لندن سے بڑی خبر ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد- مفت معلومات

images (87)

لندن سے بڑی خبر
ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی گذشتہ 3

دہائیوں میں ملکی تاریخ میں مسلم لیگ ن کے3 بار نامزد ہونے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف 2019

میں بیماری کے باعث شدید کمزوری کا شکار ہوئے ان کے پلیٹ لیس چند ہزار تھے ۔5یا 6 ہزار

کے قریب ،جس سے ان کی حالت بہت خراب ہو گئی تھی ۔اور وہ جیل میں بھی تھے لہذا 18

اکتوبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کے لئے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی تاکہ وہ برطانیہ جا کر اپنا علاج کروا سکیں جو پاکستان میں ممکن نہیں تھا۔ہیتھرو ائیرپورٹ پر بھی ان کا میڈیکل چیک اپ ہوا بعد میں بھی

بار بار ٹیسٹ ہوتے رہے ۔ان کی حالت سنبھل گئی۔لیکن میاں نوازشریف وطن واپس نہیں  آ ئے۔جس پر حکومت کی طرف سے بھی بہت سے بیانیے سامنے آئے اور مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی ۔میاں نواز شریف کے پاس دس سال کا ویزہ ہے جس میں سے ابھی 6 سال باقی ہیں مگر ان کا پاسپورٹ

اب زائدالمیاد ہو گیا ہے ۔اور حکومت پاکستان ان کو ری نیو نہیں  کر رہی۔برطانوی قانون کے مطابق وزٹ ویزہ میں 6 ماہ برطانیہ میں رہنا ہوتا پھر ملک چھوڑ کر جانا پڑتا پھر اپلائی کرتے پھر ویزہ ملتا ہے ۔اور ایکسپائر پاسپورٹ پر خاص حالات میں ویزہ دیا جاتا ہے کہ شہری کسی خاص حالت کے پیش نظر سفر نہیں  کر سکتا ۔نواز شریف کا پاسپورٹ فروری میں زائد المیاد ہو گیا ۔جبکہ میاں صاحب وطن واپس نہیں آ نا چاہتے تو انہوں نے ویزہ میں توسیع کی درخواست دی جو کہ مسترد کر دی گئی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ برطانوی حکومت کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پر شبہ ہے جس کی وجہ سے طبی بنیاد پر انہیں برطانیہ میں رہنے کی پرمیشن نہیں ملی۔کیونکہ ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں، گالف بھی کھیلی جا رہی ہے ۔گھنٹوں سیاسی تقاریر بھی ہو رہی ہیں تو ان کی میڈیکل رپورٹ پر شبہ تو ہو گا ہی۔اب اس حالت میں  ان کے پاس اپیل کا آپشن موجود ہے ۔
برطانوی امیگریشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر دی گئی ہے جس کی سماعت میں 6 ماہ یا زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے ۔ٹربیونل میںاپیل مسترد ہونے کے بعد وہ ہائیکورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں ۔

جس کی سماعت میں بھی لمبا عرصہ درکار ہے ۔یعنی اس سارے معاملے کے حل تک نوازشریف برطانیہ میں ہی رہیں گے۔کیونکہ ان کی اپیل کے مطابق وہ قانونی طور پر بیمار ہیں اور جو سہولیات انہیں  برطانیہ میں حاصل ہیں وہ پاکستان میں نہیں ۔

اور یہ درخواست بھی برطانیہ سے باہر جائے بغیر دی ۔جسے برطانوی حکومت نے مسترد کر دیا ہے ۔بہرحال نواز شریف ابھی فوری واپس تو آنے والے نہیں، ہوسکتا ہے آیندہ ہونے والے الیکشن کے نزدیک وہ وطن واپسی پر راضی ہو جائیں ۔اور عوام کے پھر سے ہیرو بن جائیں، مگر اب ان کا برطانیہ میں مزید قیام مسلم لیگ ن کے لئے بہت سے چیلنجز کھڑے کر سکتا ہے ۔دیکھیں اب اونٹ کس کل بیٹھتا ہے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.