پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے- مُفت معلومات

پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے

پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان، روس،چائنااور امریکہ کی بڑی میٹنگ دوہا قطر میں 11اگست کو ہونے جا رہی ہے۔یہ وہ طاقیں ہیں جو دنیا کا مستقبل طے کرنے جا رہی ہیں اب صحیح معنوں میں پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ہوں گے ۔اہل نظر اور بزرگ کہتے آ ے تھے کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ہوں گے اور آج ایسا ہونے جا رہا ہے ۔جبکہ افغانستان کے معاملے پر انڈیا کا بہت بڑا حال ہے انڈیا نے روس کو کہا ہے کہ وہ اس میٹنگ میں شریک ہونا چاہتا ہےاور اپنے میڈیا پر یہ خبر نشر کر دی کہ روس نے ہمارا پرپوزل قبول کر لیا ہے اور انوائٹ کر دیا ہے اور انڈیا  دوہا کی  میٹنگ میں شریک ہونے جا رہاہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ روس نے انڈیا کو صاف انکار کردیا ہے کہ ہم آپ کو میٹنگ میں شامل نہیں کر سکتے ہیں ۔ضمیر کابلوگ  جو دوسرے کی طرف سے افغانستان میں صدر پیوٹن کے اسپیشل انوائے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کا افغانستان کے اندر نہ کوئی اثر ہے اور نہ طالبان پر ،نہ اس کا کوئی بارڈر لگتا ہے تو ہم اسے کیوں اس میٹنگ میں شامل کریں۔امریکہ تو اکراس میں بیٹھا ہوا ہے روس کا اس کھیل میں اہم کردار ہے کہ سینٹرل ایشیا ممالک جو کبھی روس کا حصہ تھے۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ چائنا کا بارڈر لگتا ہے اور اہم بات پاکستان کا بارڈر لگتا ہے۔لہذا ماسکو میں جو کانفرنس ہوئی تھی اس میں بھی انڈیا کو نہیں بلایا گیا تھا اور اس پر چیخا تھا۔اس وقت بھی انڈیا کوشش کر رہا کہ یہ معاملہ  حل ہو جائے لیکن پاکستان ۔چائنا اور طالبان نے اس کو توجہ نہ دی اور روس نے اس کو اٹھا کر کھیل سے ہی آوٹ  کر دیا ۔اصل میں  انڈیا، امریکہ کے ساتھ لابنگ کر رہا ہے کہ روس  کو اس کے خلاف کر دیا ہے اور وہ پاکستان، چائنااور طالبان کے ساتھ آجائیں گے تو مجھے کچھ ریلیکسیشن دیں تاکہ میں ان کے ساتھ تعلقات بھی رکھوں اور معاملات بھی طے کروں جبکہ انڈیا کا تعلق  بس اتنا ہے کہ اگر طالبان کسی جگہ یا ہسپتال میں  علاج کے لئے جائیں تو انڈیا  ان پر حملہ کر دے اور طالبان اسے سخت ناپسند کرتے ہیں جہاں تک پاکستان  اور روس کی بات ہے تو جو گرینڈ کھیل ہونے جا رہا ہے امریکہ کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا جائے گا کہ وہ علیحدگی پسند تحریکوں کو بیک کرنا چھوڑ دے ورنہ چائنااسے بھرپور جواب دے گا اور اس کا ثبوت بھی دے گا کہ امریکہ، انڈیا کے ساتھ مل کر افغانستان کے کھیل کو بگاڑ  رہا ہے ان کو حتمی وارننگ دی جائے گی  ۔
