پاکستان اور چائنہ نے امریکہ کے خلاف تحقیقات مکمل کر لیں۔ مفت معلومات

Pakistan and China Have Completed the Investigation on US and India -world hd videos

اکستان اور چائنہ نے امریکہ کے خلاف تحقیقات مکمل کر لیں۔
پورے پاکستان سمیت ہر جگہ یہ ڈسکشن ہوتی رہی کہ دھاسو ڈیم کا واقعہ ہو، ٹاؤن واقعہ ہو یا اس کے علاوہ چائنہ کے انجینئرز کو قتل کیا گیا ان کا واقعہ ہو یہ سب انڈیا کی ایجنسی RAW کروا رہی تھی اور سی آئی اے بھی اس میں ملوث تھی۔ پاکستان نے اپنی انٹیلیجنس ایجنسی کے ذریعے چائنہ کے ساتھ ملکر اپنی پوری ایک رپورٹ تیار کر لی ہے جس کی گونج انٹرنیشنل سطح پر آپ کو ملے گی۔ دھاسو ڈیم واقعہ، جوہر ٹاؤن واقعہ اور افغانستان کے ایمبیسیڈر کی بیٹی کے اغواہ کا پورا کا پورا پلان واشنگٹن ڈی سی میں تیار ہوا۔ افغانستان کے امبیسڈر کی بیٹی پاکستان آنے سے پہلے امریکہ میں تھی۔ وہاں سے نکل کر وہ پاکستان آئیں اور اس کے پیچھے بھی سی آئی اے نے ایک سکرپٹ تیار کی ہوئی تھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ان کو عمران خان کی طرف سے جو ان کی اسٹیبلشمنٹ کو جگہ نہیں ملی اس کی طرف اشارہ تھا۔ یہ وہ کیس ہے جس میں پرائم منسٹر خود شامل ہوے کیونکہ  انٹیلی جنس ایجنسی نے ان کو صاف بتا دیا۔ عمران خان اس کے اس کیس کو لے کر ڈٹ چکے ہیں اور وہ ہی امریکہ کا سامنا کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے ہی امریکہ کو منھ توڑ جواب دینا ہے۔
انڈیا اتنا طاقتور نہیں ہے کے وہ یہ پلیننگ اتنے بڑے پیمانے پر کرلے امریکہ ان کے ساتھ ملا ہوا ہے اور سی آئی اے کے ذریعے یہ سب منصوبے بنا رہا ہے۔
امریکا اب انڈیا کے ساتھ مل کر منصوبے بنا رہا ہے کیوں کہ اس کی اور کسی کے ساتھ دال نہیں گلی۔ امریکا اس وقت جو منصوبہ بنا رہا ہے وہ بڑا خطرناک منصوبہ ہے۔ اب امریکہ نے سیکرٹری بلنکن کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا ہے کہ افغانستان کا بدلہ انڈیا کے اندر لیا جائے گا۔ انڈیا کی دو ریاستیں اس وقت لڑی ہوئی ہیں اور میزوں رام کے چیف منسٹر کہتے ہیں کہ کوئی آسام نہ جائے اور آسام کے چیف منسٹر کہتے ہیں کہ کوئی میزو آرام نہ جائے۔ یہ تنازعہ مودی کے مفاد میں ہے۔ کیوں کہ وہ لوگوں کا کسی بڑی چیز سے دھیان ہٹانا چاہتے ہیں اس وجہ سے وہ ان کا دھیان اس مسئلے پر لگا رہے ہیں۔ امریکہ اس میں شامل ہوگا اور ان کے شامل ہونے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوگی وہ پاکستان کو بھی اس میں شامل کر لے گا۔ اس سب صورتحال میں وہ ہرگز چائنہ سے دھیان نہیں ہٹائیں گے بلکہ ان کے خلاف بھی کوئی نہ کوئی منصوبہ بنتا رہے گا۔ امریکہ چونکہ گلگت بلتستان اور اور مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر ان دونوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا تھا۔ مگر چائنہ بھی ان کو آزاد کروانا چاہتا ہے۔ چائنہ یہ چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر انڈیا سے الگ ہو کر آزاد ہو جائے۔ چائنہ کے مفاد میں یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی فوج وہاں رکھے اور اس کو سی پیک کے لئے استعمال کریں۔ امریکہ اس دوران آرہا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے وہاں جگہ نہیں ملی تو وہ اب انڈیا میں اپنے پاؤں جما رہا ہے۔ اس کے بعد وہ پاکستان پر حملے کی تیاری کرے گا۔ اس وقت پاکستان کو سارے ثبوت مل چکے ہیں اور وہ اس کا پورا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کے لئے بلا شبہ یہ بہت کٹھن صورت حال ہے۔   کو اب اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا اور ایک بہترین منصوبہ بنانا ہوگا۔

ِ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.