ڈی جی آئی ایس آئی چیف افغانستان کیوں گئے اصل وجوہات-مفت معلومات

ڈی جی آئی ایس آئی چیف افغانستان کیوں گئے

 

ڈی جی آئی ایس آئی چیف افغانستان کیوں گئے اصل وجوہات

آجکل ایک خبر اس خطے کی بڑی خبر بنی ہوئی ہے کہ آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے ۔

اس پر سوال ہو رہے ہیں کہ وہ کیوں گئے ہیں ،طالبان کے ساتھ ان کی کیا بات چیت ہو رہی ہے ،پھر بھارتی میڈیا جو ردعمل دکھا رہا ہے

اور پروپیگینڈا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو بھارت کی طرف سے ہی ہو رہا ہے ۔

جنرل صاحب کے کابل جانے کی وجوہات جو اندرونی ذرائع سے معلوم ہوئی ہیں وہ اصل وجوہات چار ہیں

میڈیا رپورٹ کے مطابق فیض حمید صاحب ایک وفد کو لے کرکابل پہنچے جہاں انھوں پاکستانی سفیر سے ملاقات بھی کی ہے

جس میں سرحدوں کی صورتحال اور افغانستان میں مختلف ممالک کے لوگوں کا جو انخلاء پاکستان کے راستے سے ہو رہا ہے اس معاملےپر بات چیت کی ۔

طالبان کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی خاص طور پو ایک تصویر جس پر بڑی شدومد کے ساتھ تبصرے ہو رہے ہیں وہ ملا عبدالغنی برادرز کے ساتھ محبت کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں ۔یہ ملا عبدالغنی برادرز وہی ہیں جو تقریبا آٹھ سال تک پاکستان کی قید میں رہے تھے اور ان کو امریکہ کی

خواہش پر آزاد کیا گیا تھا اور پھر مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا ۔

ملاعبدالغنی برادرز کے ساتھ ہمارے تعلقات اب اچھے ہیں اور اس تصویر میں بھی فیض حمید صاحب جو ہاتھ ملا رہے اچھے تعلق اور محبت کا اظہار ہو رہا ہے ۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی کے مسئلے پر بھی بات ہوئی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں یاامن کو تباہ کرنے والے عناصر موجودہ صورتحال سے فائدہ نہ اٹھائیں ،اس قسم کی باتیں جو میڈیا رپورٹس میں بتا رہا ہے لیکن اندرونی ذرائع سے معلوم ہونے والی وجوہات یہ ہیں

کئی ملکوں نے اور بین الاقوامی

تنظیموں نے اپنے لوگوں کو اور افغانیوں کو نکالنے کے لیے پاکستان سے اپیل کی ہے اور مدد کے لیے رابطہ کیا ہے ۔پاکستان انہیں ٹرانزٹ کی سہولت بھی دے گا اور افغانیوں کو تحفظ بھی فراہم کرے گا اور افغانستان سے نکلنے میں ان لوگوں کی مدد بھی کرے گا ۔

اس کے لیے ایک طریقہ کار طے کرنا تھا جب تک امریکن موجود تھے ائیرپورٹ پر بھی ،تو پاکستان میں بھی امریکی سفارتخانہ موجود ہے اور کابل ائیرپورٹ پر بھی تو ان کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی لیکن اب چونکہ طالبان آگئے ہیں تو غیر ملکیوں کے انخلاء کے مسائل درپیش تھے کیونکہ

سب کے سفارتخانے بند کر دئیے گئے تھے اب وہ سب پاکستان آئیں گے اور پاکستانی سفارتخانہ انہیں سہولت دے گا اور پھر وہ یہاں سے اپنے اپنے ملک روانہ ہو جائیں گے ۔

پاکستان ان کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرے گا جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ۔اس لیے بھی جنرل صاحب نے وہاں پاکستان کے سفیر سے بات کی پھر طالبان سے بھی اچھے روابط بنانے اور مدد کے لیے کیا کہ ایک طریقہ کار کے تحت لوگ وہاں سے نکلیں گے ۔

