قبر کی پکار مرنے کے بعد قبر میں کیا ہوتا ہے – مفت معلومات

Qabar ki pukar Qabar ki pehli raat-muft malomat

عنوان:۔ قبر کی پکار

موت ایک ایسی حقیقت ہے۔ جیسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ہر روز ہمارے سامنے کئی لوگ منوں مٹی تلے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے ۔

یہ اب تک کوئی نہیں جان پایا۔ لیکن بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت احادیث سے پتا چلتا ہے۔ کہ فوت ہو جانے والوں کے ساتھ قبر کیا سلوک کرے گی۔

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے

“فرمایا لوگو! لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو یاد کیا کرو۔ قبر ہر روز اپنے مردوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں۔ مٹی اور کیڑوں کا گھر ہوں ۔

جب مومن کو دفن کیا جاتا ہے۔ تو قبر اس کو مرحبا کہتے ہوئے خوشخبری سناتی ہے۔ کہ میری پشت پر چلنے والا تو مجھے بڑا محبوب تھا ۔ آج میں تیرے ہو گئی۔ اور تو میری طرف آ گیا۔

تو اب میرے احسان کو دیکھ لے۔ یہ کہہ کر قبر تا حدِ نگاہ کشادہ ہو جاتی ہے۔اور جنت کا دروازہ قبر میں کھول دیا جاتا ہے ۔ اس دروازے سے جنت کی ٹھنڈی ہوا قبر میں داخل ہوتی ہے”۔

یہ نعمت یعنی جنت کا دروازہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لے آئے اور کُفر کو چھوڑ دیا۔ قبر کے بارے میں ایک اور حدیث ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ” ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے ۔

میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا یہ قبر ہر دن باآوازبلند کہتی ہے۔

اے آدم کی اولاد تو مجھے کیوں بھول گیا ہے۔کیا تجھے یہ معلوم نہیں میں تنہائی کا گھر ہوں ،غُربت کا گھر ہوں،کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، میں بُہت تنگ گھر ہوں۔مگر اللہ جس کے لیے کشادگی کا حکم فرمائے گا میں کشادہ ہو جاؤں گی۔

اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یہ جہنم کا تنور۔”

ان احادیث سے ایک بات واضع ہے کہ قبر بہتر کے لیے بہترین اور بد کے لیے بدترین ہے ۔

قبر کے حوالے سے ایک اور حدیث ہے جس میں حضرت ابو حجاج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے “مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے۔ تو قبر کہتی ہے۔تو ہلاک ہوا تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔

میں فتنہ،تاریکی اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر دور کر دیا۔ اور تو میری پشت پر خوب اکڑ اکڑ کے چلتا تھا۔ اور اگر وہ نیک ہوا تو اس کی طرف سے جواب دینے والے جواب دیتے ہیں۔اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں۔ یہ اچھائی اختیار کرتا تھا۔

اور برائی سے پاک رہتا تھا۔ یہ سن کر قبر کہتی ہے بےشک یہ نیک تھا ۔ اب میں اس کے لیے سرسبز ہو جاتی ہوں۔ مردے کا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اور اس کی روح کو اللہ کی طرف بھیج دیا جاتا ہے”۔

 یہ ہمارے دُنیا میں انجام دیے جانے والے عمل ہی ہیں جو ہمیں قبر کے کہر سے بچا سکتے ہیں۔یہ دُنیا فانی ہے اگر کچھ رہ جانا ہے تو وہ صرف زات باری تعالیٰ ہے۔

اللہ کے سوا ہر چیز کو موت آنی ہے۔ قبر سے انسانوں کو ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ برائی کی راہ ترک کر دیں ۔ اور آخرت کی تیاری کریں۔

قبر کے حوالے سے ایک اور حدیث ہے ۔ جو حضرت عبداللہ بن عبید سے منقول ہے۔

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

“مردہ قبر میں بیٹھتاہے اور اُن لوگوں کے پیروں کی آواز بھی سنتا ہے۔جو اس کے جنازے کے ساتھ قبر تک گے ہوں۔مردے سے اس کی قبر کہتی ہے ۔اے ابنِ آدم تیرے ہلاکت ہو تو نے میرے تنگی، بدبو اور کیڑے مکوڑوں سے خوف نہیں کیا۔ اس لیے تو نے ان چیزیں سے بچنے کے لیے تیاری نہیں کی۔

بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے تجھے میری تنگی ،میری تنہائی، میری تاریکی و وحشت اور میرا غم یاد نہیں رہا۔ اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے۔ اور اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ اور نیک بندے کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے”۔ اور جنت کی جانب کی کھڑکی قبر میں کھول دی جاتی ہے ۔

اور مومن کی قبر ہی جنت کا نمونہ ہوتی ہے ۔مومن کی قبر خوشبودار اور پر نور ہوتی ہے۔ 🤲 یا اللہ ھم تیرے گنہگار بندے ہیں۔ ہمیں قبر کے عذاب سے بچا لینا ۔ تجھے تیرے عظمتوں کا واسطہ، ہمیں بخش دینا ۔اور ہم سے در گزر فرمانا۔ آمین یارب العالمین۔

از قلم: عائشہ عظیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.