ورلڈ آرڈر شروع ہوچکا ہے اور پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ رہی ہے – مفت معلومات

ورلڈ آرڈر شروع ہوچکا ہے اور پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ رہی ہے - مفت معلومات

ورلڈ آرڈر شروع ہوچکا ہے اور پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ رہی ہے یہ ابھی آپ کو عروج پر جاتا نظر آئے گا۔ عرب سپرنگ، جو بھی عربوں کے متعلق احادیث ہیں وہ بھی آپ کو اس میں پوری ہوتی نظر آئیں گی کیونکہ ورلڈ آرڈر شیطانی طاقتوں کا ایک کھیل ہے۔ اس وقت صورت حال یہ پیدا ہوئی ہے کہ تیونس کے اندر عرب سپرنگ بند ہوچکا تھا جو بن کے آنے کے بعد عرب سپرنگ کی شروعات ہو چکی ہے۔
ورلڈ آرڈر کا ایجنڈا یہ ہے کہ جن ممالک میں اس وقت بادشاہت قائم ہے ان میں سب سے پہلے جمہوریت کا نظام قائم کیا جائے کیونکہ جمہوریت میں اپنی مرضی کے روبوٹ چن لیتے ہیں پھر ان سے اپنی مرضی کے کام کرواتے ہیں جو کہ پاکستان سمیت ہر جگہ پر پورے زور و شور سے ہو رہا ہے۔
پچھلے چار پانچ سالوں سے جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہا ہے اس میں 90 فیصد تک واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عرب سپرنگ اور نیو ورلڈ آرڈر کو شروع کیا جائے اور جمہوریت کا نظام لا کر دنیا پر کنٹرول حاصل کیا جائے

یہ سلسلہ تب سے شروع ہوا جب ایک نوجوان یونیورسٹی کا گریجویٹ جس کو نوکری نہیں ملی اس نے پھل بیچنا شروع کر دیئے اس وقت پہلی بار عرب سپرنگ شروع ہوا اور اس کے کے فروٹ کا سارا سامان ضبط کر لیا گیا اور ایک فی میل پولیس اہلکار نے اس کو تھپڑ مارا اس شخص نے اس واقعے کے بعد اپنے آپ کو آگ لگا لی اور اس سے پورے ملک کے اندر احتجاج شروع ہو گیا اس میں سی آئی اے اور نیو ورلڈ آرڈر والے سارے شامل ہوئے۔یہ واقعہ ہوا اور یہ نوجوان انتقال پا گیا۔

اس سے پھر پورے نارتھ افریقن کنٹری تیونس کے اندر احتجاج شروع ہوا۔یہ احتجاج اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ اس وقت کے ڈکٹیٹر زین العابدین سعودی عرب بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد 2019 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن یہ احتجاج جنگل کی آگ کی طرح پھیلنا شروع ہوگیا اور پانچ ممالک اس کی لپیٹ میں آئے جن میں لیبیا، یمن، مصر، شام، بحرین، شامل ہیں اور اس کی وجہ سے ان ممالک کے اہم ارکان کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے ہے کہ یہ سب کچھ خود سے نہیں ہو رہا تھا بلکہ کروایا جا رہا تھا تھا تاکہ دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر ایک دفعہ پھر متعارف کروایا جائے یہ احتجاج اب اور بھی ممالک میں آنا تھا لیکن جب اس کے متعلق خبریں چلی تو کافی ملک اس سے آگاہ ہو گئے۔ سعودی عرب اور یو اے ای سمیت دیگر ممالک میں بھی یہ احتجاج ہونے جا رہا تھا مگر ان ممالک نے اربوں ڈالر بہا دیے تاکہ یہ احتجاج ختم کروایا جاسکے۔

یہ سب واقعات بڑھتے گئے کیونکہ کرونا آگیا اور اس کے باعث بھی لوگوں کی نوکریاں گئیں اور ملک کی اکانومی تباہ ہوئی۔ پوری دنیا ان سب واقعات کا ذمہ دار اسرائیل طاقتوں کو سمجھتی ہے۔
ان سب واقعات میں یہ یاد رکھیں کہ اُس وقت جو بڈن وائس پریذیڈنٹ تھا اور اس وقت پریذیڈنٹ ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ان سب واقعات کی وجہ سے جو نوکریاں گئیں جو تباہیاں ہوئیں اس کی وجہ سے پوری دنیا کا نیو ورلڈ آرڈر بدلہ ہے۔

اس وقت جو بھی دنیا میں چل رہا ہے وہ اس نظام کی وجہ سے چل رہا ہے۔ اب بات آتی ہے کہ بادشاہت کا نظام ختم کروا کر جمہوریت لانا تھی کیونکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ دنیا پر حکومت کر سکے۔ ایسا کرنے سے ان کا کنٹرول بڑھ جائے گا تو نظام بدلے گا اور بڑے بڑے اپنے اقتدار سے جائیں گے۔ امریکہ جن جن ممالک کا تختہ الٹنا چاہتا ہے وہاں احتجاج شروع کروا دیتا ہے۔ پوری دنیا کے اندر کرنسیز کا بیڑا غرق ہو رہا ہے۔ ابھی یہ شروعات ہے آہستہ آہستہ یہ دنیا کے ہر ملک میں جائے گا اور سب سے زیادہ عرب ممالک میں جائے گا کیونکہ وہاں بادشاہت کا نظام بہت عمدہ ہے اور یہ وہاں بادشاہت کا نظام بگاڑنا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.