دوسری چیز جس کے لیے یہ دورہ ہوا ہے وہ بارڈر مینجمنٹ ہے کیونکہ پاکستان کے بارڈر سے ہزاروں لوگ روزانہ افغانستان سے ادھر آتے اور اتنے

ہی ادھر جاتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں کا روزگار اس سے جڑا ہوا ہے اور رشتہ داریاں بھی ہیں تو ان لوگوں کے آنے جانے کو آسان اورمحفوظ بنایا جائے ۔کیونکہ اگر پابندی لگائی جاتی ہے تو پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے

لوگ احتجاج کرتے ہیں فورسز کے خلاف ہو جاتے ہیں تو ان کا آنا جانا آسان کرنے کے لیے پاکستان اور طالبان کے درمیان رابطے بہتر ہونے چاہیے ۔

تیسری اہم بات یہ کہ جو دہشتگرد عناصر ہیں ان کو پکڑا جائے ادھر سے ادھر جانے والوں کو بھی روکا جائے اور یہاں آنے والوں کو بھی پکڑا جائے ۔

یہ کرنا بہت ضروری ہے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو ۔کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے یا زمینی راستے سے آرہی ہے ۔

جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں طورخم بارڈر ہو یا چمن بارڈر کہیں بھی افغان بڑی تعداد میں جمع نہیں ہیں نہ کسی کو پاکستان آنے دیا جا رہا ہے ۔عالمی اندازے غلط ہیں

کہ پانچ چھ لاکھ لوگ بارڈر پر زمینی راستے سے پاکستان آنے کو موجود ہیں ۔یہ چند لوگ تو ہو سکتے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد نہیں ہے ۔اس لیے ایسا کہیں بھی کچھ نہیں ہے ۔

اہم وجہ ملاقات کی یہ بھی ہے کہ مجموعی سلامتی کے حوالے سے بات چیت کی جائے۔کیونکہ جن لوگوں کا انخلا ہونا ہے

ان پر حملہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بھارت کے داعش کے ساتھ اچھے روابط ہیں اور دانش ایسی تنظیم ہے کہ اس کے لوگ کئی ایجنسیز کے پے رول پر بھی کام کرتے ہیں ۔

اور افغانستان جو بہت سی ایجنسیز کا گڑھ رہا ہے بہت سے دہشت عناصر وہاں موجود ہیں جو طالبان کو یا ان کی حکومت کو دیوار سے لگانے کےدہشتگردی کے کچھ بڑے واقعات بھی ہو سکتے ہیں

اس کی رپورٹ بھی پاکستان کے پاس تھی لہذا پاکستان نے کچھ انٹیلیجنس شیئرنگ بھی کی ہیں

کہ محتاط رہیں ۔کیونکہ طالبان حکومت بنانے جا رہے ہیں تو اگر شر پسند عناصر کچھ شرارت کرتے ہیں تو پھر طالبان کے لیے حکومت بنا کر عالمی سطح پر منوانا ناممکن ہو جائے گا ۔

لہذا طالبان کو بھی پاکستان کے ساتھ روابط بہتر کرنے ہوں گے تاکہ شر پسند عناصر کوئی کاروائی نہ کر سکیں اس لیے زیادہ محتاط رہنا ہو گا ۔

انڈیا کی طرف سے میڈیا پر رونا دھونا مچا ہوا ہے اور الگ سے اس پر پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان افغان فوج کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے اور جنرل صاحب حقانی کی سفارش کرنے گئے ہیں ۔طالبان نے ان کو دعوت دی ہے ۔

یا یہ کہ چین نے کہا ہے کہ

پاکستان افغانستان پر اپنا تسلط رکھے اس میں اس کا فائدہ ہے ۔یہ بھی کہ اب جبکہ طالبان حکومت بنا رہے ہیں تو اس موقعہ پر فیض حمید صاحب کا جانا خاص مقصد کے تحت ہے

