پاکستانی میزائل امریکہ کو تباہ کر سکتے ہیں؟ ۔ مفت معلومات          

پاکستانی میزائل امریکہ کو تباہ کر سکتے ہیں . muftmalomat 

پاکستانی میزائل امریکہ کو تباہ کر سکتے ہیں؟ ۔ مفت معلومات

       پاکستانی افواج دنیا کی بہترین افواج میں  شمار ہوتی ہے جبکہ پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی شائد ہی کسی دوسرے ملک

کے پاس موجود  ہو اس بات کی تصدیق خود دشمن بھی کرتا ہے۔پاکستان کی خطرناک ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے

سے حال ہی میں امریکہ کے ایک حاضر سروس جنرل نے یہ دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے میزائل امریکہ کے پرخچے

اڑانے کے لئے کافی ہیں ۔اس دعوے نے بھارت سمیت امریکہ کے اوسان خطا کر رکھے ہیں ۔
کیا واقعی پاکستان کی ٹیکنالوجی امریکی ٹیکنالوجی سے بہتر ہے ؟؟
اگر پاکستان امریکہ پر میزائل فائر کرے تو کیا پورا امریکہ تباہ ہو سکتا ہے؟؟
امریکہ نے یہ دعوی کیوں کیا ؟؟

ہ بات 100% درست ہےکہ پاکستان نے ملکی سطح پر ہتھیار بنانے میں وہ مہارت حاصل کر لی ہے جو کبھی امریکہ اور روس

کے پاس تھی آج الحمداللہ کم بجٹ رکھنے کے باوجود پاکستانی فورسز اس مقام تک پہنچ گئی ہیں کہ جسے دیکھ کر بخوبی کہہ

سکتے ہیں کہ پاکستان بہت جلد بڑی قوت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا۔

پاکستان نے 2000ءسے 2021ءکے درمیان اگر کسی چیز میں ترقی کی ہے تو وہ میزائل  ٹیکنالوجی ہے کیونکہ پاکستان اپنے دفاع میں

ایسے ایسے میزائل شامل کر چکا ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور کے جنرل بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت

کو دیکھ کر امریکہ بھی پاکستان سے خطرہ محسوس کرنے لگا ہے۔بے شک  میزائل ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی دفاعی صلاحیت میں

ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔

پاکستان 1998 میں ایٹمی قوت بنا تو پاکستانی سائنسدانوں، انجنیئرز اور ٹیکنیشنز کی ان تھک محنت نے اسے روایتی دشمن بھارت پر

فوقیت دلا دی ۔پاکستان 98ءمیں اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا ایٹم بم بنانے کے بعد پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی

کے لئے بہت سے چیلنجز درپیش تھےلیکن وطن عزیز کے سائنسدانوں اور انجینئرزکی محنت رنگ لائی اور پاکستان نے میزائل

ٹیکنالوجی میں دشمن کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈکٹرائن بھی ناکام بنا دی گئی آج پاکستان کی بیلاسٹک میزائل

ٹیکنالوجی میں 60کلومیٹر سے 2750 کلومیٹر تک فائر کرنے والے میزائل موجود ہیں ۔کروز ٹیکنالوجی میں بھی پاکستان فضا،زمین

اور سمندر سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکاہے پاکستان کا کروز میزائل 450 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو لامیابی سے

نشانہ بنا سکتا ہے۔نیو کلیئر میزائل ٹیکنالوجی میں اہم اہداف کے حصول کے بعد

پاکستان نے کم سے کم دفاعی صلاحیت کی

پالیسی کو موثر انداز میں اگے بڑھایا۔multiple independent  re-entery    vehicles missile Abbabeel

کے تجربے سے پاکستان کی

میزائل

سازی کی لاگت میں  نمایاں کمی آئی ہے ۔زمین سے زمین تک مارک کرنے والے

tectical نصر میزائل نے بھی بھارت کی کولڈسٹارٹ ڈکٹرائن کا منصوبہ خاک میں ملا دیا ۔آبدوز سے کروز میزائل بابر3کے کامیاب تجربے

نے بھارت کی برتری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔اسی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکہ کے ہوش اڑا دیئے ۔گزشتہ دنوں ایک

