پھلوں پر پاوڈر یا مصالہ کی کوٹنگ ،صحت کے لیے مفید یا خطرناک -مفت معلومات

powdered coating on Aalu Bukhara - Muft Malomat

پھلوں پر پاوڈر یا مصالہ کی کوٹنگ ،صحت کے لیے مفید یا خطرناک
قدرت کی نعمتوں میں سے ایک پھل بھی ہیں جو انواع و اقسام کے اور طرح طرح کے ذائقوں کے

پائے جاتے ہیں ہر موسم کے اپنے پھل ہیں اور اب تو بے موسم کے بھی پھل مل جاتے ہیں جو سٹور

کیے جاتے ہیں یا مختلف ادویات اور مصالحہ لگا کے بے موسم کے پیدا کیے جاتے ہیں ۔

جس طرح آم اور کیلے کو مصالحہ لگا کر پکایا جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ پھلوں کے اوپر کچھ پاوڈر نما چیز لگی ہوتی ہے

اگر کبھی پھل خریدنے جائیں خاص طور پر الو بخارہ پر سفید سا پاوڈر لگا ہوتا ہے اس پاوڈر کوٹنگ کو بلوم یا ویکس بلوم

کہا جاتا ہے اور اکثر ہم اس کے ساتھ ہی پھل کھا لیتے ہیں سوال یہ ہےکہ کہیں اس پاوڈر کوٹنگ کو پھل کے ساتھ کھانے سے ہمیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچ سکتا ۔
اللہ تعالی نے ان پھلوں کو پوری غذائیت کے ساتھ ہم تک پہنچایا ہے اور اکثر پھلوں کی اس غذائیت کو برقرار رکھنے کے لیے ان پر ایک باریک سی پرت چڑھا دی ہے مثلا انگور ۔چیری ،الو بخارہ اور ان سے ملتے جلتے اور بھی پھلوں پر ،اس پرت کے ساتھ ایک سفید سی کوٹنگ نظر آتی ہے جو کے قدرتی ہے اور پھل کی حفاظت کے لیے اور غذائیت کو برقرار رکھنے کے لیے قدرت نے بنائی ہوتی ہے ۔

الو بخارہ چونکہ گرمیوں میں پایا جانے والا پھل ہے اس کا چھلکا یا پرت بھی بہت باریک ہوتی ہے اور اس میں پانی کی مقدار بھی بہت ہوتی ہے ۔اس لیے اگر یہ ویکس کوٹنگ اس کے اوپرنہ ہو تو شدید گرمی سےاس کے مساموں میں سے پانی اڑ جائے گا یا الو بخارہ گل جائے گا اس لیے اللہ نے صحیح حالت میں ہم تک ان پھلوں کو پہنچانے کے لیے یہ بلوم ویکس کوٹنگ رکھی ہے جس کو کھانے سےکوئی نقصان نہیں ہے ۔

اسی طرح آم اور آڑو بھی پسندیدہ پھلوں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔سوات کے آڑو اگر بہت پسند کیے جاتے ہیں تو ملتان اور بہاولپور کے آ م بھی ذائقہ میں بے مثال ہیں اور سندھ کے آم بھی اپنے ذائقے میں خاص جانے جاتے ہیں ۔
خوبانی ،آڑو وغیرہ سوات میں بہت ملتے ہیں اس لیے لوگ وہاں سے ان پھلوں کی پیٹیاں لے کر آتے ہیں ۔یا ان کی پیٹیوں کو ٹرکوں میں لاد کر منڈیوں میں پہنچایا جاتا ہے یا پھر دوسرے شہروں میں بھیجا جاتا ہے ۔ لہذا اتنی دور سے جب آڑو لائے جاتے ہیں تو اکثر یہ نازک سا پھل گاڑی کے

جھٹکوں کو برداشت نہیں کر پاتا اور اپس میں ٹکرانے سے یا دباو سے ان کا جوس نکل آتا ہے اور یہ خراب ہو جاتے ہیں ۔
اس پھل کو صحیح حالت میں دو سرے شہروں یا دور دراز مقام پر پہنچانے کے لیتی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ جب یہ پکنے کے قریب ہوتے ہیں اور ان کی گٹھلی بھی بن چکی ہوتی ہے اور وہ کچھ سخت ہوتے ہیں توان کو توڑ لیا جاتا ہے اور پھر ان کی درجہ بندی کر کے ان کو پیٹیوں میں بھر دیا جاتا ہے ۔اور ان کے اندر کیلشیم کاربائڈ کی پڑیاں بنا کر رکھ دی جاتی ہیں یہ وہی مصالہ ہے جو جنوبی پنجاب اور سندھ سے لائے گئے