۔لہزا جنرل صاحب کیوں گئے یہ سوال اٹھایا جا رہا ۔جبکہ دیکھا جائے تو دنیا بھر کے جنرل ،چیف اور انٹیلیجنس آفیسر پچھلے 20 سالوں میں بارہا افغانستان آتے جاتے رہے ہیں

لیکن وہ امن قائم نہ کر سکے لیکن اب اگر پاکستان کا چیف امن کے قیام کے لیے دورے پر گیا تو اس میں کوئی غلط بات بھی نہیں ہے ۔

ویسے بھی ہمارے لیے مجموعی

صورتحال کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے ۔ تاکہ شرپسندوں سے باخبر رہا جائے ۔پھر یہ کہ بھارت کی چوری بھی پکڑی گئی ہے جو گند وہ افغانستان میں ڈال کر گیا ۔اور اس کی جو دستاویزات طالبان کے ہاتھ لگی ہیں ۔

جو شواہد اس کی سازشوں کے ملے ہیں اور جو صورتحال وہ وہاں پیدا کر گیا ہے ان سب کے راز کھلنے کا وقت آگیا ہے ۔لہذا ان سب سازشوں کو غیر فعال کرنا ضروری ہو گیا ہے جس پر بھارت اب چیخ رہا ہے کیونکہ اس کی ساری انویسمنٹ ضائع چلی گئی ہے ۔

واضح بات یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کی حکومت بنانے میں

طالبان کو کوئی مشورہ نہیں دے رہا نہ اس کی ضروت ہے ۔وہ سب خود کرسکتے ہیں ۔جبکہ بھارت خلاف ہے اسے طالبان کی حکومت پسند ہی نہیں چاہے کوئی بھی حکومت سنبھال لے ۔اور طالبان کو انڈیا پسند نہیں ۔اس لیے بھارت پاکستان کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور بس ۔

آخری وجہ جو اس دورہ کرنے کی ہے وہ بھارت کے لیے ایک سرپرائز ہے جو ابھی نہیں بتایا جا رہا بلکہ کچھ دنوں تک یہ سرپرائز بھارت کو جب ملے گا تو اس کی چیخیں دوسرے سیاروں پر بھی سنی جائیں گی ۔۔۔

ڈی جی آئی ایس آئی چیف افغانستان کیوں گئے اصل وجوہات

آجکل ایک خبر اس خطے کی بڑی خبر بنی ہوئی ہے کہ آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے ۔اس پر سوال ہو رہے ہیں کہ وہ کیوں گئے ہیں ،طالبان کے ساتھ ان کی کیا بات چیت ہو رہی ہے ،پھر بھارتی میڈیا جو ردعمل دکھا رہا ہے اور پروپیگینڈا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو بھارت کی طرف سے ہی ہو رہا ہے ۔

جنرل صاحب کے کابل جانے کی وجوہات جو اندرونی ذرائع سے معلوم ہوئی ہیں وہ اصل وجوہات چار ہیں

میڈیا رپورٹ کے مطابق فیض حمید صاحب ایک وفد کو لے کرکابل پہنچے جہاں انھوں پاکستانی سفیر سے ملاقات بھی کی ہے جس میں سرحدوں کی صورتحال اور افغانستان میں مختلف ممالک کے لوگوں کا جو انخلاء پاکستان کے راستے سے ہو رہا ہے اس معاملےپر بات چیت کی ۔

طالبان کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی خاص طور پو ایک تصویر جس پر بڑی شدومد کے ساتھ تبصرے ہو رہے ہیں وہ ملا عبدالغنی برادرز کے ساتھ محبت کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں ۔یہ ملا عبدالغنی برادرز وہی ہیں جو تقریبا آٹھ سال تک پاکستان کی قید میں رہے تھے اور ان کو امریکہ کی

خواہش پر آزاد کیا گیا تھا اور پھر مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا ۔

