” نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے بے حیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے٬ اور اللہ سے بڑھ کر کوئی اپنی تعریف پسند کرنے والا نہیں ہے۔” (صحیح بخاری – 5220)

احادیث مبارکہ اسلامک مفت معلومات

ہمارے ہاں بے حیائی کو جیسے فروغ مل رہا ہے کچھ دور نہیں کہ کچھ ہی عرصہ میں ہمارا اسلامی ملک صرف نام کا ہی اسلامی لگے گا ایسا لگے گا جیسے ہم مغربی ملک میں آ گئے ہیں۔ اس ہے کسی بھی ڈرامہ میں اداکارہ جو لباس زیب تن کرتی ہمارے گھروں میں ویسا ہی لباس پہننے کی خواہش ظاہر کر دی جاتی ہے۔ کیونکہ ہمارے گھروں میں دین نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہم نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں۔

آج کل جو پردے کا یا عورت کو چھپ جانے کا بولتا ہے اسے تنگ نظر اور تنگ دماغ سمجھا جاتا ہے۔ اور جو مرد عورت کے ساتھ گپ شپ کرتا اسے ہوٹلوں میں بے ہودہ لباس پہنے لیے گھومتا ہے اسے ہم براڈ مائنڈڈ انسان کہتے ہیں۔

یہ سب کام اس بے حیائی کی وجہ سے ہو رہے جو آج ہمارے گھروں میں فری چل رہا اور سارا دن اور ساری ساری رات چلتا اس پے کوئی دینی مسائل نہیں چل رہے اس پہ رقص چلا رہا ہوتا اور وہ بھی مسلمان عورتوں کا جو صرف نام کی مسلمان رہ گئی ہیں۔ اس پے ایسی بیٹی دیکھائی جا رہی ہوتی ہے جو ماں باپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کے اپنے بوائے فرینڈ کو ملنے جاتی ہے صرف اس لیے کے اسے اپنے محبوب کو یقین دلانا ہوتا ہے کے وہ اس سے بالکل سچی محبت کرتی ہے۔اس ٹی وی میں ایسی بہو دیکھائی جاتی ہے جو صبح بارہ بجے تک سوتی ہے اور بچے بھوکے سکول جا رہے ہوتے ہیں نوکر بچوں کو تیار کر کے سکول بھیج رہے ہوتے ہیں اور ایسی  سازشی ساس دیکھائی جاتی ہے جو ایسے گھر توڑنے میں لگی ہوتی ہے کہ شیطان بھی کہتا ہو گا کہ یہاں میری کیا ضرورت یہاں ساس میرے حصے کا کام زیادہ اچھے طریقے سے کر رہی ہے۔ اور وہی کچھ حقیقت میں اس اسلامی ملک میں ہو رہا ٹی وی پے صرف آئیڈیاز دیے جاتے مگر پھر حقیقت میں وہی کچھ ہمارے گھروں میں ہوتا ہے۔ 

اللّٰہ تعالیٰ نے تو ہمیں کہا تھا کہ ہم دوسرے کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں تو یہ کیسا دین چل رہا ہمارے معاشرے میں جہاں ہر کردار صرف ایک ہی کام کر رہا دوسروں کی ٹوہ لینا۔ اور اس کام میں صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی برابر شامل ہیں۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش میں لگے۔ 

لیکن ہمیں تو قرآن میں کہا گیا ہے کہ: ” نیک کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔”

القرآن (سورۃ البقرہ –142)

اور اللّٰہ تو ہمیں یہ بھی کہتے ہیں کہ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں تاکہ تم سبق لو مگر یہاں بیٹا ماں کی نصیحت پے عمل کر کے بے گناہ بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اس کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کرتا صرف اس لئے کہ اس کی ماں نے اس کے خلاف چند ایک باتیں کر دیں۔ اور اس بات کو یہ کہہ کے ثابت کیا جاتا ہے اللّٰہ نے کہا ہے کہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرو جو وہ کہتے ہیں انکا کہنا مانو لیکن اللّٰہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ماں باپ کے کہنے پر ایک کمزور پہ ظلم کرو۔

اگر یہ بات ہے تو اگر وہ کل کو کہیں بیٹا نماز نہیں پڑھو تو کیا چھوڑ دو گے نماز؟ نہیں چھوڑ سکتا ماں باپ کے کہنے پر کوئی بھی بندہ نماز نہیں چھوڑ سکتا کیوں کہ نماز ہی تو مسلمان اور کافر میں فرق کرتی ہے۔

” اللّٰه عدل اور احسان اور صِلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ اور بدی اور بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔”

(سورۃ النحل — 90)

(سطوت)

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.