مغربی پروپیگینڈا اور انجلینا جولی کی منافقت ۔ مفت معلومات

مغربی پروپیگینڈا اور انجلینا جولی کی منافقت ۔ مفت معلومات

مغربی پروپیگینڈا اور انجلینا جولی کی منافقت ۔ مفت معلومات

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد افغان شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور افغانستان سے نکلنے

کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ امریکہ اور یورپ افغان شہریوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور خوف پھیلا کر اکسا رہےہیں

کہ افغانستان کو چھوڑ دیں وہ لوگوں کو ائیر پورٹ پر بلاتا ہے اور پھر گولیاں چلائی جاتی ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ

افغانستان سے نکل کر امریکہ یا برطانیہ جا کر اچھی زندگی گزاریں گے لیکن انہیں

خلیجی ممالک میں منتقل کیا جا رہا ہے جیسے ابوظہبی ،یو اے ای،قطر ،
ابو ظہبی کے ایک سینٹر میں پڑے افغان شہریوں کی کچھ تصویریں وائرل ہوئی ہیں جہاں ان کے

ساتھ براسلوک کیا جا رہا ہے ۔کوئی سہولیات نہیں دی جا رہی ،
امریکہ نے پہلے فورسز کو لڑنے پر مجبور کیا جب فورسز نے ہتھیار ڈال دیے تو اب بدامنی پیدا کرنے

کے لیے شہریوں کو استعمال کر رہا ہے ۔

جبکہ طالبان نے ایک پریس کانفرنس میں جو بی بی سی اور اخبارات کی زینت بنی واضح کیا ہے کہ
افغان شہری کابل ائیرپورٹ پر نہیں جائیں گے
امریکہ ہنر مند افغانیوں کے انخلا سے باز رہے ۔
ترجمان زبیح اللہ نے تمام افغانیوں کو تحفظ کا یقین دلایا ہے کہ جب عام معافی ہو چکی

تو شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ،
شہریوں کو مرنے کے لیے امریکہ کے حوالے نہیں کر سکتے ،
خواتین کی سیکیورٹی کا انتظام کیا جا رہا ہے اس کے بعد انہیں کام کرنے کی اجازت ہو گی ۔
جنکہ امریکہ دہشت پھیلا رہا ہے وہ دنیا کو یہ تاثر دے رہا ہے کہ طالبان نہ جانے کیا افغانستان میں کر رہے ہیں،

اس کے لیے وہ بہت سے لوگوں کو سامنے لے کر آرہا ہے جن میں سے ایک انجلینا جولی ہیں جو ایک اداکارہ ہونے

کے ساتھ اقوام متحدہ کی طرف سے مہاجرین کی خصوصی سفیر بھی ہیں ۔انجلینا نے انسٹا گرام پر ایک نیا اکاونٹ بنایا

جس پر راتوں رات ہی فولوورز کی تعداد 72 لاکھ سے بڑھ گئی۔اس نے اپنے انسٹا پر ایک افغان لڑکی کا خط شیئر کیا ہے

جس میں طالبان کی طرف سے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے ۔اس خط کے بارے میں اس نے بتایا کہ یہ خط ایک افغان نو عمر

لڑکی نے لکھا ہے کیونکہ افغان شہری سوشل میڈیا پر اظہار خیال کا حق کھو چکے ہیں اس لیے اب میں ان کی کہانیاں شیئر کروں گی

جو بنیادی انسانی حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں اور ان کی آواز بنوں گی ۔سوشل میڈیا پر اس کے خیالات کو سراہا گیا

مگر فاطمہ بھٹو جو بے نظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں نے مغرب اور انجلینا جولی کے دوہرے معیار اور منافقت کا پردہ چاک کیا اور تین ٹوئیٹ کیے ۔
پہلے میں فاطمہ نے اداکارہ پر

تنقید کرتے ہوئے کہا کچھ حقوق نسواں کے علم برداروں اور مشہور اداروں کے مطابق ایک ہفتہ قبل افغانستان جنت تھا ۔
یعنی امریکہ اور نیٹو فورسز کے ہوتے جو ظلم ہو رہا تھا بم پھینکے جا رہے تھے قتل ہو رہے تھے تو تب افغانستان جنت تھا

اب طالبان نے پر امن طریقے سے سب انجام دے لیا اور سب معمول پر

آنے لگا سوائے کابل ائیرپورٹ کے تو افغانستان ٹھیک نہیں ۔اپنے دوسرے ٹوئیٹ

میں فاطمہ نے کہا کہ افغانستان کے لیے آواز اٹھانے کا شکریہ اگلی بار فلسطین کے لیے بھی آواز اٹھائیےگا ۔
تیسری ٹوئیٹ میں کہا کہ کیا کسی نے انجلینا کو کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
لیکن ایسے الفاظ فلسطین اور کشمیر کے لیے بولتے ہوئے ان کی زبانیں ساتھ نہیں دیتی ہیں یہ صرف

وہاں بولتے ہیں جہاں ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں مغربی میڈیا اور اداکاروں نے

کبھی کشمیر ،فلسطین، شام پر آواز نہیں اٹھا ئی ۔یہی مغرب کا دوغلا پن ہے

کہ وہ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب یہ سب کر رہا ہے ۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.