دھاندلی ختم الیکٹرانک ووٹنگ سے – مفت معلومات

الیکٹرانک ووٹنگ  مشین۔ مفت معلومات

دھاندلی ختم          
الیکٹرانک ووٹنگ سے     
کوئی بھی حکومت جب اپنی مدت پوری کر لیتی ہے تو اگلی حکومت کو الیکشن کی ضرورت پڑتی ہے جس میں سیاسی

 

پارٹیاں اپنی تشہیر کر کے عوام کی رائے ووٹ کی صورت میں حاصل کرتی ہیں ۔جیت جانے والے خوشی مناتے ہیں

کہ اقتدار مل گیا اور ہار جانے والے دھاندلی کا رونا روتے ہیں کبھی کسی پر الزام تو کبھی الیکشن کمیشن کو برا بھلا

،کبھی ناقص نظام کا شور ۔ایسے مسائل کے حل کے لیے بہت سے ممالک نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد لی ۔اور الیکٹرانک

ووٹنگ عمل میں  آئی لیکن ہمارے ہاں  چونکہ ہر چیز ہی ذرا دیر سے آتی ہے بلک سمجھ میں دیر سے آتی ہے تو ہمیں اس کی سمجھ بھی اب کہیں آئی ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریبا 30 ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کروائی گئی ہیں جن میں سے 4 ملکوں میں

مکمل طور پر ،11 ممالک میں جزوی طور پر استعمال ہوئی اور 5 ممالک میں آزمائشی طور پر ،بھارت میں

پچھلے دو سے تین انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ہو چکے ہیں ۔
پاکستان میں بھی محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس نے الیکٹرانک ووٹنگ

مشین متعارف کروائی ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ میں بیلٹ پیپر پرنٹ ہو گا جس میں تمام امیدواروں

کے نام درج ہوں گے اور ساتھ میں ان کے انتخابی نشان بھی دئیے ہوں گے اور دوسرا حصہ پریذائڈنگ آفیسر کے پاس ہو گا ۔

ووٹنگ شروع ہونے پر پریذائڈنگ آفیسر ہی اس مشین کو سٹارٹ کرے گا اور اس کو سیل کر دے گا ، پھر ووٹر کسی بھی نشان پر

کلک کرے گا اور اس کا الیکٹرک ووٹ کاسٹ ہو گا ۔ووٹر  پہلے اپنے شناختی کارڈ کی مدد سے اپنی شناخت کروائے گا اس کا نام

اور شناخت نادرا کی طرف سے دی گئی لسٹ میں چیک ہو گا اس کے بعد وہ

ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اندر چلا جائے گا تو پھر پریذائڈنگ آفیسر اس مشین کو الاو

allow کرے گا تو مشین ریڈی کا سائن دے گی اور ووٹر اپنے منتخب امیدوار کو اک کلک کے ذریعے ووٹ کاسٹ کر لے گا اسی وقت مشین

اسے  کاسٹ شدہ ووٹ کی پرچی نکال دے گی جس سے اسے کنفرم ہو جائے گا کہ ووٹ کاسٹ ہو گیا ہے اور وہ اس پرچی

کو بیلٹ باکس میں ڈال دے گا ۔اس مشین سے ووٹ  صرف ایک ہی بار کاسٹ ہو سکتا ہے ووٹر اندر جا کر جتنی بار مرضی بٹن دبا

لے جب تک پریذائڈنگ آفیسر اجازت نہیں دے گا مشین نہیں  چلے گی ۔
ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد پریذائڈنگ آفیسر اس مشین کی سیل  کھول کر  مشین کو بند closeکر دے گا جس کے بعد کوئی ووٹ کاسٹ نہیں  ہو سکے گا ۔
آخر میں اس حلقے

کا رزلٹ بھی چند سیکنڈ میں پرچی کی صورت میں حاصل ہو جائے گا ۔پھر ایک خاص

QR code

کے ذریعےالیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے گا ۔ووٹ کی گنتی بھی ہو گی لیکن یہ فوری رزلٹ کمیشن کو بھیج دیا جائے گا ۔
اس مشین کا اپنا ایک الیکٹرانکس سسٹم ہے جو ووٹنگ کا عمل مکمل کرے گا ۔اس میں ای وی ایم بلیو ٹتھ کا استعمال

نہیں ہے نہ ہی انٹرنیٹ یا وائی فائی کا ،نہ اسے ہیک کیا جا سکتا ہے ۔
ابھی اس کے سیکورٹی کے مسائل کو مزید تسلی بخش بنایا جا رہا ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ مشین کو اپوزیشن کے

سامنے رکھیں گے تا کہ وہ اپنے ٹیکنیکل سے اسے چیک کروائیں ۔روڈ شو میں اسے عام لوگوں سے چیک کروائیں گے

  ،ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیا جائے اور ان کی تسلی کروائی جائے تاکہ یہ دھاندلی کا شور ختم ہو۔
امید ہے یہ مشین پاکستانی الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے میں  مدد دے گی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی ترقی کی طرف ہمارا  یہ قدم قابل قدر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.