قبر کی زندگی کیسی ہو گی روحیں گھر کب آتی ہیں- مفت معلومات

قبر کی زندگی کیسی ہو گی روحیں گھر کب آتی ہیں- مفت معلومات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم°۔
عنوان:۔ قبر کی زندگی
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ہر دن دُنیا میں ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جن کو دفنایا جاتا ہے جلایا جاتا ہے۔ ہر مذہب اپنی طریقے سے مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کرتا ہے۔ مرنے کے بعد کے معاملات سے عام انسان آگاہ نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی کی آخری الہامی کتاب قرآنِ کریم میں موت کے بعد کی زندگی کو الفاظ کی مدد سے ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ الفاظ ہی ہیں جو ہمارے سامنے بعد کی زندگی کا منظر کھینچتے ہیں۔ قرآنِ پاک کی سورۃ واقعہ میں قبر میں مردے پر بیتنے والے کچھ لمحات کا ذکر ہے۔ جب کسی نیک انسان کی موت ہوتی ہے ۔تو اللہ تعالی ملک الموت سے فرماتا ہے۔ میرا فلاں بندہ میرے پاس آ رہا ہے ۔ میں نے اس کا ہر خوشی غمی میں امتحان لیا ہے۔

وہ کبھی دُنیا کی مشکلات سے نہیں گھبرایا بلکہ اس نے خندہ پیشانی سے ان مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ تو ملک الموت اپنے ساتھ پانچ سو فرشتوں کو لے کر اس شخص کی نعش کے پاس آتا ہے ان فرشتوں کے ہاتھوں میں جنت کے کفن ہوتی ہیں اور ریحان کے گلدستے ہوتے ہیں۔ ہر گلدستے میں بیس رنگ ہوتے ہیں۔ اور ہر رنگ میں الگ خوشبو ہوتی ہے۔ اور ہر ایک سفید ریشمی رومال میں ہوتا ہے۔ ملک الموت اس شخص کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے۔ اور باقی فرشتے اپنا ہاتھ اس کے جسم پر رکھ لیتے ہیں۔ مشک والا رومال اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس کے اگے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ جن کے مناظر سے اس کا دل بہلایا جاتا ہے۔ اور اس کی روحیں اس سے ملنے آتی ہیں۔

اس سے مردے کے جسم میں روح پھڑکنے لگتی ہے۔ مردے کو اسی طرح بہلایا جاتا ہے جیسے ایک ماں اپنے بچے کو بہلاتی ہے۔ اس کی روح کو اس آسانی سے نکالا جاتا ہے جیسے اٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی ملک الموت کہتا ہے چل ایسی بیریوں کی طرف جن میں کانٹے نہیں ۔ اور چل ایسے سائے کی جانب جو بُہت گنے ہیں ۔ ملک الموت اس قدر نرمی سے بات کرتا ہے ۔ جس کا جواب نہیں ۔ اور نہایت شائستگی سے پیش آتا ہے ۔ روح اس سہولت سے جسم سے نکلتی ہے ۔ گویا پھول میں سے خوشبو۔ بدن روح سے کہتا سے تو نے میرا سہی استعمال کر کے خود کو بھی اور مجھے بھی عذاب سے بچا لیا اللہ تجھے جزائے خیر دے۔ روح بھی جسم سے اسی قسم کی گفتگو کرتی ہے ۔

اس شخص کی موت پر زمین کے وہ حصے روتے ہیں جن پر وہ عبادت کرتا تھا ۔ جنت کے وہ دروازے روتے ہیں جن سے اس کے اعمال داخل ہوتے تھے۔ جب اس شخص کو نہلانے کے دوران کروٹ دی جاتی ہے تو فرشتے اسے کروٹ دلاتے ہیں۔ جب اس شخص کو کفن پہنایا جاتا ہے تو فرشتے پہلے جنت سے لایا ہوا کفن اسے پہناتے ہیں ۔ جب اس کو خوشبو لگائی جاتی ہے تو پہلے جنت سے لائی گئی خوشبو کو اس کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ وہ پانچ سو فرشتے دروازے سے قبر تک دونوں جانب قطار لگا کر اس شخص کا استقبال کرتے ہیں۔

