رحمت العالمین اتھارٹی کا قیام، بڑے اعلانات ،زندگی بدلنے کا وقت

رحمت العالمین اتھارٹی کا قیام، بڑے اعلانات ،زندگی بدلنے کا وقت   

کوئی بھی عمارت جب کھڑی کی جاتی ہے تو سب سے پہلے اس کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں بنیاد مضبوط ہو تو عمارت بھی تا دیر قائم رہتی ہے اور اگر بنیاد ہی کھوکھلی ہو تو عمارت جلد زمیں بوس ہو جاتی ہے ۔

ہم بھی جب تک اپنی جڑوں کو ٹھیک نہیں کریں گے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا ۔ہم زندگی میں بھاگ دوڈ کر رہے ہیں کبھی نظام بدل رہے ہیں کبھی کچھ کر رہے ہیں کبھی ٹیکس لگا رہے ہیں مگر سارا کچھ کرنے کے بعد نتیجہ 

کچھ نہیں نکل رہا ۔یہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بھی یہی ہو رہا ہے اور اگر کہیں نہیں ہو رہا تو اس کی کچھ وجوہات بھی ہیں اور اب انہوں نے اس چیز پر کام کرنا شروع کر دیا ہے جو اصل چیز ہے جو جڑ ہے ۔

وزیراعظم عمران خان رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اور اس میں انہوں نے کچھ اعلانات بھی کیے جو ہم سب کو تبدیل کر سکتے ہیں اور پاکستان کی قسمت بھی بدل سکتے ہیں ۔یہی وہ چیزیں ہیں جو ہماری آنے والی نسل کو رہنمائی دے کر ہم سے بہتر بنا سکتی ہیں جو ہمارے مستقبل کو روشن کر سکتی ہیں اور 

پاکستان کو صف اول میں لا کھڑا کر سکتی ہیں اور ان کی بنیاد ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ میں ،کہ کسطرح آپ صلی آللہ علیہ وسلم نے زندگیاں بدل دیں ۔اسی پر وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس میں بات کی ۔

ایک امریکی مصنف پیٹرک جے بکینن نے ایک کتاب لکھی ڈیتھ آف دی ویسٹ  یعنی مغرب کی موت ،یوں تو مغرب میں بہت سی کتابیں لکھی جاتی رہتی ہیں مگر اس کتاب کو سب سے خطرناک قرار دیا جاتا ہے اس کتاب کا مصنف ایک مشہور سیاستدان ،مفکر،اور تین امریکی 

صدور کا مشیر بھی رہا ۔درجنوں کتابوں کا مصنف اور مشہور اخبارات میں کالم نگار بھی ہے ۔دنیا کے تمام اہل ذوق لوگ جو دنیا کی تباہی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ان کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔مصنف نے بہت ایمانداری کے ساتھ اس کتاب میں بتایا ہے کہ مغرب پر دو موتیں منڈلا رہی ہیں 

پہلی اخلاقی موت۔   جو اخلاقی زوال کی وجہ سے ہے اور جس کا مغرب شکار ہے خاندانی نظام، اخلاقی اقدار ،روایتی تعلیم جو سب ختم ہو رہا ہے ۔مصنف کے مطابق یہ آنے والی موت ایک وبا اور بیماری کی مانند خطرناک ہے جو پھیل رہی ہے ۔جس کو 

بنانے والے ہم خود ہیں جب یہ ہم تک پہنچے گی تو  اس کی وجہ بھی ہم خود ہی ہوں گے کوئی بیرونی طاقت نہیں ۔یہ موت یورپ چودھویں صدی میں آنے والی ایک وبا بلیک ڈیتھ کی مانند ہو گی ۔جس نے دنیا کی 33 فیصد آبادی کو ہلاک کر دیا تھا ۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق اب یورپ میں بچوں کی پیدائش میں کمی آئی ہے اور لوگوں کی  اموات میں اضافہ ہوا ہے ۔یوں آبادی کم ہوتی جائےگی ۔