اس بڑے لیول کی  میٹنگ میں کے بعد  فیصلہ ہو گا اور اس کے 19 دن بعد امریکہ کو افغانستان چھوڑ نا ہے ۔لہذا انڈیا یہ چاہ رہا ہے کہ اس کھیل میں اس کی کوئی مداخلت ہو لیکن اسے کوئی ملک اب منہ نہیں  لگاتا افغانستان میں وہ اکیلا ہے روس اس سے الگ ہو گیا ہے چائنااسے ویسے ہی منہ نہیں  لگاتا اور پاکستان کے ساتھ اس کے معاملات ویسے ہی خراب ہیں ۔امریکہ بھی سفارش نہیں  کر رہا ۔کیونکہ امریکہ نے اسے کہا ہے کہ اپنی فوجیں  افغانستان  بھیجے اور انڈیا اس بات کو سمجھتا ہے کہ اس وقت یہ غلطی نہیں  کرنی ۔اس کے باوجود کہ صورت حال جیسی بھی ہو اگر انڈیا کی فوجیں آ بھی جاتی ہیں تو یہ خطہ پر امن نہیں  ہو گا ۔افغانستان  کے  اندر 90 %علاقہ میں طالبان کی حکومت اور 10 % میں جہاں اشرف غنی کا ٹولہ کام کر رہا ہے وہ بھی امریکہ کے خلاف ہو گئے ہیں اور کھلے عام امریکہ کو کہہ رہے ہیں کہ تمہاری وجہ سے افغانستان  کا امن تباہ ہوا ہے اس لئے امریکہ نے اشرف غنی سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور اسے استعفی دینے کا کہا ہے اب وہ مستعفی  ہو گا تو صورت حال  بہتر ہو گی اور طالبان ٹیبل ٹاک پر بیٹھے گا ۔اشرف غنی کو غصہ ہے کہامریکہ اس کی مدد نہیں  کر رہا پیسا دینا بند کر دیا ہے یہاں تک کہ  جو کمائی اور ٹیکس حاصل ہوتا تھا بند ہو گیا ہے فوج اور پولیس  کو تنخواہ نہیں ملی تو وہ طالبان کے پاس جا رہے ہیں اس لیے وہ کھلے عام امریکہ کو مدد کا کہہ رہا ہے اور پوشیدہ طور پر انڈیا  کو بھی کہہ رہا یے کہ تم تب مدد کو آو  گے جب کابل فتح ہو جائے گا ۔جبکہ انڈیا  اس کھیل سے ویسے ہی آوٹ  ہو چکا ہے وہ خود خانہ جنگی کا شکار ہو رہا یے تحریکیں  جنم لے رہی ہیں ۔مودی کو رپورٹ  میں  کہا  جا رہا ہے کہ طالبان کو اگر ٹیبل پر بٹھاناہے تو جس طرح  چائنا نے شورٹی دی ہے سنکیانگ صوبے کی ۔آپ  نے اگر شورٹی نہیں دی تو طالبان آپ کے ساتھ  بہت  برا  کریں گے  آپ  ان کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھیں ۔چائنا  نے طالبان کے خلاف کوئی لائحہ عمل نہیں  بنایا بلکہ اس کی مدد کا وعدہ کیا جبکہ انڈیا  نے طالبان کے خلاف جہاز بھیجے،غنی کا ساتھ دیا اور پیسا بھیجا۔اب افغانستان  کی فوجیں ترکی میں اسپیشل ٹریننگ لے رہی ہیں یہ ٹریننگ ترکی نہیں  نیٹو کا مشن دے رہا ہے پاکستان اور طالبان کے خلاف لڑنا ہے دنیا دیکھ رہی ہے کہ ترکی کیوں اس  کھیل میں آ رہا ہے ترکی جو نیٹو کا ممبر ہے اسے احتجاج کرنا چاہیے کہ آپ کوکسی بھی مسلم ملک میں اس قسم کی  مداخلت نہیں کرنی چاہیئے ۔انڈیا کا امیج بہت خراب ہو چکا ہے اور روس کی کو شش ہے کہ ایک وقت ایسا آئے کہ میرے سویت یونین کے جتنے بھی ممالک ٹوٹے ہیں وہ سب اس میں  شامل ہو جائیں ۔لیکن سب تو نہیں کچھ نہ کچھ ممالک  تو شامل ہوں اور روس اک جان بن جائے چائنا نے اپنا پیسا لگا کر اس پراجیکٹ  کو آگے لے کر جانا ہے اس لئے وہ چائنا  کے ساتھ  ہے اور انڈیا  کو ہر معاملے میں  نہ کہہ رہا ہے
پاکستان  بھی چاہ رہا ہے کہ انڈیا اس معاملے  سے دور ہی رہے۔اس لیے پاکستان کی ہاں اور ناں پر ہی دنیا کے فیصلے ہو رہے ہیں 
انڈین رپورٹ کے مطابق ہر کسی نے طالبان کے ساتھ معاملہ طے کر لیا ہے چائنا نے ،پاکستان نے،سینٹرل ایشیا ممالک ،ایران اور امریکہ ۔ اگر کسی نے کچھ نہیں  کیا تو وہ انڈیا ہے وہ انتظار کر رہا تھا کہ سوچوں گا اور کودوں گا اور یہی انتظار اس کی تباہی کا باعث بن گیا  ہے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.