ملاعبدالغنی برادرز کے ساتھ ہمارے تعلقات اب اچھے ہیں اور اس تصویر میں بھی فیض حمید صاحب جو ہاتھ ملا رہے اچھے تعلق اور محبت کا اظہار ہو رہا ہے ۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی کے مسئلے پر بھی بات ہوئی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں یاامن کو تباہ کرنے والے عناصر موجودہ صورتحال سے فائدہ نہ اٹھائیں ،اس قسم کی باتیں جو میڈیا رپورٹس میں بتا رہا ہے لیکن اندرونی ذرائع سے معلوم ہونے والی وجوہات یہ ہیں

کئی ملکوں نے اور بین الاقوامی

تنظیموں نے اپنے لوگوں کو اور افغانیوں کو نکالنے کے لیے پاکستان سے اپیل کی ہے اور مدد کے لیے رابطہ کیا ہے ۔پاکستان انہیں ٹرانزٹ کی سہولت بھی دے گا اور افغانیوں کو تحفظ بھی فراہم کرے گا اور افغانستان سے نکلنے میں ان لوگوں کی مدد بھی کرے گا ۔

اس کے لیے ایک طریقہ کار طے کرنا تھا جب تک امریکن موجود تھے ائیرپورٹ پر بھی ،تو پاکستان میں بھی امریکی سفارتخانہ موجود ہے اور کابل ائیرپورٹ پر بھی تو ان کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی لیکن اب چونکہ طالبان آگئے ہیں تو غیر ملکیوں کے انخلاء کے مسائل درپیش تھے کیونکہ

سب کے سفارتخانے بند کر دئیے گئے تھے اب وہ سب پاکستان آئیں گے اور پاکستانی سفارتخانہ انہیں سہولت دے گا اور پھر وہ یہاں سے اپنے اپنے ملک روانہ ہو جائیں گے ۔

پاکستان ان کے لیے سہولت کار کاکردار ادا کرے گا جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ۔اس لیے بھی جنرل صاحب نے وہاں پاکستان کےسفیر سے بات کی پھر طالبان سے بھی اچھے روابط بنانے اور مدد کے لیے کیا کہ ایک طریقہ کار کے تحت لوگ وہاں سے نکلیں گے ۔

دوسری چیز جس کے لیے یہ دورہ ہوا ہے وہ بارڈر مینجمنٹ ہے کیونکہ پاکستان کے بارڈر سے ہزاروں لوگ روزانہ افغانستان سے ادھر آتے اور اتنے

ہی ادھر جاتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں کا روزگار اس سے جڑا ہوا ہے اور رشتہ داریاں بھی ہیں تو ان لوگوں کے آنے جانے کو آسان اورمحفوظ بنایا جائے ۔کیونکہ اگر پابندی لگائی جاتی ہے

تو پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لوگ احتجاج کرتے ہیں فورسز کے خلاف ہو جاتے ہیں تو ان کا آنا جانا آسان کرنے کے لیے پاکستان اور طالبان کے درمیان رابطے بہتر ہونے چاہیے ۔

تیسری اہم بات یہ کہ جو دہشتگرد عناصر ہیں ان کو پکڑا جائے ادھر سے ادھر جانے والوں کو بھی روکا جائے اور یہاں آنے والوں کو بھی پکڑا جائے ۔

یہ کرنا بہت ضروری ہے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو ۔کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے یا زمینی راستے سے آرہی ہے ۔جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں طورخم بارڈر ہو یا چمن بارڈر کہیں بھی افغان بڑی تعداد میں جمع نہیں ہیں نہ کسی کو پاکستان آنے دیا جا رہا ہے ۔

عالمی اندازے غلط ہیں کہ پانچ چھ لاکھ لوگ بارڈر پر زمینی راستے سے پاکستان آنے کو موجود ہیں ۔یہ چند لوگ تو ہو سکتے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد نہیں ہے ۔اس لیے ایسا کہیں بھی کچھ نہیں ہے ۔

اہم وجہ ملاقات کی یہ بھی ہے کہ مجموعی سلامتی کے حوالے سے بات چیت کی جائے۔کیونکہ جن لوگوں کا انخلا ہونا ہے ان پر حملہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بھارت کے داعش کے ساتھ اچھے روابط ہیں اور دانش ایسی تنظیم ہے کہ اس کے لوگ کئی ایجنسیز کے پے رول پر بھی کام کرتے ہیں ۔

