پاکستان کو امریکہ کے بڑے اسٹرائک کرنے کا پلان پہلے سے ہی پتا چل گیا۔ مفت معلومات

Pakistan's plan to launch a major US strike was already known. Free information

پاکستان کو امریکہ کے بڑے اسٹرائک کرنے کا پلان پہلے سے ہی پتا چل گیا۔

معید یوسف،آئی ایس آئی کے چیف امریکہ کو دبردوس کرنے امریکہ کے دورے پر ہیں۔ معیدیوسف امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ امریکہ کے ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل ایسٹبلشمنٹ کے اندر بھی ان کا ایک اچھا خاصا اثر و رسوخ ہے۔

امریکہ نے افغانستان کے اندر بہت بڑے پیمانے پر اسٹرائک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس میں بے شمار بمباری کا سامان استعمال کرنے جا رہے ہیں۔ یہ بمباری  اتنی شدید نوعیت کی ہوگی جو آج سے پہلے نہ کبھی ہوئی۔

پاکستان اس پروجیکٹ کے خلاف ہے اس سلسلے میں معید یوسف اور آئی ایس آئی کے چیف امریکہ کہ اسٹیبلشمنٹ کا پیغام لے کر جا رہے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اس رد عمل کا یہ واضح مطلب ہے کہ پاکستان وہاں پر اس قسم کی کوئی بھی اسٹرائک برداشت نہیں کرے گا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے اندر کوئی بھی خانہ جنگی منتقل ہو۔امریکا کو اس پروجیکٹ کے لیے پاکستان کی ائیر سپیس کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکہ کو اپنی ایئر سپیس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان میں کسی بھی قسم کی سٹرائک طالبان کے ساتھ لڑائی اور بڑھا سکتی ہے۔ یہ ایک میجر ڈویلپمنٹ ہے جو کہ امریکہ کو واضع کرنے کے لئے پاکستان کی طرف سے معید یوسف اور آئی ایس آئی کے چیف جارہے ہیں۔

اس کے علاوہ داسو ڈیم کے متعلق بھی بات چیت ہوگی۔ پاکستان کی طرف سے وہ تمام ثبوت لے جائے جارہے ہیں جس میں امریکہ نے ڈیم کے منصوبے کو بیک کیا اور  یہ تمام کے تمام ان کی ٹیبل پر رکھے جائیں گے یہ بات واضح کریں گے کہ آپ ٹی ٹی پی کو بیک کرنا چھوڑ دیں ورنہ چائنہ آپ کے کے خلاف اس لیول کی جنگ کرے گا کہ ہمیں چائنا کا ساتھ دینا پڑے گا۔ یہ پاکستان پہلی بار دو ٹوک الفاظ میں امریکہ سے بات کرےگا۔

اب امریکہ چاہتا ہے کہ انڈیا ان کی مدد کرے اور انڈیا اپنی فورسز وہاں بھیجے مگر انڈیا جانتا ہے کہ افغانستان کے پاکستان اور چائنہ کے ساتھ تعلقات کافی اچھے ہیں۔ وہ بھی اس منصوبے سے نکلنا چاہتا ہے کیونکہ انڈیا کو یہ خدشہ ہے کہ اگر وہ امریکا کا ساتھ دے دے تو افغانستان کشمیر کا رخ کرے گا۔وہ امریکہ سے اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں اگر انڈیا ان کا ساتھ دے دے تو افغانستان کشمیر کا رخ نہ کرے۔

انڈیا کسی صورت اس جنگ کو اپنی سرحدوں تک نہیں لانا چاہتا وہ چاہتا ہے کہ امریکہ ان کے ساتھ رہے کیونکہ باقی ممالک جیسا کہ رشیا، چائنہ اور پاکستان اب افغانستان کے ساتھ ہیں اور اگر انڈیا امریکا کا ساتھ دے گا تو مودی کو بھی ہیومن رائٹس کو نظر انداز کرنے پر جواب دے ہونا ہوگا۔ انڈیا اس وقت سوچ میں ہے کہ ان کو اس منصوبے کا حصہ بننا ہے کہ نہیں کیونکہ وہ ہر طرف سے پھنس چکا ہے اور فیصلہ کرنا کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.