معروف ٹی وی اداکارہ نائلہ جعفری طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے آخرکار گزشتہ روز خالقِ حقیقی سے جا ملیں ۔

معروف ٹی وی اداکارہ نائلہ جعفری - muft malomat (2)

موت کی آغوش

ہم تکلیفوں، دکھوں اور اذیتوں کو برداشت کرتے کرتے اب بڑے سے بڑے سانحات کو جھیل جانے کے عادی ہو چکے ہیں ۔لیکن ان سانحات کی قہر سمانیاں دل و روح کو تکالیف سے آلودہ رکھتی ہیں ۔جو بچھڑ جانے والوں کی کربناک، المناک، اذیت ناک یادوں کا خلاء کبھی پْر نہیں کر پاتیں ۔

بقول شاعر~
مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت

گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں

ڈوب جاتے ہیں سفینے موت کی آغوش میں

معروف ٹی وی اداکارہ نائلہ جعفری طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے آخرکار گزشتہ روز خالقِ حقیقی سے جا ملیں ۔
کراچی کے ملٹری قبرستان میں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔
اس دار فانی سے کوچ تو ہم سب ہی نے کر جانا ہے لیکن اس دور میں سب سے بڑا مجموعی خوف ہم نے “موت” کو بنا لیا ہے۔
موت کی آغوش میں جانے کا خوف ہم انسانوں میں اس قدر راسخ کیوں ہو چکا ہے؟ کوئی بھی شخص شدید بیماری کی حالت میں بھی موت سے خوفزدہ ہو رہا ہوتا ہے جبکہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ موت اٹل ہے۔
آپ جانتے ہیں یہ خوف ہم پر کیوں حاوی ہے؟
کیونکہ ہمارے سامنے ہمارے اعمال اور دعوؤں کا تصادم عیاں رہتا ہے ۔ہم اپنے سرکش کرتوتوں سے بخوبی واقف رہتے ہیں ۔تبھی موت سے گریزاں ہوتے ہیں۔
اس فانی دنیا سے ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہی جانے ہیں اس لیے خوش اخلاقی کو اپنا شعار بنا لیں کیونکہ زندگی زیادہ تر ناقابل دید نظاروں کا مجموعہ ہے جو کسی ناول یا ٹی وی پر نہیں دکھائے جاتے ۔
یہ آسان نہیں ہوتا، لمحہ لمحہ ہر لمحہ اپنے نفس پر پاؤں رکھنا پڑتا ہے۔ خود کو بتانا اور سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے، الله کی نگاہ میں درست نہیں ہے، اس سے بچنا ہے۔اپنی اصلاح خود کرنا پڑتی ہے اور بار بار کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر سکون قلب نصیب ہوتا ہے ۔جس کی مثال اداکارہ نائلہ جعفری میں ملتی ہے ان کے قریبی ساتھیوں کے بقول مرحومہ ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرتیں اور ہمیشہ سب سے مخلص ہو کر خوش اخلاقی سے پیش آتی تھیں ۔اداکارہ ندا یاسر کو انٹرویو دیتے ہوۓ انہوں نے بتایا کہ ایک دن طبیعت نہایت ناساز تھی ٹہلنے کی غرض سے لان میں موجود تھی کہ میرے سامنے ایک چڑیا چوں چوں کرتے ہوۓ دیوار پر نصب شیشے پر اپنی چونچ زور زور سے مارنے لگی ۔مجھے عجیب لگا کہ یہ ایسے خود کو تکلیف میں ڈال کر شور کیوں مچا رہی ہے ۔مگر میں سمجھ نہ سکی اور کمرے کی جانب چلی گئی۔شام کو جب باہر نکلی تو طبیعت میں موجود بے چینی ذرا کم تھی ۔وہ چڑیا اپنے ساتھی چڑے کے ساتھ اسی جگہ موجود تھی چوں چوں کرنے کے لیے ۔جیسے وہ کچھ کہہ رہی ہو، بتا رہی ہو ۔میں نے غور کیا تو بائیں جانب جھاڑیوں میں اس چڑیا کا ننھا سا بچہ پھنسا ہوا تھا ۔فوراً اس کو نکال کر اوپر دیوار کی جانب رکھا تو وہ اسے لے کر اڑ گئی ۔ آج کے دور میں جب انسانیت نے انانیت کا سفر طے کر لیا ہے ایسے میں جانوروں کی پکار تو کیا ہم تو انسانوں کی چیخ و پکار بھی سننے سے قاصر ہیں۔
نائلہ جعفری کی ایک اور ادا جو انہیں سب میں ممتاز کرتی تھی وہ یہ کہ وہ ہمیشہ پرجوش رہتی تھیں، ہمت نہیں ہارتی تھیں ۔مایوسی سے کوسوں دور رہتی تھیں ۔ان کے بقول موت سے جنگ کے دوران تین چیزیں،بیماری پر فوکس، مثبت سوچ، اور قناعت ہی آپ کو صحتیاب کر سکتی ہیں ۔اپنی بیماری کے دوران جس ہمت و حوصلے سے انہوں نے ملک و قوم کو مثبت پیغام دینے کی کوشش کی وہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے ۔ان کے کام کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق اور ایمانداری کو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا ۔دھیمے اور شائستہ لب و لہجہ کی مالکہ نائلہ جعفری کو اللہ پاک غریق رحمت کرے اور ہم سب کو موت جیسی اٹل حقیقت سے استقامت اور ہمت سے سامنا کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.