اور افغانستان جو بہت سی ایجنسیز کا گڑھ رہا ہے بہت سے دہشت عناصر وہاں موجود ہیں جو طالبان کو یا ان کی حکومت کو دیوار سے لگانے کے دہشتگردی کے کچھ بڑے واقعات بھی ہو سکتے ہیں اس کی رپورٹ بھی پاکستان کے پاس تھی لہذا پاکستان نے کچھ انٹیلیجنس شیئرنگ بھی کی ہیں

کہ محتاط رہیں ۔کیونکہ طالبان حکومت بنانے جا رہے ہیں تو اگر شر پسند عناصر کچھ شرارت کرتے ہیں تو پھر طالبان کے لیے حکومت بنا کر عالمی سطح پر منوانا ناممکن ہو جائے گا ۔لہذا طالبان کو بھی پاکستان کے ساتھ روابط بہتر کرنے ہوں گے تاکہ شر پسند عناصر کوئی کاروائی نہ کر سکیں اس لیے زیادہ محتاط رہنا ہو گا ۔

انڈیا کی طرف سے میڈیا پر رونا دھونا مچا ہوا ہے اور الگ سے اس پر پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان افغان فوج کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے اور جنرل صاحب حقانی کی سفارش کرنے گئے ہیں ۔طالبان نے ان کو دعوت دی ہے ۔یا یہ کہ چین نے کہا ہے کہ

پاکستان افغانستان پر اپنا تسلط رکھے اس میں اس کا فائدہ ہے ۔یہ بھی کہ اب جبکہ طالبان حکومت بنا رہے ہیں تو اس موقعہ پر فیض حمید صاحب کا جانا خاص مقصد کے تحت ہے

۔لہزا جنرل صاحب کیوں گئے یہ سوال اٹھایا جا رہا ۔جبکہ دیکھا جائے تو دنیا بھر کے جنرل ،چیف اور انٹیلیجنس آفیسر پچھلے 20 سالوں میں بارہا افغانستان آتے جاتے رہے ہیں لیکن وہ امن قائم نہ کر سکے لیکن اب اگر پاکستان کا چیف امن کے قیام کے لیے دورے پر گیا تو اس میں کوئی غلط بات بھی نہیں ہے ۔

ویسے بھی ہمارے لیے مجموعی

صورتحال کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے ۔ تاکہ شرپسندوں سے باخبر رہا جائے ۔پھر یہ کہ بھارت کی چوری بھی پکڑی گئی ہے جو گند وہ افغانستان میں ڈال کر گیا ۔اور اس کی جو دستاویزات طالبان کے ہاتھ لگی ہیں ۔

جو شواہد اس کی سازشوں کے ملے ہیں اور جو صورتحال وہ وہاں پیدا کر گیا ہے ان سب کے راز کھلنے کا وقت آگیا ہے ۔لہذا ان سب سازشوں کو غیر فعال کرنا ضروری ہو گیا ہے جس پر بھارت اب چیخ رہا ہے کیونکہ اس کی ساری انویسمنٹ ضائع چلی گئی ہے ۔

واضح بات یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کی حکومت بنانے میں

طالبان کو کوئی مشورہ نہیں دے رہا نہ اس کی ضروت ہے ۔وہ سب خود کرسکتے ہیں ۔جبکہ بھارت خلاف ہے اسے طالبان کی حکومت پسند ہی نہیں چاہے کوئی بھی حکومت سنبھال لے ۔اور طالبان کو انڈیا پسند نہیں ۔اس لیے بھارت پاکستان کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور بس ۔

آخری وجہ جو اس دورہ کرنے کی ہے وہ بھارت کے لیے ایک سرپرائز ہے جو ابھی نہیں بتایا جا رہا بلکہ کچھ دنوں تک یہ سرپرائز بھارت کو جب ملے گا تو اس کی چیخیں دوسرے سیاروں پر بھی سنی جائیں گی ۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.