فیشن پرستی اور ہم – مفت معلومات

fashion prasti aur hum -muft malomat

کسی بھی قوم اور کسی بھی ملک کی تہذیب وہاں کے رہنے والے لوگوں کے اطواراور رسوم سے جڑی ہوتی ہے

اور جس ملک و قوم کے طور طریقے اور رسم و رواج اس کے مذہبی رکھ رکھاو سے میل نہ کھائیں وہاں ایسے اطوار و

اقدار پنپنے لگتے ہیں جنہیں دیکھ کر دوسری اقوام بھی شرما نے لگ جائیں ایسے میں سوائے پریشانی کے اور کیا حاصل ہو گا ۔
ہمارا معاشرہ بھی اسی پشیمانی اور پریشانی میں مبتلا ہے آج معاشرے میں ایک بے ہنگم سی دوڑ لگی ہوئی ہے

دولت کے حصول کی ،نمودونمائش سے قد بڑھانے کی اور فیشن پرستی کی آڑ  میں گلچھڑے اڑانے کی،فیشن

پرستی کی وبا جس طرح ہماری قوم کی رگوں میں سرایت کیے جا رہی ہے وہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔
فیشن پرستی نے ہمارے معاشرے  میں نہ صرف بگاڑ  پیدا کیا ہے بلکہ لاکھوں گھروں کو آگ لگا دی ہے 

آج کی عورت خاتون خانہ کی بجائے ایک چلتا پھرتا اشتہار بنی ہوئی ہے مرد عورتوں کی طرح بال بڑھائے پونیاں ڈالے 

ہاتھوں میں سونے کی زنجیریں پہنے فیشن ایبل بنے پھرتے ہیں لڑکیاں جین

پہنے بوائے کٹ کرائے گلے میں دوپٹہ لٹکائے تماشہ اہل کرم بنی پھرتی ہیں ۔                                       
معاشرے کا ہر فرد ہی فیشن کی دوڑ میں اول آنے کی کوشش کر رہا ہے آج نئی نسل بے پردگی، بے حیائی، بے

ادبی اور بدتمیزی کو تہذیبی ضروریات سمجھ کر ہر قسم  کی عریانی کو اپنے لیے جائز قرار دے کر دوسروں تک پہنچا رہی ہے

آج فیشن کے نام پر عورت کو عریاں کیا جارہا ہے برینڈ کے کپڑوں کے اشتہار سے لے کر ٹریٹ بلیڈ کے اشتہار

تک ہر ایک میں عورت ہی ماڈل بنی دکھائی دیتی ہے ایسا لگتا ہے کہ چاکلیٹ، بسکٹ کھاتے ہوئے اشتہار میں ماڈل کے

لپ اسٹک سے بھرے ہونٹ سکرین پر نظر نہ ائیں تو شائد اس پروڈکٹ کی مشہوری ممکن نہ ہو سکے ۔ٹی وی پر پیش کئے

جانے والے فیشن شوز بھی اس کی بہت بڑی مثال ہیں ۔عورتوں کے حقوق کے نام پر عورت مارچ  بھی فیشن بن گیا ہے ۔

     انسانی رشتے آود محبتیں مدر ڈے،فادر ڈے، ویلنٹائن ڈے تک محدود ہو گے۔                               
مغرب کی تقلید                             
یہ سب ہم مغرب کی تقلید میں کر رہے ہیں ۔مغربی لباس پہننے، نئے ماڈل کے موبائل فونز رکھنے ،  بڑے اور

مہنگے اداروں میں بچوں کو تعلیم  دلوانے ،پہننے اوڑھنے اوربول چال  غرض ہر چیز میں نمودونمائش ہی اب فیشن

  بن چکا ہے جسے ہم مغربی تحفہ سمجھ کے سینے سے لگائے پھرتے ہیں اگر اس فیشن پرستی کی دوڈ کو روکا نہ گیا تو

ہمارا بھی وہی حشر نہ ہو جو آج یورپ کا ہو رہا ہے  ۔ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ تقلید یورپ میں ہم فیشن جیسی وبا کو

اپنی زندگیوں میں پھیلنے  نہیں  دیں گے اور اپنی روایات و اقدار کو فروغ دیں گے

اور ایک قوم کی حیثیت سے خود کو باوقار بنائیں گے ۔
تحریر از _نسرین کاشف       

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.