قربانی کے گوشت کے کتنے حصے کئے جائیں؟۔ مفت معلومات

قربانی کے گوشت کے کتنے حصے کئے جائیں؟
قربانی عیدالاضحی کے موقع پر کی جاتی ہے۔ قربانی کرنا سنت ابراہیمی ہے۔ بہت سے لوگ جو قربانی کرنے

کی استطاعت رکھتے ہیں شوق سے قربانی تو کر لیتے ہیں لیکن قربانی کا گوشت اپنے چند جاننے والوں

کو بانٹ کر باقی سارا گوشت ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے لیکن

غریبوں،مسکینوں کا حق مار کر ذخیرہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ بہت سے لوگ قربانی کے جانور کے حصے

تو جانتے ہیں لیکن قربانی کے گوشت کے حصوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ خصوصاً عورتیں جن کا قربانی کا

گوشت بانٹے میں اہم کردار ادا ہوتا ہے وہ قربانی کے گوشت کے حصوں سے ناواقف

ہوتی ہیں۔ قربانی کے جانور اور قربانی کے گوشت کے حصوں میں فرق ہوتا ہے۔
قربانی کے تین حصے ہوتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے:
افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے اہل وعیال کے لیئے رکھے،

ایک حصہ رشتہ داروں دوست و احباب میں تقسیم کرے اور ایک حصہ غریبوں میں تقسیم کرے”۔
قربانی کا جانور کوئی بھی ہو بکرا، دنبہ، ویڑاہ اور اونٹ وغیرہ لیکن ان کے گوشت کے حصے تین ہی ہوتے ہیں۔

قربانی کا گوشت بانٹے کی آسانی کے لئے گوشت کے تین حصے کئے گئے ہیں تاکہ قربانی کے گوشت سے سب مستفید ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.