دنیا کی سات ایسی ایجادات جو انسانیت کو بدل سکتی ہیں مفت معلومات

دنیا کی سات ایسی چیزیں جو انسانیت کو بدل سکتی ہیں

دنیا کی سات چیزیں جو انسانیت کو بدل سکتی ہیں

عنوان:۔ ” ایجادات “

انسان کی پہلی ایجاد پہیہ ہے۔ پہیے کی ایجاد سے لے کر اب تک ایجادات کا سلسلہ رکھا نہیں ہے۔ ہر دن اپنے ساتھ ایجاد ہونے والی چیزوں میں اضافہ کرتا ہے۔انسان نے اپنی عقل اور حسیات کے استعمال سے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں۔ جو اس کے لیے فائدہ مند بھی ہیں اور نقصان دے بھی، لیکن پھر بھی ترقی کا یہ عمل کبھی جمود کا شکار نہیں ہوا۔ ابھی بھی دُنیا کے مختلف خطوں میں لوگ ایسی مزید تحقیقات میں مصروف ہیں جو آنے والے وقت میں متعارف کروائی جائیں گی۔ان میں سب سے پہلے جس چیز کا ہم ذکر کرنے جا رہے ہیں۔وہ ہائبرنیشن (hybernation) ہے۔

                                       (۱)

سائندانوں کے مطابق ہائبرنیشن کے عمل سے انسان کو لمبی نیند دی جائے گی۔ اور اُسے خلائی سفر پر روانہ کیا جائے گا۔ہائبرنیشن کے عمل میں دل کے دھڑکنے کی رفتار،جسم کا درجہ حرارت اور میٹابولزم کا عمل کم ہو جاتا ہے۔ ایسٹر نارڈ پر اپلائی کر کے انہیں کیچولار میں بند کر کے خلا میں بھیجا جائے گا۔ تاکہ ان کا جسم ریڈی ایشن سے بچ سکے۔اور گریویٹی نہ ہونے کے وجہ سے ان کے مسلز اور ہڈیوں پر کوئی برا اثر نہ پڑ ے۔ جب کے ریچھ،کچھوا، مینڈک ،سانپ اور بلی وغیرہ اپنی جسم کو ہائبرنیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اور اپنے جسم میں چربی جمع کر کے لمبے عرصے تک نیند میں چلےجاتے ہیں ۔ ہائبرنیٹ کا عمل شدید گرمی،سردی یا قہت سے بچنے کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں سورہ کہف میں یہ بات پہلے ہی ثابت ہے ۔

                                      (۲)

ہماری زندگی اصل کی بجائے اب مصنوعات پر مبنی ہو چکی ہے ۔ بُہت سی چیزیں مصنوئی آ چکی ہیں ۔ اور ہم ان کا استعمال بڑھ چڑھ کے کرتے ہیں ۔ لیکن ایک حیرت انگیز مصنوئی گوشت جو کے ما اسٹیک یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مار نےایجاد کیا ہے۔ اس گوشت کا رنگ ،ذائقہ، اور خوشبو بلکل اصل گوشت کی مانند ہے۔ اور کھانے میں وہی خوبی رکھتا ہے جو کہ ایک عام گوشت میں ہوتی ہیں۔ اس گوشت میں پروٹین اور وٹامن بھی اسی مقدار میں ہے۔ جتنے عام گوشت میں ہوتے ہیں۔ بُہت جلد اس گوشت کو عام کردیا جائے گا ۔اور یہ بُہت سستا ہو گا۔

                                         (۳)

ہمارے جسم میں نیورانز کا جھال بچھا ہوا ہے ۔ ہمارا جسم ان نیورانز ہی کی مدد سے ٹھیک کام کرتا ہے۔ ان نیورانز کی خرابی دور کرنے کے لیے مصنوئی نیورانز بنائے گئے ہیں۔سلیکون کی چیپ Uk کی یونیورسٹی میں تیار کی گئی ہے۔ یہ بلکل انسانی نیوران کی مانند ہے ۔اس کی مدد سے خراب نیوران کی جگہ مصنوئی نیوران کام سرانجام دے گا۔

                                         (۴)

جب بھی کسی شے کو عروج آتا ہے تو اس کا زوال بھی یقینی ہے۔ لگتا ہے (Wifi) وائی فائی کے عروج کو بھی زوال آنے والا ہے ۔کیوں کہ تحقیق کاروں نے اب ایجاد کر لی ہیں۔ روشنی میں نیٹ سگنل دینے والی ڈیوائسز۔ جو کے ہر لحاظ سے انسان کے لیے سود مند ثابت ہوں گی۔ کیوںکہ ان میں سے وائی فائی کی طرح جسم پر مضر اثرات مرتب کرنے والی ریز نہیں نکلتی ۔ جہاں تک روشنی سفر کرے گئی وہاں تک یہ سگنلز جائیں گے۔

                                        (۵)

زندگی ہوئی اور بھی آسان وہ کچھ ایسے کی کسی بھی صنعت میں کام کرنے والے اور گھنٹوں کھڑے رہنے والوں کے لیے ایک ایگزوسکيليٹن متعارف کروایا گیا ہے ۔اس ورک یونیفارم میں سپرنگ کا استعمال کیا گیا ہے ۔تا کہ با آسانی کام کیا جائے ۔اور کام کے دوران جسم تھکاوٹ کا شکار نہ ہو ۔ اس کی مدد سے زیادہ سے زیادہ وزن کو با آسانی اٹھایا جا سکتا ہے۔ جبکہ کچھ عرصہ قبل اس کا استعمال معذور لوگوں میں ہوتا تھا ۔ایسے لوگ جو پیدائشی طور پر یہ پھر کسی حادثے میں اپنے جسم کے کسی حصے سے محروم ہو جاتے تھے۔

                                         (۶)

سیل ہمارے جسم کا اہم جز ہے ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ سیل ہمارے جسم کی بنیاد ہے ۔ سیلز عام آنکھ سے نظر نہیں آتے ۔ان کو دیکھنے کے لیے مائیکرو سکوپ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اب سائنسدانوں نے ایسے لیوینگ بارٹ بنائے ہیں۔ ان کو انسانی جسم میں داخل کیا جاتا ہے ۔ یہ کینسر اور اکیومر جیسی بیماریوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کا سائز 0.03mml ہے۔ جس کا مطلب یہ آدھے ملی میٹر سے بھی کم ہے۔

                                          (۷)

جہاں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہو رہی ہے ۔تو تعمیرات کا شعبہ بھی کسی سے کم نہیں ۔ تعمیرات کے شعبے میں سب سے پائیدار چیز سیمنٹ اور بجری کے استعمال سی بنائے جانے والی عمارتیں ہیں ۔ سیمنٹ اور ریت کا آمیزہ اپنی پائیدار کا میں بولتا ثبوت ہے ۔لیکن اس میں پڑنے والی دراڑیں ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہیں لیکن اب نیدر لینڈ کی ڈیلف یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہیگ نے کنکریٹ میں ایک ایسا ایجنٹ داخل کیا ہے جس سے یہ کسی بھی عمارت میں دراڑیں نہیں پڑنے دے گا۔ اس ہیلنگ ایجنٹ کی مدد سے تعمیرات کے شعبے میں مزید ترقی ہوگی۔ لیکن ابھی اس کو منظرعام پر لانے کے لیے تین سال درکار ہیں ۔ ابھی اس ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔

از قلم: عائشہ عظیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.