ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں نئی گورنمنٹ کے نام کا اعلان کر دیا مفت معلومات

 

طالبان نے پہلی اسلامی حکومت کا اعلان کر دیا ہے ۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کے مطابق

طالبان نے پہلی اسلامی حکومت کا اعلان کر دیا ۔کئی سالوں سے دنیا کے 57 اسلامی ممالک میں

پہلا ملک جس نے خلافت راشدہ کے اصولوں پر اپنی اسلامی حکومت کا اعلان کیا ہے ۔ دیکھا جائے توکسی ملک میں اسلامی نظام قائم نہیں ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے ایسے طاقتور اور تگڑے لوگ آے ہیں کہ جن کے سر کی قیمت امریکہ نے لاکھوں کروڑوں اور اربوں ڈالر رکھی تھی ۔ جو جو لوگ امریکہ کو وانٹیڈ تھے

طالبان نے ان تمام لوگوں کو حکومت میں نامزد کر دیا ہے ۔یہ اللہ کی قدرت ہے کہ امریکہ نے جو پابندیاں ان لوگوں پر لگائی تھیں اب خود وہ سب ختم کرے گا۔ان کو دہشتگردی کی فہرستوں میں ڈالا مگر اب ان سب کو امریکہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر تسلیم کرے گا ۔

یعنی طالبان ایسے تگڑے لوگوں کو لا رہا ہے جو اسلامی نظام قائم کریں گے جمہوری نظام کی طرح نہیں جس میں ہر چور اچکا فراڈیا بھی شامل ہو جائے حکومت میں ۔ان لوگوں کی تفصیل یہ ہے

سب سے پہلے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ،یہ افغان طالبان کے امیر ہوں گے ۔یہ بہت کم میڈیا پر آتے ہیں یہ وہ

امیر ہیں جو اصل میں ملا عمر کی جگہ آتے ہیں خلافت راشدہ کے ماڈل کے مطابق امیر کے پاس جو اتھارٹی ہوتی ہے وہ فائنل اتھارٹی ان کے پاس ہو گی ۔ہر طرح کے سیاسی، ثقافتی ،فوجی معاملات ،جو تجاویز آئیں گی جو کام کرنے ہوں گے

جو دستاویزات بھی تیار ہوں گی وہ سب ان کی اجازت اور منظوری سے ہوں گی ۔یعنی ہیڈ آف اسٹیٹ یہ ہوں گے ۔ملا عمر کےقریبی ساتھی رہے ہیں ۔ساٹھ سال ان کی عمر ہے ۔

امریکہ میں انہیں اشتہاری

most wanted قرار دے کر لاکھوں ڈالر ان کی قیمت بھی رکھی گئی تھی ۔

کوئٹہ شوری کے ہیڈ بھی رہے ہیں ۔شریعہ کورٹ میں بیس سال انھوں نے کام کیا ہے ۔یعنی کونسا قانون بنانا ہے کونسا اسلامی ہے یا نہیں ہے ان کو بیس سال کا اس میں تجربہ ہے ۔

یہ کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے قرآن اور حدیث کو سامنے رکھتے ہیں کہ آیا قرآن کیا کہتا ہے اور حدیث میں کیا ہے ۔اور پھر صحابہ اکرام نے کیا کہا ہے ۔یعنی یہ ایسے فیصلے کرنے والے امیر ہوں گے ۔

دوسرے نمبر ہیں ملا محمد حسن اخونزادہ،جو ایک طرح سے ان کے وزیراعظم ہوں گے ۔انھوں نے طالبان کی جو رہبر شوری کونسل ہے اس کی بیس سال قیادت کی ۔افغان طالبان

کی پہلے جو حکومت تھی اس میں یہ منسٹر بھی رہ چکے ہیں ۔ملٹری کمانڈر بھی ہیں مذہبی لحاظ سے کافی مضبوط ہیں ایک طرح سے سپرچوئل لیڈر بھی کہہ سکتے ہیں ۔امیر کے رائٹ ہینڈ ہوں گے ۔قندھار سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے تحریک طالبان کو آگے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

