جو کچھ مجھے مل رہا ہے یہ اللہ کا فضل ہے

علامہ شیخ ابن باز سعودیہ میں مفتی اعظم تھے مہمان نواز اور سراپا علم و حلم. آنکھوں سے نابینا تھے

مگر دل کی آنکھیں روشن تھیں. مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر بھی تھے اور مغرب کے بعد مسجد نبوی می درس

بھی دیا کرتے تھے اب ہوتا ہے کہ ان کے حلقے میں طلبہ نسبتاً ذرا کم بیٹھتے ایک دن اس پر ان کے کسی شاگرد

نے تاسف کا اظہار کر دیا کہنے لگا یا شیخ تعجب ہے کہ آپ کا علم و فضل بھی زیادہ ہے اور آپ یونیورسٹی کے

چانسلر بھی ہیں لیکن طلبہ آپ کے حلقہ ارادت کے بجائے البانی صاحب اور شیخ ابو بکر الجزائری کے حلقہ درس

میں بیٹھے ہیں ایک لمحے کی تاخیر اور تامل کے بغیر شیخ نے ہنستے ہوئے فوراًجواب دیا میرے بچے اللہ کا فضل ہے

وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے شیخ کا جو علم تھا وہ بحرِبے کراں تھا مگر حلم و توکل اور اللہ پر شیخ کا راضی ہونا

بھی اس جواب سے کیا خوب کھل کے سامنے آیا دوستو یہ اللہ کا فضل اتنی بڑی اتنی اہم اور قابل ذکر چیز ہے کہ اس کے

بغیر زندگی کی کوئی کل سوچ کا کوئی زاویہ اور آخرت کی کوئی راہ سیدھی نہیں ہوسکتی سوچا جائے تو یہ اللہ کا فضل ہی

ہوتا ہے جو ہم پر نعمتوں کی صورت میں نازل ہوتا ہے اللہ ہمیں ہمارے عمل کے مطابق دیتے ہیں لیکن سوچئے کہ عمل تو

ہمارا ایک کا ہے لیکن مل سو رہا ہے تو اس میں اللہ کا فضل ہی ہے بس بات صرف اتنی سی ہے کہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے

وہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ انسانوں سے پوچھے بنا ہی جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرما دیتا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے

کہ نعمت خواہ وہ مادی ہو یا روحانی اللہ کا فضل ہوتی ہے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے منتخب کرتا ہے

وہ اللہ کے فضل کے سائے میں ہیں جس شخص کو اس بات کی توفیق ملی کہ وہ اپنے جان و مال اور دیگر صلاحیتوں کو دین کی

سر بلندی کے لیے استعمال میں لائے وہ لائق مبارکباد ہے اس شخص کی کامیابی اور نیک نامی سے اگر کوئی شخص حسد کاشکار

ہوتا ہے تو اس کا حسد خود اس کو ہی جلا کر راکھ کردیتا ہے کیونکہ کسی بھی کم ظرف کا حسد کسی بھی صاحب فضل کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا

تحریر عینی زا سید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.