دنیا کرونا کی چوتھی لہر ڈیلٹا کی زد میں ۔مفت معلومات

دنیا کرونا کی چوتھی لہر ڈیلٹا کی زد میں ۔مفت معلومات

“دنیا کرونا کی چوتھی لہر ڈیلٹا کی زد میں”

آزاد ملک میں رہتے ہوۓ بھی آزادی سے سانس کیوں نہیں لے پا رہے ہم لوگ؟؟ کب تک ایس او پیز پر عمل

کرتے کرتے گھٹن کا شکار رہیں گے؟؟؟؟ کب ختم ہو‌ں گے یہ وبا کے دن؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟بھوک افلاس کی جنگ

لڑتے لڑتے فنا کیوں ہو رہے ہیں ہم؟؟؟کرونا کی وجہ سے بڑھتی بے روزگاری کا رونا کب تک روتے رہیں گے

؟؟؟؟اس جیسے اور بہت سے سوالات ہیں جو ہمارے ذہن و دل میں رقصاں ہیں ۔

بقول شاعر

برکھابرسے ہے جیسے چھم چھم چھم

آنکھ برسا کیے ہے کم کم کم

زخم تازہ دیے کرونے نے

پہلے کیا کم تھے یاں پہ رنج و غم

توبہ تائب سے کام بنتا ہے

اس وبا سے نہ لڑ سکیں گے ہم

بھوک افلاس سے جو عاجز ہیں

یہ کرونا نہیں ہے بم سے کم

وہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے

گر کے سجدے میں کر لو آنکھیں نم

کچھ تعلق ہی گر نہ چھوڑا تو

رابطے کے ہی ہیں گماں کم کم

جناب کچھ نشاں نہ چھوڑا گر

بستیاں ڈھونڈتے رہیں گے ہم

   ہم انسان بھی عجب مخلوق ہیں ۔ جب نعمت خداوندی کی بہتات ہو زندگی میں صرف سکون ہی سکون ہو تب ہمیں ایک ہی

معمول سے اکتاہٹ اور بیزاریت ہونے لگتی ہے۔ لیکن جیسے ہی سکون بے سکونی میں بدلے، مصیبتیں آن پڑیں ہم وہیں

گزشتہ اکتاہٹ اور بیزاریت کا ٹیگ لگا چکے وقت کو یاد کر کے سسکیاں بھرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔یونہی ہماری معمول ک

ی زندگی برق رفتاری سے شکوے شکایتوں سمیت رواں دواں تھی کہ اچانک کرونا کی وبا نے ہمیں آن گھیرا۔ایسا گھیرا کہ

یہ وبا وبال جان بن گئی۔ آزادی کو قید میں بدل دیا۔

شروعات میں تو ہماری نصف سے زیادہ عوام یہ فیصلہ کرنے سے ہی قاصر تھی کہ کرونا ہے بھی یا پرینک ہو رہا ہے

۔اردگرد کے ممالک میں کرونا سے ہوئی ہلاکتوں پر اللہ اللہ کرنے پر اکتفا کرتے ہوۓ مفت میں ملی چھٹیوں سے لطف

اندوز ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ۔ مگر جیسے ہی کرونا کا وحشی درندہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے

ساتھ ہمیں اپنے رنگ میں رنگنے لگا، اسی گھبراہٹ اور خوف میں ماسک اور سینیٹائزر سے ہمیں آشنائی حاصل ہوئی۔ لیکن

پھر بھی جوک در جوک اموات کا سلسلہ جاری رہا۔ہم نے احتیاطی تدابیر کو مقصد حیات بنا کر قید میں رہتے ہوۓ پھر سے

زندگی کی گاڑی کو دھکا لگا لیا۔

   مگر افسوس کہ گزرتے لمحات میں کرونا کی وبا میں اک نئی وبا نے جنم لیا اور نئے سرے سے قیدیوں کو مزید قید کا شکار کر دیا ۔

سیرو سیاحت کے جو لمٹڈ ذرائع تھے وہ بھی معطل کر دیے گئے یعنی پرواز بھر نہ سکے پنچھی کہ قید ہو گئے والے مناظر تھے۔

عوام کبھی حکومت کو کوستے تو کبھی کرونا کو، خیر احتیاطی تدابیر کو تھامے ہوۓ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہم محفوظ ہیں ۔

مگر نہ جی یہاں قدرت غافل انسانوں کو سمجھانا چاہتی تھی کہ تمہاری تمام تر تدبیریں معیشت الٰہی کے سامنے کسی کام کی

نہیں۔قدرت کا لکھا اٹل ہے۔فرار ممکن ہی نہیں، لیکن یہاں ضرورت اس امر کی تھی کہ ہم سے کیسے کیسے گناہ سرزد ہوۓ

کہ ہم بھی پر یہ وبا نازل کی گئی۔مگر فہرست لمبی رہی اور فرصت کے لمحات کم میسر آ سکے۔

اب یہاں ہم اگر کرونا کے عام تاثر کا جائزہ لیں تو یہی کہا جاتا ہے کہ کھانا پینا مت چھوڑیں خوب سیر ہو کر کھائیں،