مردم شماری2000کے مطابق یورپ کی آبادی سات سو اٹھایس ملین ہے وہ کم ہو کر اس صدی کے اختتام تک ایک تہائی رہ جائے گی ۔

دوسری طرف  تیسری دنیااور  مسلمان 

ممالک کی آبادی میں 80 ملین کے قریب اضافہ ہو رہا ہے۔ جو 2050 تک چار ارب تک پہنچ جائے گی یوں مغرب کا ڈرونا خواب حقیقت بن جائے گا وہ کمزور ہو کر موثر نہیں رہیں گے ۔اور تیسری دنیا کی آبادی بھی بڑھ جائے گی اور موثر بھی ہوں گے ۔مصنف نے یہ بھی لکھا ہے کہ پریشان کن سوال یہ ہےکہ یورپ کی خواتین اور قوم نے بچے کیوں کم پیدا کرنے شروع کر دیئے ہیں۔اس کے نزدیک اس سوال کا جواب مغرب میں نئی ثقافت کے نتائج  اور اخلاقیات کی موت ہے جو مغرب پر اپنا اثر چھوڑ رہی ہے اور یہ ان کی حیاتیاتی موت ہے جو بہت 

خطرناک ہے کہ نوجوان خودکشیاں کر رہے ہیں ۔نئی قسم کی ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں صرف امریکہ میں ہی 1960کے بعد سےنوجوان نسل میں خودکشی کی شرح تین گنا بڑھ گئی ہے۔ساٹھ ستر لاکھ سے زائد امریکی منشیات کے استعمال میں حد سے زیادہ مبتلا ہیں اسی طرح خاندانی نظام میں کمی آئی ہے شادی کے خواہش مند مردوں یا عورتوں میں کمی آ رہی ہے وہ اپنی جسمانی خواہش تو پوری کرنا چاہتے ہیں مگر بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے،شادی کر کے ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتے،ہم جنس پرستی بھی عام ہو چکی ہے۔ہیلری کلنٹن پہلی خاتون 

تھی کہ جس نے ہم جنس پرستی کی حمایت کی۔ان تمام چیزوں سے مغرب کا خاندانی نظام بلکل ختم ہو کے رہ گیا ہے ۔اور مصنف نے ایک زوال پذیر تہذیب کے اعدادوشمار بتائے ہیں جو مر رہے ہیں اور مرتے ہی جائیں گے اوران سے کبھی آزاد بھی نہیں ہوں گے ۔آخر میں اس نے لکھا کہ نیکی سے بڑھ کر کوئی آزادی نہیں اور ایمان سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں ہے۔مذہب کوئی بھی ہو برے کاموں کی تعلیم نہیں دیتا ۔تمام انبیا ایک ہی رب کی تعلیمات کا درس دیتے رہے چاہے موسی ہو یا عیسی، سب نے ایک ہی خدا کی  تعلیمات دیں مگر وہ لوگ  انکار کرتے رہے اور تباہ ہوئے ۔اب 

مسلمان بھی یہی کر رہے ہیں ۔جس پر وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے خطاب کیا ۔اور ایسے نقاط بتائے ہیں کہ ہم بھی تباہی کی طرف کیوں جا رہے ہیں اور اس کی وجوہات کیا ہیں انہوں نے بتایا کہ علامہ اقبال نے بھی یہ کہا تھا کہ مسلمان جب بھی کبھی اوپر اٹھتا ہے اور ترقی پاتا ہے تو وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں کے قریب ہو جاتا ہے ۔اور جب وہ اصولوں سے دور ہوتا ہے تو برباد اور گراوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔اس کے علاوہ اس خطاب میں فحاشی کے خلاف بات کی ہے ، پردے اور خاندانی نظام پر بات کی ہے کہ اپنے خاندانی نظام کو مضبوط کریں 

