب اردگان کا کہنا ہے

کہ یہ آگ اس بات کا خدشہ ہے کہ جان بوجھ کر لگائی گئی ہو،یہ صرف حادثہ نہیں ہے ترکی پر حملہ ہے کوئی سازش ہے ۔سوال یہ ہے کہ ترکی کا

دشمن کون ہے؟ کیا امریکہ؟جسے ہمیشہ ترکی کی پالیسی سے اختلاف رہا اور ترکی کی ترقی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی،کیونکہ ترکی اسرائیل کے

خلاف بھی ہے اور فرانس کے بھی ، یعنی باقاعدہ کسی نے ترکی پر حملہ کیا ہے تا کہ وہ کمزور ہو جائے گا ۔صدر اردگان کے مطابق اس کے بارے

میں تحقیقات ہوں گی اور جلد پتہ چل جائے گا کہ یہ کش نے کیا ہے کیونکہ کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔

کہیں ترکی کی اس ہولناک تباہی کے پیچھے معاہدہ لوزان  تو نہیں جو 2023ءمیں ختم ہونے جا رہا ہے جس کے مطابق خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے

ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کے تمام اثاثوں کو بانٹ دیا گیا تھا جن میں سے کچھ انگریزوں کے پاس چلے گئے تو کچھ عربوں کے پاس اور پابندی لگا دی گئی

کہ اگلے سو سال تک خلافت عثمانیہ واپس نہیں آ سکتی جو اب 2023 میں پورے ہونے جا رہے ہیں اس کے بعد خلافت عثمانیہ واپس بھی آ سکتی ہے یا

ترک اپنے اثاثے واپس مانگ سکتے ہیں جس سے ترکی اور مضبوط ہو جائے گا، جو کہ دشمن ممالک کبھی بھی نہیں چاہیں گے ۔اگر ترکی کمزور ہوا تو ظاہر ہے

نتیجہ کچھ اور ہو گا تو ممکن ہے یہ آگ ایک ترکی کے خلاف بہت بڑی سازش ہو جو آنے والے وقت میں کھل کر سب کے سامنے آجاے  گی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.