نور مقدم اور ظاہر جعفر کے کیس کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔آخری پچاس میں گھنٹوں میں کیا کیا ہوا۔

Noor muqadam and zahir case k new inkashaaf

نور مقدم اور ظاہر جعفر کے کیس کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔آخری پچاس میں گھنٹوں میں کیا کیا ہوا۔

آپ کو اس تحریر کو پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ پاکستان میں الیٹ کلاس کس حد تک جا چکی ہے۔آپ نے پاکستان میں موجود ایلیٹ کلاس کو جن عیاشیوں میں ملوث دیکھا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ کو اس کیس کے انکشافات سے اندازہ ہو گا کہ یہ لوگ کن بڑی اور شیطانی طاقتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

اب آپ کو بتاتے چلیں کہ آخری پچاس گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا کہ جو آپ کا دل دہلا کر رکھ دے گا۔ ظاہر جعفر نے اس واردات کے دوران پندرہ لوگوں سے رابطہ کیا۔ اس واردات کے دوران جس میں اس نے نور کو قید کیا، اس کو چاقو سے زخمی کیا، اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیا وہ اس دوران پندرہ لوگوں سے رابطے میں تھا۔

نور مقدم ہم اور ظاہر جعفر کے خاندانوں کے درمیان بہت گہرے تعلقات تھے۔ حقائق یہ سامنے آرہے ہیں کہ قتل سے 8،9 ہفتے پہلے نور مقدم کا ظاہر جعفر سے سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ان کے آفیشل نمبرز پر سے ان کے رابطے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ مگر نور مقدم کو قتل سے کچھ دن پہلے کسی کا میسج آتا ہے کہ ظاہر جعفر لندن جا رہا ہے اس کی بکنگ ہو گئی ہے وہ اس اس ٹائم پر جارہا ہے۔ یہ میسج کس کا تھا؟ ابھی تک پتہ نہیں چلایا جا سکا۔ اس کے بعد صورت حال یہ پیدا ہوئی کے کے نور مقدم کہ والدین اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے۔ نور مقدم اور ظاہر جعفر کے موبائل کی لوکیشن بھی اکٹھی ملتی رہی۔ نور مقدم کا فون کبھی بند ملتا تو کبھی آن ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کہ نور کے والدین کی ظاہر جعفر سے 19 منٹ بعد چیت بھی ہوتی رہی اس کے علاوہ بھی ظاہر کی گفتگو نور کے والدین سے ہوتی ہے۔  نور قدم کے والد جن کے تعلقات انٹیلیجنس ایجنسی سے بھی تھے اور وہ اتنی پاور فل شخصیت تھے انہوں نے ان سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ بیٹی اتنی دیر غائب رہی۔ اب اس میں یہ چیز بھی سمجھنے والی ہے کہ نور کے والدین کی ظاہر جعفر سے 19منٹ کیا گفتگو ہوتی رہی؟ اب تحقیقات اس بات پر ہونی چاہیے کہ مارنے سے پہلے ظاہر جعفر جو پندرہ لوگوں سے رابطے میں تھا وہ ان سے کیا گفتگو کرتا رہا؟ اس کے علاوہ بھی ظاہر کا پہلے بیان یہ تھا کہ میں نے نور کو نہیں مارا مگر اچانک امریکن ایمبیسی کے لوگ آ کر اس سے ملتے ہیں اور ظاہر کا بیان بدل جاتا ہے کہ میں نے ہی نور کو قتل کیا ہے۔

کیس میں یہ بات واضح ہے کہ نور اپنی جان بچا کر گیٹ تک بھی بھاگ گئی چیخ و پکار بھی کی، چوکیدار سے مدد بھی مانگی مگر اس کی مدد کسی نے نہیں کی۔

نور مقدم دو دن سے گھر سے غائب تھیں ان کی ظاہر سے بات چیت بھی ہوئی سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ نور کے والدین نے کوئی سخت ایکشن کیوں نہیں لیا؟ جعفر کے طریقہ قتل سے یہ بات صاف ہے کہ وہ بلی دے رہا تھا۔ جب وہاں پر پولیس آئی، لوگ آئے انہوں نے آکر نور کا سر دھڑ سے الگ دیکھا اور یہ بلی دینے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ محلے دار بھی نور کی چیخیں سنتے ہوں گے کیونکہ وہ پہلے نور کو کاٹ رہا تھا اس کو چاقو سے مار رہا تھا۔ نور چیخ چلا رہی تھی محلے دار بھی اس پر کچھ نہیں بولے کیونکہ وہ پاور فل لوگ تھے۔ آخرکار بات یہ بھی سوچنے والی ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے یہ کیوں پوچھتا رہا کہ اگر میں اپنے ماں باپ کو مار دوں یا میں کسی کو قتل کر دو تو کیا امریکہ مجھے بچا لے گا۔وہ یہ سوال کیوں کر رہا تھا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.