حاضر سروس امریکی جنرل نے بیان دیا کہ پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی میں بڑے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ کر ہمیں حیران کر دیا ہے

پاکستان اپنے دفاع میں ہر طرح سے مار کرنے والے  میزائل شامل کر چکا ہے جن کی بدولت موجودہ وقت میں پاکستان پر حملہ  کرنا سب

سے بڑی بےوقوفی ہے ۔پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری طاقت کو دیکھ کر دشمن یہ سمجھ گئے ہیں کہ پاکستان پر

ہاتھ ڈالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ۔امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طاقت کی بڑی وجہ میزائل ہیں جو بھارت اور اسرائیل کو

نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اس کے علاوہ بھی پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے

جن کی رینج امریکہ تک ہے اس لئیےامریکہ کو چاہیے کہ پاکستان سے تعلقات بہتر کرے تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے ۔

اس بیان سے یی بات واضح ہوتی ہے کہ امریکی حکام بھی پاکستانی دفاعی ٹیکنالوجی سے

خوفزدہ ہیں اور ہر پلیٹ فارم پر پاکستانی انجینئرز کی تعریف کی جا رہی ہے ۔الحمداللہ پچھلے 20 سال میں پاکستان نے

وہ میزائل اور دیگر دفاعی ہتھیار تیار کئے ہیں کہ جن کو بنانے میں امریکہ، روس اور فرانس کو 50 سال لگے اور بھارت ابھی بھی

ان ہتھیاروں کو دوسرے ممالک سے خرید رہا ہے جن میں بڑی تعداد ٹینکوں اور ڈیفنس سسٹم کی ہے ۔امریکی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں

کہ اب پاکستان کو ہر طرح سے ایک مضبوط ملک تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان نے اپنے  دشمنوں سے بھی خطرناک ہتھیار بنا لئے ہیں

جو پاکستان کو ہر میدان  میں ہر طرح سے مضبوطی عطا کر رہے ہیں ۔

پاکستان کا 37 میل یعنی 60 کلومیٹر تک مارک کرنے والا نصر نامی میزائل ایسا جوہری میزائل ہے جو امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے۔

حتف میزائل ایک ملٹی ٹیوب بیلسٹک میزائل ہےجس میں ایک سے زائد میزائل فائر کئے جاتے ہیں ۔غزنوی سپرسونک میزائل زمین سے زمین

تک مارک کرتا ہے اس کی رینج 290 کلومیٹر ہے۔ابدالی سپر سونک بھی زمین سے زمین تک 180کلومیٹر تک مارک کرتا ہے ۔غوری میزائل

میڈیم رینج کا میزائل ہےجو زمین سے زمین تک 750 کلو وزن اٹھا کر 1500 کلومیٹر تک مارک کرتا ہے ۔شاہین1بھی ایک سپر سونک میزائل ہے

جو 750 کلومیٹر تک روایتی اور جوہری مواد لے جا سکتا ہے ۔

غوری2اور شاہین 2 ایسے بیلسٹک میزائل ہیں جن کی رینج 2000کلومیٹر ہے ۔شاہین3جو 9مارچ 2015ءکو ٹیسٹ کیا گیا

اس کی رینج 2750 کلومیٹر تک ہے جس کی بدولت دشمن اب رینج میں آگیا ہے ۔دوسری طرف ابابیل بیلسٹک میزائل کے

کامیاب تجربے کی بدولت پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جو ایک ہی میزائل سے بیک وقت کئی ایٹم بم داغ کر دشمن

کے ایک سے زائد اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔اورمحض ایک میزائل تجربے کے ذریعے میزائل شکن نظام کو بے

اثر بنا دیا ہے اور اس شعبے میں  بھارت کی اربوں کی سرمایہ کاری کو ڈبو دیا ہے ۔
پاکستانی مسلح افواج نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر دیا ہے ۔حال ہی میں نیپال میں بین الاقومی سطح پر ہونے والے مہم جوئی

کے مقابلوں میں پاکستان نے طلائی تمغہ جیت لیا ۔ان مقابلوں میں 20 ٹیموں نے شرکت کی تھی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.