ہر طرح کی یخنیاں، اور قہوے پی لیے جائیں۔گرم غذاؤں کا استعمال ڈٹ کر کریں پسندیدہ چیزیں شکم بھر کرکھائیں

۔پریشانیوں سے دور رہیں ۔مگر سچائی یہ ہے کہ ہر مریض کے تجربات دوسرے مریض سے مختلف ہوتے ہیں

جو سب پر یکساں لاگو نہیں کیے جا سکتے۔بیماری میں کھانے کی طرف خود کو مائل کرنا ہی سب سے بڑی مصیبت ہے۔

بعض لوگوں کو سوپ پیتے ہی الٹیاں آنے لگتی ہیں۔ اس لیے کچھ بھی خود پر جبر کر کے مت کھائیں ۔کرونا کے شکار انسان

کو الم غلم کھانے کی ضرورت نہیں، بلکہ سادہ غذا کا اتنا سا استعمال کرے کے قوت بحال رہے۔اب ایسا بھی نہ کیا جاۓ کہ

کچھ بھی دل کی منشاء کے مطابق کھا لیا جائے، معالج سے مشاورت ضروری ہے ۔

                              (نعمت خداوندی پلز)

  تکلیف سے بچنے کے لیے نشہ آور ادویات کا استعمال ہر گز مت کریں،کہ سو کر بخار کی شدت اور دکھتے جسم سے نجات حاصل ہو سکے۔بلکہ شاکر رہ کر صبر کا دامن تھامتے ہوۓ خود کو اللہ کے حوالے کر دیں ۔یقین کیجئے انجانی سی طاقت وجود کا احاطہ کر لے گی ۔یعنی رونے دھونے اور آہ و بکا سے خود کو دور رکھ کر آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

                           (آکسیجن لیول)

    اس مرض میں مریض کی آکسیجن کے لیول پر نظر رکھنا اہم ترین ہے۔ گھر میں oximeter لازمی رکھیں۔ سانس کا رکنا یا سانس لینے میں دشواری کا پیش آنا، کھانسی کا ہونا ، گلے کی خراش یا درد جیسی ان علامات پر فوری دھیان دیں۔فوراً نمک پانی میں ڈال کر غرارے کریں یاں پھر ڈسپرین کا استعمال کیجئے ۔ان احتیاطی تدابیر کو اپنا کر بھی اگر مریض کی حالت میں بہتری نہ آۓ تو اسے گھر میں رکھنے کی بجاۓ فوراً ہسپتال داخل کروا دیا جاۓ۔

                               (صدقات اور عبادت)

عبادت ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔لیکن مریض کو چاہیے کہ وہ سکونِ قلب کے لیے کلام الٰہی کو ورد زبان کر لے ۔اپنے ہاتھ سے خیرات کریں تاکہ آفتیں ٹل جائیں ۔یقیناً یہ مشکل دور ہے وقت ہمارا رب بڑا رحیم ہے اس کا وعدہ اٹل ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔

اب جب کے کرونا کی یکے بعد دیگرے یلغار سے ڈیلٹا جیسے وائرس نے بھی جنم لے لیا ہے تو ہمیں مزید مشکلات کا سامنا ہے ۔

تو قارئین اس تجزیے کی رو سے مرض سے چھٹکارا چار نکاتی ایجنڈے میں چھپا ہوا ہے۔

    1) اپنے اعتقاد کو مضبوط رکھیں کہ ہر وبا اور آزمائش اللہ ہی کی جانب سے ہے اور وہی اس سے نجات دینے والا ہے۔

 2)گھر میں موجود خیال رکھنے والے مخلص انسان کا میسر آ جانا بھی نعمت خداوندی ہے کہ اس کی ضرورت کے تحت ہر لمحے رہنمائی کرنا مرض سے نجات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

3) دعائیں تقدیر بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔اپنے اردگرد موجود لوگوں سے دعا وصول کرنے والے بنیں تاکہ مصیبتوں کے نزول کے وقت دعائیں ان کا راستہ روک سکیں ۔بیماری کے وقت رب العزت انسان کے زیادہ قریب ہوتا ہے اس لیے دعاؤں کی قبولیت کے چانسز برھ جاتے ہیں ۔اس دوران اپنے اور اپنے سے جڑے ہر عزیز کے لیے دعاگو رہیں۔اللہ پاک تمام عالم اسلام کو اس وبا سے محفوظ فرماۓ۔

4) آخری چیز ہے مضبوط قوتِ ارادی، ذہن نشین کر لیں کہ آپ جتنا زیادہ خود کو مطمئن رکھیں گے اتنی جلدی ہی آپ مرض سے چھٹکارا پا لیں گے ۔اس لیے مایوسی جیسے کفر سے کوسوں دور رہ کر قوت ارادی کا مثبت استعمال جاری رکھیں۔

دعا ہے کہ رب کریم ہم سب کو ہر وبا و بلا سے محفوظ فرمائے اور جلد از جلد کرہ ارض سے اس وبا کا خاتمہ فرما کر اس عفریت سے نجات دے اور ہم سب کی زندگیوں کو پھر سے پرسکون بنا دے

                                    آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.