رئیل اسٹیٹ بزنس سے ایک کروڑ روپیہ سال میں کمائیں – مفت معلومات

realstate business earn money - muft malomat

رئیل اسٹیٹ بزنس کیسے کیا جائے
بغیر انویسمنٹ کے ایک کروڑ سال میں کمائیں
اکثر لوگ رئیل اسٹیٹ بزنس کے حوالے سے معلومات نہیں رکھتے یا اس کے پراسیس سے واقف نہیں ہوتے ۔جس کی وجہ سے وہ

اس کی طرف نہیں آتے ۔
سب سے پہلے تو یہ کہ اس پر صرف سوچتے نہیں رہنا کوشش بھی کرنی ہے ۔اور ہمت نہیں ہارنی ۔کچھ لوگ کوشش تو کرتے ہیں لیکن ہمت ہار دیتے ہیں کہ حاصل کچھ نہیں ہو رہا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا

میں ہر کاروبار میں مشکلات بھی ہوتی ہیں اور اس کے ٹپس اینڈ ٹرکس سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔اسی طرح اگر اس کام کو بھی ہمت اور مستقل مزاجی سے کیا جائے تو سال بھر میں ایک کروڑ یا اس سے بھی زیادہ کما سکتے ہیں ۔اس کے لیےکچھ چیزیں مدنظر رکھنا ہیں ۔
ڈیل کی کچھ قسمیں ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔جس کو کمیشن کی % کے حوالے سے دیکھ سکتے ہیں ۔
سب سے پہلےایک فیصدکمیشن ڈیل ہے۔
کہ آپ کے پاس خریدار ہو گا یا بیچنے والا ،لہذا آپ کو ایک پارٹی کی ڈیل دوسرے سے کروانی ہوتی ہے ۔جو کسی دوسرے پراپرٹی ڈیلر کے پاس

پارٹی ہوتی ہے اگر دونوں کی ڈیل ہو جاتی ہے تو یوں ایک طرف کا کمیشن آپ لیں گے اور دوسری طرف دوسرا ڈیلر لے گا ۔یہ ہو گی ایک فیصد کمیشن ڈیل۔
دو فیصد کمیشن میں خریدنے والا اور بیچنے والا دونوں آپ کے پاس ہیں تو اگر آپ دونوں کی ڈیل کروا دیتے ہیں تو دونوں طرف سےکمیشن آپ کا ہو گا۔یعنی ایک فیصد خریدنے والا اور ایک فیصد بیچنے والا کمیشن دے گا یوں آپ کو دو فیصد کمیشن ملے گا ۔
اس کے بعد ہے پانچ فیصد کمیشن ڈیل ،یہ ان پراجیکٹس پر ملتی ہے جو مارکیٹ میں نئے آرہے ہیں یا نئے

ڈویلپرز دے رہے ہیں وہ پانچ فیصد تک کمیشن دے دیتے ہیں ایک پلاٹ اگر ایک کروڑ کا ہے تو اس پرپانچ لاکھ کمیشن مل جائے گا ۔

متفرق کمیشن ڈیل میں کوئی طے شدہ کمیشن نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی طرح اپنا اچھا کمیشن نکال لیتے ہیں مثلا ایک شخص نے اپنی پراپرٹی ایک کروڑ کی بیچنی ہے اور ایک اور شخص اس پراپرٹی کو ایک کروڑ پانچ لاکھ میں خریدنے کو تیار ہے تو آپ ان دنوں کو بتائے بغیر ڈیل کروا کر پانچ لاکھ کمیشن رکھ سکتے ہیں ۔
اپنا حساب کتاب دیکھنا ہے ۔
اپنی آسانی کے لیے مختلف طرح کے پراپرٹی کے خاکے بنا سکتے ہیں ۔اول

یہ کہ ایک ہی طرح کی پراپرٹی کی خریدوفروخت کا کام کرنا ہے ۔کسی ایک رئیل اسٹیٹ کے ساتھ کام کرنا ہے ،ایک طرف بائر اور سیلر رکھنے ہیں اور دوسری طرف کے ساتھ ڈیل کروانی ہے ۔
دوسرا یہ طریقہ کہ ہر طرح کی ڈیل کی جائے ایک فیصد ۔دو فیصد پانچ فیصد سبھی، اور اپنا کمیشن رکھتے جائیں ۔اس کے بعد آپ حساب دیکھیں تو آسانی سے ان تمام طریقوں کے ذریعے آٹھ لاکھ تک ماہانہ کما سکتے ہیں ۔اگر سارے طریقے استعمال کرنے کے بعد لگتا ہے کہ ٹارگٹ مکمل نہیں ہو سکا مارکیٹ میں مندی یا تیزی کی وجہ سے تو بھی بہت اچھا کما لیتے

ہیں ۔
اگر صرف بااعتماد یا نئے ڈویلپرز کو ہی ٹارگٹ کرتے ہیں اور بیس کروڑ تک کی سیل کروا دیتے ہیں تو بھی ایک کروڑ کما سکتے ۔اگر ایک فیصد والی ڈیل کرتے ہیں تو اس میں سو کڑور کی سیل کروانی پڑے گی پھر کہیں جا کے ایک کروڑ کما سکتے۔
فرض کریں اگر ساٹھ کروڑ کی سیل کروانی اور 2 کروڑ کے حساب کروانی تو تیس ڈیل ہوں گی ۔اگر دس کے حساب سے کروانی تو چھ ڈیل ہوں گی ۔یعنی مارکیٹ اور پرائز کو دیکھتے ہوئے اپنے حساب سے ڈیل کریں ۔تاکہ ایک کروڑ کا ٹارگٹ حاصل ہو سکے۔

