سانپوں کا جزیرہ جہاں انسانوں کو جانے کی اجازت نہیں مفت معلومات

سانپوں کا جزیرہ جہاں انسانوں کو جانے کی اجازت نہیں

سانپوں کا ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں کسی بھی انسان کو جانے کی اجازت نہیں ،اور ایسا کرنا انتظامیہ کا درست فیصلہ ہے کیونکہ اس جزیرے پر فی مربع فٹ ایک سانپ پایا جاتا ہے
برازیل سے33 کلومیٹر دور اس جزیرے پر کوئی بھی شخص پیدل سفر کرنے کی جرآت نہیں کر سکتا ۔
آخری شخص جو غلطی سے اس جزیرے پر جا نکلا وہ کچھ دن بعد اپنی کشتی میں بے جان ملا۔ اس جزیرے کوسانپوں کا جزیرہ کہا جاتا

ہے
یہ جزیرہ کبھی برازیل کی زمین سے جڑا ہوتا تھا لیکن دس ہزار سال پہلے جب سطح سمندر میں اضافہ ہوا تو اس نے اس حصے کو زمین سے الگ کر کے جزیرہ میں تبدیل کر دیا ۔اب یہ غیر آباد ہی رہتا ہے ۔برازیل حکومت نے یہاں کسی کا بھی داخلہ ممنوع قرار دیے رکھا ہے ۔
آخری انسان جو وہاں رہا وہ 1920 کی دہائی کے آخر میں وہاں پر لائٹ ہاوس کیپر تھا ۔جو کشتیوں کو راستہ دکھانے والے وائٹ ہاوس کی دیکھ بھال کے لیے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا ۔ایک دن سانپوں نے کھڑکیوں سے داخل ہو کر اسے اور اس کے بیوی

بچوں کو ہلاک کر دیا ۔اب وہاں مستقل رہائش کسی بھی نہیں ہے ۔لیکن بحریہ وقتا فوقتا اس کی دیکھ بھال کے لیے وائٹ ہاوس کادورہ کرتی ہےاور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی ایڈوینچرر اس جزیرے کے قریب اپنی قسمت تو نہیں آزما رہا ۔حکومت کی طرف سے صرف دو طرح کے لوگوں کو جانے کی اجازت ہے ۔ایک نیوی کو جو وہاں جا کر لائٹ ہاوس کی دیکھ بھال اورمرمت کرتی ہے اور دوسرے ریسرچرز کو جو وہاں سانپوں پر تحقیق کرنے جاتے ہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سانپ آئے کہاں سے ،پانی میں تیر کے تو نہیں

آئے ۔
ایک مقامی داستان کے مطابق سمندری ڈاکووں نے یہاں خزانہ چھپا رکھا تھا اور حفاظت کے لئے سانپ چھوڑ دیے ۔مگر یہ بھی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی کیونکہ سانپوں نے واپس آنے پر انہیں بھی ڈس لینا تھا۔
ایک دوسری وجہ جو کم دلچسپ ہے لیکن حقیقت وہی معلوم ہوتی ہے ۔کہ اتنی کثیر تعداد سانپوں کی سطح سمندر کی کم ہوتی سطح کا نتیجہ ہے
جب یہ جزیرہ برازیل سے علیحدہ ہوا تو یہاں کچھ تعداد میں سانپ موجود تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دوسرے جانور ان سانپوں کا شکار بنتے گئے اور سانپوں کی تعداد بڑھتی

ہی گئی اس جزیرے پر بہت سے خطرناک اور مہلک سانپ پائے جاتے ہیں لیکن سب سے خطرناک سانپ گولڈن لیزہیڈ سانپ ہے سانپوں کی یہ قسم دنیا کی مہلک ترین قسم ہے جو دنیا میں صرف اسی جزیرے پر پائی جاتی ہے ۔یہ سانپ ڈیڑھ فٹ لمبے ہو سکتے ہیں ان کا زہر دوسری جگہوں پہ پائے جانے والے خطر ناک اور زہریلےسانپ پڈ وابر کی نسبت پانچ گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے ۔پڈ وائبر ایسا خطرناک سانپ ہے کہ اس کا کاٹا ایک گھنٹے کے اندر مر جاتا ہے ۔
برازیل میں سانپ کے کاٹے سے مرنے والوں میں 90 فیصد لوگ پڈ وائپر کے کاٹے سے مرتے ۔

چونکہ یہ جزیرہ الگ تھلگ ہے اور وہاں آبادی نہیں ہے تو گولڈن لیزہیڈ کے کاٹے سے ہونے والی اموات کا صحیح اعدادوشمار نہیں بتایا جا سکتا ۔
لیکن اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پڈ وائپر جب اتنا خطرناک ہے تو یہ اس سے پانچ گنا زیادہ طاقت ور سانپ ہے ۔یہ سانپ اتنے زہریلے کیوں ہیں تو اس کی وجہ اس جزیرے کا الگ تھلگ ہونا بھی ہے کیونکہ یہاں سانپوں کو کھانے کے لیے صرف پرندے ہی ملتے ہیں عموما سانپ جب اپنے شکار کو ڈستے ہیں تو وہ کچھ دور بھاگ کرہلاک ہو جاتا ہے مگر پرندوں کوجب یہ سانپ کاٹیں

تووہ اڑ کر دور بھی نکل جاتے ہیں اس لیے ان سانپوں نے اپنے زہر کو اور بھی تیز کر لیا تا کہ ڈستے ہی وہ شکار کو پکڑ لیں ۔اسی وجہ سے یہاں مقامی پرندوں کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے اس جزیرے پر آنے والے عارضی پرندوں پر ہی سانپوں کی خوراک کا انحصار ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق اس جزیرے پر گولڈن لیزہیڈ سانپ دو ہزار سے چار ہزار تک پائے جاتے ہیں ۔کبھی یہ تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی جو جنگلات کی کٹائی اور خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے کم ہو گئی ہے ۔
ماہرین کے مطابق پچھلے پندرہ سالوں

میں یہ تعداد پچاس فیصد تک کم ہو گئی ہے ۔
قدرت کی ہر تخلیق میں کوئی نہ کوئی مقصد چھپا ہوتا ہے اور انسانوں کے لیے اس میں کہیں نہ کہیں کوئی نفع چھپا ہوتا ہے یہ جزیرہ بھی انسانوں کے بے فائدہ نہیں یہاں کئی نایاب سانپوں کے زہر سے کئی مفید دوائیاں بنائی جاتی ہیں ۔جیسے گولڈن لیزہیڈ کے زہر کو دل کے امراض کی دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اور کئی دوسرے سانپوں کے زہر اینٹی کینسر دوائیوں میں مفید ثابت ہوئے ہیں ۔
خطرے کے باوجود کئی غیرقانونی کام کرنے والے اپنی قسمت ضرور

آزماتےہیں۔اور کچھ سمگلر یہاں سے گولڈن لیزہیڈ سانپ چرا لے جاتے ہیں ایک گولڈن لیزہیڈ دس ہزار سے تیس ہزار ڈالر تک بکتا ہے ۔
یوں تو کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو سانپوں سے خطرہ ہے لیکن سانپوں کی اتنی تعداد دیکھ کے کہ سکتے ہیں کہ خطرہ سانپوں کو انسانوں سے ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.