موسمیاتی تبدیلیاں ایٹمی جنگ سے بڑا خطرہ دنیا کی تباہی۔ مفت معلومات

دنیا کی تباہی نزدیک ایک بہت بڑا خطرہ مُفت معلومات

موسمیاتی تبدیلیاں ۔۔ایٹمی جنگ سے بڑا خطرہ ۔۔دنیا کی تباہی

بی بی سی نیوز پر دو ہفتے قبل ایک رپورٹ خبروں کا حصہ بنی جو کافی تشویشناک تھی ۔ جس میں wake up callہےجو ہر ملک ہر حکومت ہر بزنس کمیونٹی ہر سوسائٹی اور ہر انسان کے لیے ایک پیغام ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارے IPCC

(Intergovernmental panel on climate change)

نے یہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں بہت سے ملکوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے ابھی اس رپورٹ کے ابتدائی 42 صفحات ہی پیش کیے گئے ہیں جن

میں کسی بھی عالمی جنگ سے بڑے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

سائنسدانوں کے مطابق انسانوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے زمین اس لال لکیر تک پہنچ گئی ہے کہ جس کے بعد دنیا کی تباہی ہی تباہی ہے ۔سائنسدان صدیوں سے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ہمارا ماحول خراب ہوتا جارہا ہے ،موسم بدلتے جا رہے ہیں حالات بگڑتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے زمین انسانوں کے رہنے کے موافق نہیں رہی جتنی پہلے کبھی تھی اور آنے والے وقت میں انسانوں کے لیے بہت سی چیزوں کی قلت ہو جائے گی مثلا ہوا ،پانی ،خوراک،آب وہوا اور وہ تمام چیزیں جو انسانی زندگی کے لیے

ضروری ہیں ۔

اس رپورٹ کے مطابق انسان اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے اس دنیا پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں ۔جس سے اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں 2 میٹر تک اضافہ ممکن ہے جس سے دنیا کے بے شمار شہر صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے اور وہاں انسانوں کا نام و نشان باقی نہ رہے گا ۔

اس رپورٹ میں اہم نقاط یہ ہیں کہ

زمین کا درجہ حرارت1850

سے 1900ء تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا 2011ء سے 20ء تک گرم رہا ہے ۔

گذشتہ پانچ برس 1850ء کے بعد سے

گرم ترین سال تھے ۔

پچھلے 70 سالوں میں سمندر کی سطح اتنی بلند نہیں ہوئی جتنی ان چند سالوں میں ہوئی۔

گلیشیئر اور قطب شمالی کی برف پگھلنے کی90فیصد وجہ انسانی عوامل ہیں ۔

اب آئیندہ گرمی زیادہ پڑے گی اور سردی کی کم ہو جائے گی ۔

اس تمام جائزے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 2040ء تک درجہ حرارت 5۔1

ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جائے گا اور جتنی اب گرمی پڑ رہی ہے اس سے کہیں زیادہ گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا

کیونکہ جب موسمیاتی تبدیلی ہوتی ہےتو گلیشیئر پگھلتے ہیں، درجہ

حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے، شدید بارشیں ہوتی ہیں، ہوا میں نمی ختم ہو جاتی ہے ،سیلاب آتے ہیں، خشک سالی گھیر لیتی ہے ،جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے ۔اگر انسان اپنی سرگرمیوں سے باز نہ آئے تو سب اور بھی پہلے ممکن ہے ۔

جس طرح پچھلے کچھ سالوں سے امریکہ اور یورپ بھی گرمی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے سے جنگلات میں خوفناک آتشزدگی ہو رہی ہے روس،امریکہ کینیڈا اور ترکی کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ۔اور آنے والے دنوں میں یہ آگ مزید پھیلے گی

کیونکہ ہوا میں نمی کم ہے ۔چین ،جاپان اور یورپ میں زبردست سیلاب آئے جس سے بہت جانی اور مالی نقصان بھی پہنچا ۔

بھارت میں بھی پچھلے آٹھ ماہ میں شدید بارشوں، سیلاب ،لینڈسلائڈنگ ،خشک سالی جیسی آفات سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔

زمین میں اس تباہی کی اصل وجہ کاربن گیسوں کا اخراج ہے جو انسان سے کنٹرول نہیں ہو رہی اور بگاڑ پیدا کر رہی ہیں جس سے گلوبل وارمنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔کاربن ڈائی، میتھین گیس اور گرین ہاوس گیسز کے اخراج سے ماحول میں تبدیلی آتی

ہے جو دنیا کے لیے تباہ کن ہے ۔گرین ہاوس گیسز درجہ حرارت متوازی رکھنے میں مدد دیتی ہیں لیکن اگر ان کے اخراج میں زیادتی ہو جائے تو دنیا کے کاربن سائکل میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ۔

عام طور پر ترقی یافتہ ممالک میں یہ سائکل بگڑا ہوا ہے جس سے دیگر ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں ۔دنیا میں سب سے زیادہ تباہی کی طرف لے جانے والے ملک جو گیسز کےاخراج سے کاربن چھوڑ رہے ہیں ان میں پہلے نمبر پر چین ہے پھر امریکہ، بھارت روس جاپان، جرمنی،کوریا اور ایران سر فہرست ہیں ۔

دنیا میں کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے کے لئے کچھ اقدامات کئے جا سکتے ہیں مثلا توانائی ان طریقوں سے پیدا کی جائے کہ کاربن ڈائی نہ لگے ۔تیل اور کوئلے کو جلانے کی بجائے پانی ہوااور سولر سے بجلی بنائی جا سکتی ہے ۔اسی طرح ایسی چیزیں استعمال کی جائیں جو کاربن نہ چھوڑیں ۔

اگر ہم آج مل بیٹھ جائیں اور بڑے پیمانے پر پوری دنیا اس تباہی سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کرے تو شاید ہم اس خطرے سے نکل سکیں ورنہ اس معاملے میں جتنی دیر ہوتی جائے گی اتنی ہی گنجائش کم ہو گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.