اور ثقافت کو بہتر کریں اور اپنے مذہبی عقائد کو جان کر ان کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں ۔اور آسانی پیدا کریں ۔اب ان باتوں کے بعد ان پر مخالفین تنقید کریں گے کہ خود ساری زندگی عیاشی سے گزار کر اب ہمیں سبق دے رہا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ جب چاہے اور جسے چاہے ہدایت دے دے یہ اس کی مرضی ہے ۔وہ سب خو موقعہ دیتا ہے مگر سب انسان اس کو نہیں سمجھتے ۔

وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے ایک دحمت اللعالمین اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور حالات پر 

باقاعدہ تحقیق کی جائے گی تاکہ مذہب کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو مدلل جواب دیئے جائیں گے چاہے وہ اسلام و فوبیا ہو یا گستاخی کرنے والے، 

اس میں لوگوں کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے واقفیت دلائی جائے گی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب عاشق رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور حرمت کی خاطر مرنے کے لیے تیار ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیمات دی ہیں کیا ان کے مطابق ہم جینے کے لیے تیار ہیں۔کیونکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات و واقعات کو پڑھتے نہیں ہیں 

اس کے لیے یہ اتھارٹی بنائی جا رہی ہے جو اس پر کام کرے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات و واقعات بتانے کا کام کرے گی تا کہ لوگوں کی زندگیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے قریب لایا جائے۔اس اتھارٹی کے بہت سے شعبے اور پہلوہوں گے جس میں مختلف اسکالرز کام کریں گے جو مختلف زبانیں جانتے ہوں گے۔پڑھے لکھے اہل علم اور مصنفین ہوں گے ایک مکمل سیٹ اپ ہو گا قومی سطح پر بھی اور بین الاقوامی بھی جو اس کی نگرانی کرے گا ۔ان کا کام یہ دیکھنا ہو گا کہ 625ء سے 640 ءکے دوران دنیا میں کیا ہو رہا تھا کس 

طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا کیسے اتنے لوگ ان حالات میں نکل کر سامنے آئے کہ جنہوں نے دنیا میں ایک نئی سپر پاور قائم کر دی ۔ دنیا کے اصول اور قاعدے بدل کر رکھ دیئے مشکلات کو کم کیا اور دنیا کی طاقت ور قوم بن کر سامنے آئے ۔ان سب پر تحقیق کی جائے گی ۔

بین الاقوامی سطح پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ،گستاخی کے واقعات ،اسلام و فوبیا کے تمام جوابات یہ اتھارٹی تحقیق اور دلائل کے ساتھ دے گی۔کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے ۔

تعلیمی نصاب میں بھی اس حوالے سے 

تبدیلیاں کی جائیں گی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے  بہتر طریقہ کار کے لیے لوگوں کی رہنمائی کی جائے گی ۔اسی طرح یونیورسٹیوں میں ریسرچ کروائی جائے گی کہ اسلام کیسے آگے بڑھا اور ترقی کی ہم کش طرح ان اصولوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنا کر ترقی کر سکتے ہیں اس میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی ۔خاندانی نظام پر ریسرچ کروائی جائے گی کہ طلاق کی شرح کیوں زیادہ ہے بچے کیوں گھر چھوڑ رہے ہیں منشیات کی طرف کیوں لوگ جا رہے ہیں یہ اور ایسے بہت سے مسائل پر ریسرچ کی جائے گی تا کہ حقائق لوگوں کو بتائے 

جائیں ۔

اس میں ایک اسپیشل پراجیکٹس کا اسکالر بھی ہو گا ۔اولیا،صوفیا اور بزرگان دین کی زندگیوں پر تحقیق کر کے لوگوں کو ان سے آگاہ کیا جائے گا تا کہ رہنمائی ملے ۔

اس بار ربیع الاول کا مہینہ دھوم دھام سے منایا جائے گا اس حوالے سے سرکاری سطح پر تقاریب کی سرپرستی کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.