فورٹ منروسٹیل برج دنیا کا دوسرا بڑا سٹیل پل ۔مفت معلومات

فورٹ منروسٹیل برج دنیا کا دوسرا بڑا سٹیل پل ۔مفت معلومات

فورٹ منروسٹیل برج   

   
دنیا کا دوسرا بڑا سٹیل پل 

  
ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے راکھ گاج تا بواٹا کے تعمیر منصوبے پر کام 2017 ء میں ہوا ۔ڈی جی خان

میں جاپان کے تعاون سے راکھی راج گاجا سے بواٹا تک 33کلو میٹر لمبا پل بنایا گیا ہے جو دنیا کا دوسرا بڑا سٹیل پل ہے

  حکومت پاکستان نے جاپان کے تعاون سے پنجاب اور بلوچستان کو ملانے والے سٹیل کے پلوں کا 12 کلو میٹر

طویل منصوبہ مکمل کیا ۔12 کلومیٹر تک مکمل اس منصوبے کے
گردوں سیکٹر تک 8 چھوٹے بڑے پل مکمل طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ان پلوں میں سٹیل پر

مشتمل بھی کچھ حصہ شامل ہے ان پلوں کے پلرز 150 فٹ بلند ہیں اور وہاں سے سڑک گول دائروں کی شکل میں اوپر تک چلی جاتی ہے ۔
گاڈرزکی مدد سے تعمیر ہونے والے یہ پل موسم کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔75

سال تک ان کی دیکھ بھال کی خاص ضرورت نہیں ہے ان پلوں کی معیاد 100سال ہے

اور اگر گزرنے والی ٹریفک اوورلوڈ نہ ہو تو ان کی معیاد بڑھ جائے گی۔
لینڈسلائڈنگ کو روکنے کے لیے ان پلوں کے ساتھ  کئی مقامات پر بلاک یاحفاظتی دیوار بھی بنائی گئی ہے فورٹ منرو پر ڈی جی خان

تک کا راستہ بہت دشوار گذار تھا خاص طور پر گردوں موڑ سے آنے جانے والے ٹرکوں کے گزرنے کےلئے انتہائی مشکل تھا

اب یہ یک طرفہ سڑک دو طرفہ بن گئی ہے ۔سڑک کے ایک طرف چٹانوں کو کاٹ کر راستہ کھلا کر دیاگیا ہے جبکہ

دوسرے کنارے پر گہری کھائی ہے سفر کرتے ہونے خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
یہ سڑک بننے سے پہلے کافی اوورلوڈ تھی اور مشکلات کا شکار تھی لیکن اب پل بننے سے یہ مشکلات ختم ہو گئی ہیں

اب منٹوں میں نیچے سے اوپر پہاڑوں پر پہنچ جاتے ہیں ۔ڈی جی خان سے فورٹ منرو 50 کلومیٹر سفر کے بعد یہی پل

آجاتا ہے ۔خشک اور سلیٹی مائل پہاڑوں کی تراش خراش اس قدر خوبصورت ہے کہ انسان قدرت کی تعریف کیے بنا نہیں

  رہ سکتا ۔یہاں کچھ ایسے موڑ بھی آتے ہیں کہ نئے گزرنے والے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔
اس منصوبے کی تکمیل سے ڈی جی خان سے کوئٹہ کے درمیان فاصلہ میں ایک گھنٹے کا فرق پڑا ہے ۔

خطرناک موڑ اور اترائیاں ختم ہونے سے حادثات کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے ۔
ڈی جی خان سے راکھی گاج تک 33کلو میٹر منصوبے میں یہ 12 کلومیٹر ہی اہم حصہ ہے اس سے اگلا سیشن کھر سے بواٹا تک پر کام جاری ہے ۔
یہ سڑک70 -N قومی شاہراہ کا حصہ ہے جہاں یہ منصوبہ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ

پنجاب سے بلوچستان تک کا راستہ آسان ہو اور قلعہ سیف اللہ تک بھی رسائی پرسکون ہو ۔

N-70 شاہراہ ملتان سے براستہ اور لواری بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ تک جاتی ہے جس کی کل لمبائی

440 کلومیٹر ہے جس میں سے 254 کلومیٹر بلوچستان میں اور 186 کلومیٹر پنجاب میں ہے ۔اس پل کی وجہ سے ڈی جی خان

میں سیاحت کا ایک نیا دور شروع ہو گا ۔ کاروباری سرگرمیوں اور عام آدمی کو فائدہ ہو گا، ٹریفک کی آمدورفت میں بہت

آسانی ہوگی ۔سیاحوں کے لیے کوہ سلیمان تک رسائی آسان ہو گی جو ایک خوبصورت  تفر یحی مقام ہے۔سطح سمندر سے

6470 فٹ بلند فورٹ منرو کے اس علاقے کو جنوبی پنجاب کا مری بھی کہا جا سکتا ہے ۔
قلعہ سیف اللہ سے یہ شاہراہ پھر M-8 موٹروے سے جا ملتی ہے جو پاکستان کی سب سے لمبی موٹروے ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.