لاہور میں جعلی سرٹیفیکیٹ کی  تقسیم  ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں ۔ مفت معلومات

لاہور میں میں ویکسینیشن کے جیلی سرٹیفکیٹ کی تقسیم - muft malomat

مفت معلومات ۔ لاہور میں جعلی سرٹیفیکیٹ کی  تقسیم                  

پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے  جہاں سختی سے اقدامات کئے جا رہے ہیں وہیں لاہور اور کراچی میں بھارتی ویرینٹ ڈیلٹا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جس نے بھارت میں تباہی کی داستانیں رقم کیں- اس سے بچاو کےلیےویکسینیشن کا عمل تیز کرنا پڑے گا حکومت کی طرف سے نہ صرف سرکاری ملازمین اور اداروں میں کام کرنے والوں کے لئے ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہےبلکہ ویکسینیٹیڈہونے کا سرٹیفیکٹ اب ہر جگہ ضرورت بنتا جا رہا ہےلیکن اب ویکسی نیشن کے سلسلے میں بھی دو نمبری ہو رہی ہے _     

مسئلہ یہ ہے کہ  لاہور کے مختلف سینیٹرز پر لوگ ویکسی نیشن کروائے بغیر ہی سرٹیفیکٹ حاصل کر رہے ہیں خاص طور پر سرکاری ملازمین جن میں پولیس اہلکار اور ٹریفک وارڈن شامل ہیں _اس طرح تو ریکارڈ میں اگر لوگ ویکسینیٹ ہو بھی جائیں تو آدھے سے زیادہ افراد ویکسینیٹ  نہیں ہوں گےایسا وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں نوکری سے نکال دئیے جانےکا خوف یا پھر تنخواہ نہ ملنے کا ڈر ہے  محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی نا اہلی کی وجہ سےڈیلی ویجز پر جو عملہ رکھا گیا ہے ان کو پورٹلز کے پاسورڈاور لاگ ان دے دئیے گے ہیں جس کی بناء پر کمپیوٹر آپریٹر عملہ گھر بیٹھے ہی سسٹم کو لاگ ان کر کے رجسٹریشن کرنے میں لگا ہوا ہےجس سےنادرہ اور ہسڈو کے ریکارڈ پر رجسٹرڈ ہونے والے افراد میں 50 %لوگ بغیر ویکسین کے     رجسٹرڈ ہو گئے ہیں جن میں خاص طور پر سرکاری ملازمین شامل ہیں اگر اسی طرح ہوتا رہا تو اندازہ لگانا مشکل ہو گا کہ کتنے لوگ بغیر ویکسین کے رجسٹرڈ ہیں افسوس اس بات کا ہےکہ دنیا میں کئی ممالک میں لوگ ویکسین کے لیے لائنوں میں لگے دھکے کھا رہے ہیں اور حکومت پاکستان نے اگر ویکسین کا انتظام کر دیاہےتوہم خود اپنی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں ویکسین جو بچانے میں مدد دیتی ہے ہم اسی سے بھاگ رہے ہیں       

مسئلہ یہ ہے کہ CNICکے اندارج کے ساتھ  ہی میسج آجاتا ہے جبکہ پہلے مرحلے پر میسیج نہ کیا جائے جب تک ویکسی نیشن نہ ہو۔بلڈ پریشر بھی ہر سینٹر پر چیک نہیں کیا جاتا ،اور ویکسی نیشن فارم ہاتھ میں دے دیا جاتاہے سرکاری ملازمین تو ویکسین لگوانے کے سارے عمل سے گزرتے ہیں لیکن جب لگوانےکی باری آتی ہے تو  ویکسین لگوانے بغیر صرف اندراج کروا کے باہر آجاتے ہیں اور ایسا لاہور میں ہو رہا ہے                                         

بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ ویکسی نیشن کرا بھی نہیں رہے اور ان کے پاس سرٹیفیکیٹ بھی موجود ہیں گورنمنٹ، NCOC اور

جیلی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ عوام کیوں لے رہی ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے عوام میں پہلے کچھ ایسی خبر پھیلائی گئی تھیں  جس کی وجہ سے عوام میں خوف پیدا ہو گیا تھا جس میں کسی کا انتظار ہم نے ہمیشہ کیا  اس ویکسین سے اب انسان کی اموات بھی ہوںگی عوام کے اندر سے اس خوف و ہراس کو پہلے ختم کیا جائے  جو کچھ ایسی خبروں کے ساتھ پھیلایا گیا کہ ویکسینیشن ہونے والے بندے کو کچھ عرصہ بعد موت واقع ہو جائے گی ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے ایسی خبریں پھیلائی جائیں جن سے عوام کو یہ پتہ چلے کہ یہ ویکسین آپ کو یہ والا فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

محکمۂ صحت کو چاہئیےکہ اس کا نوٹس لے

ایسا نہ ہو کہ کرونا کے سلسلے میں ہمیں سالوں مشکلات جھیلنا پڑیں اور دوسرے ممالک ہمارے سرٹیفیکیٹ قبول نہ کریں اور ہم پر سفری پابندیاں عائد کر دیں_ لوگوں سے اپیل ہے کہ خداراکسی کی باتوں میں نہ آئیں اپنی جانوں،اپنے دوستوں ،رشتہ داروں اور گھروالوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں ۔سوشل میڈیا کی خبروں اور دیگر افواہوں پر کان نہ دھریں  ویکسین لگوانا بہت ضروری ہےکیونکہ اگر اس کو لگوانے کے باوجود کرونا ہو جاتا ہے تو اس میں شدت نہیں ہو گی چاہے وہ بھارتی ڈیلٹا ویریئنٹ ہو یا یو -کے،اس لیے جو بھی ویکسین مل رہی ہے لگوائیں سب اچھے ہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.