اس کے بعد ملا عبدالغنی برادرز آتے ہیں جنھیں پاکستان میں قید میں رکھا گیا ۔2010 میں انہیں سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے آپریشن میں پکڑ کے قید کیا تھا اور بعد میں عزت کے ساتھ رہا کر دیا تھا ۔طالبان کے جتنے بھی معاہدے ہوئے تھے وہ انھوں نے کیے تھے بہت منجھے ہوئے ہیں ان

کو ڈپٹی پرائم منسٹر کے عہدے پر رکھا گیا ہے۔

ایک اور اہم ترین شخص ملا یعقوب ہیں جو ملا عمر کے بڑے بیٹے ہیں ۔بہت جرآت مند اور ذہین ہیں طالبان کی جتنی بھی فورس تھی اور ان کی افغانستان کے34 صوبوں کو

فتح کرنے میں جتنی بھی طالبان نے مومنٹ کی جو ملٹری اور فوج تھی اس کے ہیڈ رہے ہیں ۔یہ آرمی چیف ،وزیردفاع اور ملٹری ہیڈ ہوں گے کیونکہ یہ کمال مہارت سے قیادت کرتے ہیں ۔

اگلی اہم شخصیت سراج الدین حقانی کی ہےجو اس وقت وزیر داخلہ ہوں

گے ان پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے یہ اصل میں جلال الدین حقانی جنھوں نے اسپیشل بدری فورس تیار کی تھی ان کے بھائی ہیں امریکہ کے منہ پر یہ ایک تھپڑ ہے کہ جسے وہ پکڑنا چاہتے ہیں وہی ملکی سیکیورٹی پر مامور ہے

کیونکہ وزیر داخلہ کا کام ہی ملک کی انٹرنل سیکیورٹی کو دیکھنا ہے ۔بدری کمانڈوز بنانے میں اپنے بھائی کے ساتھ ان کا بہت ہاتھ ہے ۔ان کے بھتیجے انس حقانی جنھیں بگرام جیل میں بھی رکھا گیا تھا بہت زبردست شاعر بھی ہیں اور طالبان کے ایک اہم رکن بھی ہیں ۔

ملا امیر خان متقی کو وزیر خارجہ

بنایا گیا ہے جو افغانستان کے صوبے ہلمند سے تعلق رکھتے ہیں یہ مولوی محمد بنی محمدی کی جماعت کا حصہ رہے ہیں اس کے بعد جب طالبان کی تحریک آئی تو انھوں نے ملا عمر کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔

میڈیا کے معاملات اور پروپیگینڈا کو انکاونٹر کرنے میں بہت مہارت رکھتے ہیں جس طرح چائنا اور ایران کے وزیر خارجہ بہت مضبوط دفاع کرنے والے ہیں یہ بھی بہترین رزلٹ دیں گے کہ ہم ہیں کون ۔امریکہ نے ان کو بھی بین کیا ہوا ہے اور سفر نہیں کر سکتے لیکن اب اتنے بڑے عہدے پر ہیں کہ دنیا کا سفر کریں گے ۔

ملا عبدالحق کو انٹیلیجنس ادارے کا

چیف بنایا گیا ہے جتنے بھی انٹیلیجنس آپریشن ہوتے ہیں اس میں ان کا ہاتھ ہے یہ سی آئی اے۔اسرائیل انڈیا سب کو ڈچ کر چکے ہیں اب یہ بتائیں گے کہ خفیہ ایجنسیاں کہتے کسے ہیں ۔

ایسے اور بہت سے لوگ ہیں جن پر پابندیاں ہیں ۔قیمتیں رکھی گئی ہیں ۔

اہم بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے حکومت چلانی ہے اور قیادت کرنی ہے ان میں اتحاد ہے ۔یہی لوگ اب بتائیں گے کہ حکومت کہتے کس کو ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.