مودی اپنوں کوڈسنے نے سے بھی باز نہ آیا۔پیگاسس نامی جاسوس سوفٹ وئیر کی مدد سے مودی نے بھارت کی اہم شخصیات تک کے فون ہیک کر کے ڈیٹا چُرا لیا۔ مفت معلومات

Modi government is big trouble in israeli Pegasus spyware - muft malomat

مودی اپنوں کوڈسنے نے سے بھی باز نہ آیا۔پیگاسس نامی جاسوس سوفٹ وئیر کی مدد سے مودی نے بھارت کی اہم شخصیات تک کے فون ہیک کر کے ڈیٹا چُرا لیا۔ اور پاکستان پر بھی اس کہ وار جاری ہیں۔ پرائم منسٹر عمران خان سے لے کر کئی عام سیاستدان بھی  بھی پیگاسس کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔
عالمی اداروں کی رپورٹ پر پوری دنیا کہ عام اشخاص نے اپنے اپنے موبائل تبدیل کرلیے ہیں اور مودی کو الٹا لٹکانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
مودی نے پیگاس کی مدد سے اپنے ہی مُلک کے لوگوں کی جاسوسی کیوں کی؟ کیا بھارت میں واقع ہی جمہوریت قائم ہے؟ کیا اس اسکینڈل کے بعد مودی حکومت اقتدار میں رہ پائے گی؟ آج ہم آپکو پیگاسس سوفٹویئر کی تمام تفصیلات سے آگاہ کریں گے جو کے آپکے ہوش اُڑا کر رکھ دے گی۔
کُچھ فن پہلے عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی حکومتیں اور مودی مل کر دُنیا بھر کی عام شخصیات کی حسساس معلومات اکٹھی کر رھے ھیں، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرونک ڈیوائسز کو ہیک کیا جا رہا ہے۔اس معلومات کی مدد سے متاثرہ شخص کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جانی تھی۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی کئی ممالک کے سربراہان جن کے موبائل میں پیگاسس نامی سوفٹویر پایا جاتا تھا انہوں نے موبائل تبدیل کر لیا ہے۔ ان افراد  میں پاکستان کے وزیراعظم اور فرانس کے صدر بھی شامل ہیں۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ مودی کی اس حرکت کا نشانہ اس کے اپنے ملک کے لوگ بھی بنے ہیں۔ مودی نے اس بارے میں یہ جواز پیش کیا کہ وہ اس سوفٹ وئیر کی مدد سے جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کی معلومات حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔
حیرت انگیز طور پر اس سوفٹوئر کا نشانہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور نامور بھارتی اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی بنے۔ پاکستان کی کابینہ کے ارکان سمیت دنیا بھر کے پچاس ہزار افراد کے فونز ہیک کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ مودی کی غیر اخلاقی پالیسایوں سے بھارت کی عوام سمیت پورا خطہ پولرائز ہوگیا ہے۔ دنیا بھر کے کئی ممالک پگاسس استمعال کرتے ہیں جو کہ جاسوسی کے لیے استمعال ہوتا ہے۔
مودی اور اسرائیل کے درمیان قربتیں عروج پر ہیں۔ بھارت اسرائیل سے برشمار اسلحہ بھی لیتا ہے۔ اسرائیل اور بھارت اپنے اپنے ہاں موجود مسلمانوں پر زلم وجبّر کرتے ہیں۔ جاسوسی سوفٹویئر کو بظاھر تو دہشت گردی کو روکنے کا لیے استمعال کیا جاتا ہے مگر بھارت نے اسکا استمعال اپنے گھنونے منصوبوں کے لیے کیا اور اس سے غیر اخلاقی جاسوسی بھی کی۔ یہ سوفٹویئر اسرائیل کا ضرور ہے لیکن اسکا یہ کہنا ہے کہ وہ صرف سرکاری ایجنسیوں کو یہ سوفٹویئر فراہم کرتی ہے اور اس سوفٹویئر کا استمعال بڑے جرائم کو روکنے کے لیے ہوتا ہے۔
یہ سوفٹویئر باقی جاسوسی سافٹویئر سے مختلف ہے ہے۔ باقی سافٹوئیرز کو کسی کے موبائل میں انجیکٹ کرنے کے لئے لیے کسی واٹس ایپ میسج کی ضرورت نہیں ہوتی نہ ہی کسی کلک کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس سافٹوئیر کو کسی کے موبائل میں انجیکٹ کرنے کے لئے صرف اس مطلوبہ شخص کا نمبر درکار ہوتا ہے۔
یہ سوفٹویئر ہر برانڈ کے فون میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ سوفٹویئر کسی کے موبائل میں انجیکٹ ہوجاتا ہے تو انجیکٹ کرنے والے کو آسانی سے موبائل کے مالک کا سارا ڈیٹا مل جاتا ہے۔ بھارت نے اسے اسکے اصل مقصد سے ہٹ کر استمعال کیا ہے۔ بھارت پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور اس نے اس سوفٹویئر کو پاکستان کے خلاف استمعال کیاہے۔ بھارت یہ سوفٹویئر ۲۰۱۶ سے استمعال کر رہا ہے۔
یہاں پر حیرت انگیز مدع یہ ہے کہ بھارت نے اپنے ہی ملک کے لوگوں کا بھی موبائل اس سوفٹویئر سے ہیک کروایا۔ مودی نے اپنے سب مخالفین کے فونز ہیک کروائے اور انکی بھی پرائیویٹ معلومات حاصل کی تاکہ وہ انکو چپ کرواسکے۔ بھارت ان سب معاملات پر تفشیش نہیں کر رہا اور مودی کا کہنا ہے کہ یہ اسکی حکومت کے خلاف ایک سازش ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.