اور اس کے لیے دعا اور استغفار کرتے ہیں۔ اور اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔ حضرت جبرائیل ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ اسے خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔میرے بندے کی روح کو سلامتی والی جگہ پر پُہنچا دو۔ جب اسے قبر میں اتارا جاتا ہے تو نماز دائیں جانب، روزہ بائیں جانب قرآنِ کی تلاوت اور اللہ کا ذکر اس کے سر کی جانب پیروں کی جانب اس کے اخلاق اورصبر ایک جانب کھڑا ہو جاتا ہے ۔ جب اعضا قبر میں سے سر نکالتا ہے اور بائیں جانب سے آتا ہے تو روزہ اس کی راہ روک لیتا ہے ۔ جب اعضا دائیں جانب سے آتا ہے تو نماز اس کی راہ روک لیتی ہے۔ غرض وہ جس جانب سے بھی آتا ہے۔ عبادت اس کہ رستہ روک لیتی ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں کو اُن کی عبادت اپنی حفاظت میں رکھتی ہیں۔

اور وہ اعضا واپس چلا جاتا ہے ۔ صبر کہتاہے بھلا ہو تم سب کا جو تم نے اس کو عذاب سے بچا لیا میں اسی لیے یہاں تھا تا کے اگر کہیں سے کوئی کمزور ہو تو میں دفاع کے لیے موجود ہوں۔ لیکن اب میں اس کے اعمال میں اضافے کا باعث بنوں گا ۔اس کے بعد دو فرشتے قبر میں داخل ہوں گے ان کی آنکھیں بجلی کی طرح چمک دار، ان کی آواز بادل کی طرح ،گرج دار دانتوں کی کچلیان گاے کی سینگوں کی طرح ان کے بال پاؤں تک لمبے، ان کا ایک کندھے دوسری کندھے سے اتنا دور کے چلتے ہوئے کئی دن لگ جائیں۔ اُن کی آواز میں نرمی کی جھلک تک نہیں۔ اور معاملے میں نرمی کی اُمید نہ رکھی جائے۔ نیک ہو یا بد ان کی ہیبت دونوں طرح کے لوگوں پر ایک جیسی ہی ہے۔یہ منکر نکیر ہیں ۔

ان کے ہاتھ میں اتنا بڑا ہتھوڑا ہوتا ہے ۔ کہ اگر انسان اور جن مل کر اس ہتھوڑے کو اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے۔ جب وہ کہتے ہیں کے آٹھ کر بیٹھ جا تو مردہ فوراً ہی آٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ کفن اس کے منہ سے اتر جاتا ہے۔ منکر نکیر اس سے سوالات کرتے ہے۔ تیرا رب کون ہے ،تیرا مذہب کیا ہے ،تیرے نبی کا کیا نام ہے ۔ جس کے جواب میں مردہ کہتا ہے میرا رب وہ واحد اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اکیلا ہے ۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا۔ میرا مذہب اسلام ہے ۔ اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر میں ایمان لایا ۔

قبر کی دیواروں کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ جس سی قبر وسیع ہو جاتی ہے ۔ فرشتے اسے سر اٹھانے کو کہتے ہیں۔ جب وہ سر اٹھاتا ہے تو اُسے جنت کی کھڑکی نظر آتی ہے ۔ جس میں سے قبر کے مناظر نظر آتے ہیں۔ فرشتے اُسے کہتے ہیں اب ذرا اپنے پیروں کی جانب دیکھ ۔ تو وہاں جہنم کی کھڑکی ہوتی ہے جہاں سے اس کے اندر کے مناظر نظر آتے ہیں۔ وہ نیک بندا خوش ہوتا ہے کے وہ جہنم سے بچ گیا ۔اور اس بات پر زیادہ خوش ہوتا ہے ۔ کہ اُسے جنت کی نوید سنا دی گئی ہے ۔ اس قبر میں ستر دروازے جنت کے کھلتے ہیں جن سے جنت کی ٹھنڈی ہوا قبر میں داخل ہوتی ہے۔ یہ بدلہ ہے نیک لوگوں کا جو انہوں نے زمین میں کیا ۔🤲اللہ پاک ہمیں بھی ایسی موت نصیب فرمائے۔ اور نیک اعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین
از قلم: عائشہ عظیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.