پیدائش سے قبل سے لے کر سات سال کی عمر تک بچے کا ذہن بڈھتا ہے سات سال تک اس کی شخصیت بنتی ہے – مفت معلومات

7 saal ki umar tak bachon ka dimagh barhta hai

پیدائش سے قبل سے لے کر سات سال کی عمر تک بچے کا ذہن بڈھتا ہے سات سال تک اس کی شخصیت بنتی ہے تو یہ سات سال بہت اہم ہیں تو جو ہم بچے کے ساتھ کریں گے وہ ویسا ہی بنے گا

ماں باپ اور باقی سب کا رویہ بہت اہم ہے اور اس کے علاوہ سکول کا ماحول ٹیچر کا رویہ بہت اچھا ہونا چاہیے بچے کوپیار سے سمجھایا جائے اس کی طرف توجہ دی جائے گی۔

تو وہ آگے چل کر ہم سب کا نام روشن کرے گا ہمارا معاشرہ بچوں کی تربیت کے معاملے میں بہت پیچھے ہے بچوں کے ساتھ بلاوجہ سختی سے پیش نئ آنا چاہیے ماں باپ ہی شخصیت بناتے ہیں۔

اگر وہ اولاد کو سہی نہی سمجھتے تو باقی سب بہی اس کی عزت نہی کرتے کچھ بچے جسمانی طور پر یا زہنی طور پر کسی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو والدین ان کو بوجھ سمجھتے ہیں ان سے غلط رویہ رکھا جاتا ہے ساری زندگی ذلیل و خوار ہوتے ہیں – 

کوئی بھی ان کی طرف توجہ نہی دیتا ان کی مدد کرنے والا کوئی نہی ان کی خواہشات جزبات دب کر رہ جاتے ہیں۔

ان کے اندر بہت سی صلاحیتیں چھپی ہوتی ہیں جو ان کے اندر ہی دب جاتی ہیںان کی طرف عزت سے نہی دیکھا جاتا بات بات پردل آزاری کی جاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.