عمران خان حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ ۔ مفت معلومات

PTI Govt. 3 years reputation report

 

عمران خان حکومت کی تین سالہ کارکردگی

2018

ء میں پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد اس پر اعتراضات اور تنقید زیادہ کی جاتی رہی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عمران خان کی حکومت میں کوئی اچھا کام نہیں ہوا کہ جس کی تعریف کی جائے ،یا پاکستان واقعی خسارے میں جا رہا ہے تو اس حوالے سے ایک نظر پی ٹی آئی کی تین سالہ کارکردگی پر ڈال لیتے ہیں لیکن ذرا مثبت سوچ کے ساتھ ۔

خارجی محاز ۔

کشمیر پلوامہ مسئلے کے حوالے سے

2019ء میں بھارت سے جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارت کے ہیلی کاپٹر بھی مار گرائے ،زخمی پائلٹ کو واپس بھی کیا گیا ،پھر بھارت نے 5اگست کو کشمیر میں کرفیو لگایا تو پاکستان نے قدرے مختلف رویہ رکھا اور مودی اور RRSکی اصلیت دنیا کے سامنے رکھ دی اور عمران خان اقوام متحدہ میں کشمیر کے علمبردار بنے اور مغرب کو وہ کہا جو اس سے پہلے کسی نے نہ کہا۔

افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت کو ثابت کیا اور امریکہ کو افغانستان سے انخلاء پر قائل کیا ۔اور نہایت تیزی سے افغان بارڑر پر باڑ

لگوائی تاکہ پاکستان کسی بھی قسم کی خانہ جنگی سے محفوظ رہے ۔

ٹی ٹی پی کے حوالے سے طالبان کے ساتھ بھی دو ٹوک رویہ رکھا اور طالبان نے بھی اس کے جواب میں کہا کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں نہ کوئی جگہ ہے نہ کوئی کام۔

فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے اقوام عالم میں پہلی مرتبہ جنگی جرائم کا معاملہ اٹھایا۔سپر طاقتوں اور دوست ممالک کے دباؤ کے باوجود اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

دنیا کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ yes boss کہنے والا پاکستان اب absolutely not کہنے والا پاکستان بن گیا ۔

روس اور چائنا جیسی بڑی طاقتوں کا اعتبار بحال ہوا ۔

داخلی معاملات

حکومت کو ابتداء میں ہی کرونا نے بھی آزمائش میں ڈالا وہ ایسے وقت میں جب معیشت بہت خسارے میں جارہی تھی ۔ وزیراعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاون پالیسی کا سب نے مذاق بھی اڑایا مگر عمران خان نے کاروبار بھی چلایا اور کرونا سے بچنے کی تدابیر بھی اختیار کی۔جس کے نتیجے میں ڈائیکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ہانگ کانگ اور نیوزی لینڈ کے بعد تیسرا ملک ہے جس نے کرونا سے بہتر انداز میں نمٹا۔

سی پیک اور انڈسٹریل زون پاکستان کی لائف لائن ہیں ۔

پاکستان میں چار اکنامک زون بننے جا رہے ہیں جو چاروں صوبوں میں ہوں گے ۔ رشکئی نوشہرہ ،دھابجی ٹھٹھہ سندھ ،اقبال انڈسٹریل اسٹیٹ فیصل آباد، اور بوستان بلوچستان میں، جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملنے جا رہا ہے اور ان پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔

جب حکومت آئی تو 20ارب ڈالر کا کرنٹ خسارہ موجود تھا جو سر پلس بھی ہوا ۔فارن ریزرو 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو اب تک سب سے زیادہ ہیں ۔درآمدات 31 ارب ڈالر سے زیادہ ریکارڈ ہوئی ہیں اور برآمدات

میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ مشینری اور را میٹیریل بھی آیا ہے۔افغانستان سے اسمگلنگ رکی ہے۔

بیرون ملک پاکستانی جو پیسہ بھیجتے تھے وہ اکثر ہنڈی کے ذریعے بھیجتے لیکن اب وہ بھی گورنمنٹ پر اعتبار کرنے لگے ہیں اور گذشتہ ایک سال سے ہرمہینے 2ارب ڈالر سے زیادہ یہ فارن ریمیٹنس پاکستان آ رہا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔

زراعت کے شعبے میں پہلی بار کسان کو تین سالوں میں کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ پیداوار میں اضافہ ہوا۔اور حکومت کو 11 سو کڑور کی اضافی آمدن ہوئی جو کسان کا فائدہ ہے ۔

 احتساب کے حوالے سے ملکی تاریخ

میں ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا گیا 4730ارب روپے کم وقت میں اکٹھے کیے ۔اور پہلی بار امیروں کی جائیدادیں نیلام کی گئی۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دس ڈیموں پر کام چل رہا ہے جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔

جوہری توانائی پر مشتمل K_2بجلی گھر نیشنل گرڈ میں شامل کیا گیا ہے جو گیارہ سو میگا واٹ بجلی دے گا ۔2021 کے اختتام تک K-3 بجلی گھر بھی منسلک ہو جائےگا۔جو سستی اور ماحول دوست بجلی دیں گے ۔

حکومت نے پیسہ امیروں کی بجائےغریبوں میں دینا شروع

کیا ،احساس پروگرام،نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم،کامیاب نوجوان پروگرام اور صحت کارڈ ،یہ تمام چیزیں ہو رہی ہیں ۔

سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی وینٹی لیٹرز پاکستان میں خود تیار کیے گئے جو باہر بھی بھیجے گئے ۔موبائل فونز بھی اب خود تیار کئے جا رہے ہیں ۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کروائی گئی ہے ۔اب کرونا ویکسین بھی تیار کی جا رہی ہے۔آئی ٹی میں پاکستان کی برآمدات میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ترقی کی طرف ایک اور قدم ہے ۔

پاکستان میں Amazon کمپنی آ چکی ہے جس کا مثبت استعمال پاکستان کے

لیے فائدہ مند ہے ۔

سو بلین ٹری سونامی میں کامیابی حاصل کی اور گوجرانوالہ میں ایک منٹ میں50 ہزار پودے لگا کر ریکارڈ قائم کیا ۔

میاواکی جنگل بھی اس کی ایک مثال ہے ۔جسے بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔اور پہلی بار انوائرمینٹل کانفرس میں میزبانی بھی دی گئ ۔

اس حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے اور عام آدمی کو کوئی خاص ریلیف نہیں ملا ۔حکومت کا کہنا کہ پچھلی حکومتوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے جسے عام آدمی نہیں مانتا ۔آٹا بحران، چینی بحران، جس پورا مافیا بھی شامل تھا حکومت نے ان کی

نشاندہی بھی کی اور انکوائریاں بھی کروائی گئی۔

دیکھا جائے تو ہر حکومت کچھ اچھے کام بھی کرتی ہے اور کچھ خامیاں بھی چھوڑ جاتی ہے ایسے ہی اس حکومت میں جہاں خامیاں ہیں وہاں بہت سی اچھائیاں بھی ہیں جو شاید صاحب نظر ہی دیکھ سکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.