مارکیٹ کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھی آسانی سے ٹارگٹ کر سکتے ہیں ۔جس میں واٹس اپ، ٹوئٹر، فیس بک،انسٹاگرام ۔یو ٹیوب کے ذریعے۔اس میں اگر آپ سو لوگوں سے رابطہ رکھتے تو دو فیصد سے ڈیل ہو گی ۔
دوسرا طریقہ ڈائریکٹ میل جول ہے ڈیلرز سے ،ڈویلپرز سے کسٹمرز سے ۔اور ریئل اسٹیٹ سے ۔اس میں مارجن پانچ فیصد ہو گا
ایسا صرف رابطہ کرنے سے نہیں ہو گا بلکہ اس سے مراد ہے کہ میٹنگ کی جائے ملا جائے ۔تا کہ اگر کسی نے کچھ پوچھنا ہے تو اس کے سوالوں کے جواب دئیے جائیں ۔اس طرح کسٹمر

تلاش کیے جا سکتے ہیں تاکہ ٹارگٹ تک پہنچ سکیں ۔ تین سو روابط سوشل میڈیا پر اور ساڑے سات سو سے خود مل کر۔ یوں سمجھ لیں سال بھر میں ایک ہزار پچاس یعنی 350 دن کام کرنا ہے توروزانہ تین لوگوں کو ملنا ہے اور ڈیل کرنی ہے۔اس کے علاوہ بھی لوگوں سے ملتے رہنا ہے ۔سوشل میڈیا پر بھی اپنی پوسٹ کرتے رہنا ہے ۔
اگر آپ روزانہ تیں سے زیادہ لوگوں کو ملتے ہیں تو اسی حساب سے ٹارگٹ حاصل ہو گا ۔لیکن یہ سب بہت ایکٹو یا چاک و چوبند ہو کر کرنا ہو گا سستی سے نہیں ۔لوگوں سے ملتے ہوئے وقت ضائع نہیں کرنا نہ طویل گفتگو

کرنی کہ کام کی بات ہو ہی نہ پائے ۔
کسٹمر کے لیے موئثر ڈیل نکالنا
اپنے کسٹمر کے لیے اچھی ڈیل نکالنی آنی چاہیے تاکہ وہ کسٹمر کے لیے بہترین ہو اور وہ اسے لینے پر رضامند ہو جائے۔اور آپ اپنا کمیشن بھی رکھ لیں تو پھر بیس کروڑ کی سیل کروانا بھی مشکل نہیں ہو گا۔
پراپرٹی پورٹل یا ویب سائیٹ پر پرانی پراپرٹی یا چیزیں ڈھونڈیں ۔کیونکہ بعض اوقات ایسی چیزیں نکل آتی ہیں جو بکی نہیں ہوتی ۔یا مناسب قیمت نہیں مل رہی ہوتی ان کو مارکیٹ کی تیزی اور مندی کی وجہ سے کوئی نہیں خرید رہا ہوتا مگر آپ ان کی بہتر ڈیل کروا کر دونوں طرف

سے کمیشن لے سکتے ہیں ۔
ایک اور طریقہ زیر تعمیر گھر کو پہلے سیل کروائیں ۔
جو گھر بن رہے ہوتے ہیں تو وہاں جائیں اور معلوم کریں رہائش خود رکھنی ہے کرایہ پر دینا ہے یا پھر بیچنا ہے
لہذا گھر کے مالک یا ڈویلپر سے اچھا میل جول بڑھائیں ۔اور اگر وہ بیچنا چاہئیں تو آپ اس معاملے میں اپنی خدمات پیش کریں پھر آپ اس کی سی ڈی بنائیں ۔وڈیو بنائیں اور جب گھر مکمل ہو جائے تو کسٹمرز کو دکھائیں ۔کیونکہ گھر تو بننا ہی ہے تو آپ کیوں نہ پہلے ڈیل کر لیں تاکہ

دونوں طرف سے کمیشن لے سکیں ۔
سوشل میڈیا پر اپنا اکاونٹ ضرور بنائیں ۔کیونکہ اکثر ڈیلرز نے اپنے اکاونٹ بنائے ہوتے ہیں ۔اور میں اپنے بااعتماد کسٹمرز کو ایڈ بھی کیا ہوتا ہے ۔اسی طرح کچھ نئی چیز ہو ان کے پاس بکنے کو تو اس کو بھی وہ پوسٹ کر دیتے ہیں اس طرح بھی بہت سے کلائینٹ مل جاتے ہیں ۔
طریقہ کوئی بھی ازمائیں مگر مستقل مزاجی سے کرنا ہو گا ۔ابتدا میں کچھ وقت لگے گا سب سمجھنے میں ۔لیکن بعد میں جب کام آگیا کرنا تو کوئی مشکل نہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.