آموں کولگایا جاتا ہے اور کیلوں کو پکانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے
یہ کیلشیم کاربائڈ اصل میں ویلڈنگ کے لیے استعمال ہونے والا مصالہ ہے بازار میں عام طور پر دو طرح کی ویلڈنگ ہوتی ہے ایک الیکٹرک ویلڈنگ جو گرل ،گیٹ وغیرہ کے لیے کی جاتی ہے جو کہ ویلڈنگ مشین اور ایک راڈ کی مدد سے بجلی کے ذریعے کی جاتی ہے دوسری ویلڈنگ چھوٹے پیمانے پر سائیکلوں والی دکان پر ٹانکے لگانے کے لیے ہوتی ہے جس میں ایک بڑے سے پانی کے ڈرم میں گیس پیدا کی جاتی ہے پھر آگ کی مدد سے پیتل یا سلور کی راڈ کو پگھلا کر ٹانکا لگا دیا جاتا

ہے اسی کیلشیم کاربائڈ کی مدد سے ہی یہ گیس پیدا کی جاتی ہے جو ویلڈنگ میں استعمال ہوتی ہے لہذا اسی مصالہ کو آڑو اور آموں کی پیٹیوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ یہ کچے پکے پھل مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں رستے میں اس مصالہ کی مدد سے پک جائیں ۔

اس مصالہ سے تیار پھل صحت کے لیے نقصان دہ ہیں جو گلے اور منہ کے کینسر کے علاوہ خوراک کی نالی کے السر کا باعث بھی بن سکتا ہے متلی اور قے آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے اور اس طرح کی ہیوی میٹل کے استعمال سے گردے بھی ناکارہ ہو سکتے ہیں ۔

اس لیے جب بھی آم، کیلا یا آڑو وغیرہ خریدیں تو ان کو ہاتھوں میں مل کر دیکھ لینا چاہیے کہ ان پر یہ مصالہ تو نہیں لگا ہوا ۔اگر لگا ہو گا تو ہاتھوں پر بھی لگ جائے گا ۔یوں یہ صحت بخشنے والے پھل ہی انسانی زندگیوں کو نقصان پہنچانے والے بن رہے ہیں ۔اس لیے ان کاروباری لوگوں سے بھی گزارش ہے کہ ان پھلوں کو یہ مصالہ اگر نہ بھی لگائیں گے تو بھی یہ قدرتی طور پر دو سے تین دنوں میں پک جائیں گے جب تک انھوں نے شہر سے منڈی اور بازار تک پہنچنا ہے ۔دیکھنے میں یہ پھل ابھی ہرے ہرے ہی دکھائی دیں گے اور پکے ہوئے پیلے نہیں لگیں گے مگر اندر سے یہ پک گئے ہوں گے ۔

دوسری صورت میں اگر ان پھلوں کی مصالہ لگائے بغیر رنگت بھی تبدیل کرنی ہے تو آڑھتیوں کو چاہئیے کہ ایک کمرہ ایسا بنا لیں جس میں کھڑکی وغیرہ نہ ہو تو اس میں یہ پھل جو کچے اتارے گئے ہوں گے رکھ کر اتھائی لین گیس تھوڑی مقدار میں چھوڑ دیں جو کہ خود ان پھلوں میں بھی موجود ہوتی ہے پھر دو تین دن کے لیے کمرے کا دروازہ مکمل بند کر دیں تو پھل بہترین انداز میں اپنی اصل رنگت کے ساتھ تیار ہو چکا ہو گا جو بعد میں صحت کے بھی مضر نہیں ہو گا
ہماری فوڈ اتھارٹی والوں سے بھی

گزارش ہے کہ ان پھلوں کی صحت کو چیک ضرور کرتے رہیں ۔اور کاروباری لوگ بھی قدرتی طریقے سے پھلوں کو پکا کر بازار میں لائیں تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.