کرونا سے متعلق اچھی خبر صرف ایک گولی کھائی اور کرونا سے نجات مفت معلومات

SmartSelect_20211007-223107_Gallery

 کرونا سے متعلق اچھی خبر  

صرف ایک گولی اور کرونا سے نجات

کرونا کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں آ رہی ہیں ۔ان میں سے ایک یہ ہے  کہ کچھ ماہ پہلے فائزر ویکسین  بنانے والی کمپنی کے سی ای او نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 2022 کے وسط تک کرونا بلکل ختم ہو جائے گا  اور زندگی بلکل نارمل ہو جائے گی وہی 2020 سے پہلے والی زندگی جس میں ماسک نہیں لگانا پڑتا تھا ہسپتال کے چکر نہیں لگانے پڑتے تھے بہت زیادہ احتیاط نہیں کرنی پڑتی تھی ۔بلکہ زندگی نارمل ہو جائے 

گی پابندیاں ختم ہو جائیں گی سب کچھ پہلے کی طرح ہو جائے گا ۔   شادی بیاہ کی تقریبات ہوں گی ،سینیما کھل جائیں گے ۔دیگر تقریبات ہوں گی 

کرونا کے حوالے سے ایک خوشخبری یہ ہے کہ کرونا سے بچاو کا کیپسول آ چکا ہے ۔یہ کیپسول کرونا سے بھی بچائے گا اور کرونا ہونے کی صورت میں موت کے منہ میں جانے سے بھی بچائے گا یعنی شدید حالت خراب ہونے سے بچائے گا۔

واشنگٹن میں دوا بنانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی مرک نے کرونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی دیگر 

بیماریوں سے بچاو کے لیے یہ کیپسول بنایا ہے ۔جو کرونا ہونے کی صورت میں بیماری کی شدت کو کم کرتا ہے ۔مثلا اگر کسی کو کرونا ہو جاتا ہے اور شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آئی سی یو یا پھر وینٹی لیٹر پر رکھنے کی نوبت آجائے تو اس حالت میں بھی یہ کیپسول مریض کو بچا سکتا ہے کیونکہ آکسیجن یا وینٹی لیٹر پر جانے کی صورت میں کرونا کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے خاص طور پر پرائیویٹ ہسپتالوں میں ،جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں جگہ نہیں ملتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے انسان تو کوشس کر سکتا ہے لہذا ایسے مریض 

کے لیے یہ کیپسول شدید حالت سے بچاو میں فائدہ مند ہے ۔

اس کیپسول کو طبی آزمائش سے بھی گزارا گیا اور امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک کے 775 افراد کو یہ کیپسول کھلایا گیا اور کامیابی سے آزمایا گیا 

کسی ایک ملک یا کسی ایک شہر کے لوگوں کو نہیں کھلایا کیونکہ کرونا ہر ملک میں مختلف انداز میں رونما ہوا جس طرح بھارت میں ڈیلٹا تھا پھر ساوتھ افریقہ یا برازیل اور یو کے میں اس کی کچھ اور شکلیں نظر آئیں ۔ان سب کا علاج بھی مختلف ہے ڈیلٹا ویرینٹ جو سب سے خطرناک ہے اس کا علاج اور طرح سے ہے برازیل یا یو کے ویرینٹ کا علاج اور طرح ہے ۔لہذا 

اس کیپسول ٹیسٹ کے لیے پوری دنیا سے رضاکار اکٹھے کیے خاص طور پر ان ممالک سے جن میں کرونا کی مختلف قسمیں پھوٹی تھیں ان 775لوگوں کو دن میں دو مرتبہ یہ کیپسول دیا گیا اور مسلسل پانچ دن دیا۔عموما کرونا کی دوا بھی پانچ دن دی جاتی ہے ۔

ان تمام لوگوں میں سے کوئی بھی ہسپتال نہیں پہنچا نی شدید حالت کا شکار ہواجبکہ یہ وہ لوگ تھے جن کو کرونا ہوا ہوا تھا ۔اس تجربے کے بعد مرک کمپنی نے ایک پریس ریلیز میں یہ بتایا کہ یہ کرونا وائرس اور خاص طور ڈیلٹا میں بھی موثر ثابت ہو گا ۔جس سے اس وقت پاکستان بھی 

دوچار ہے ۔جو لوگوں کے لیےاس وقت ایک خوشخبری ہے 

امریکی ادارہ FDA فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن جو تمام ادویات کی جانچ پڑتال کرتا ہے کہ دوا انسانوں کے لیے موثر ہے کہ نہیں ۔اس کے اپروول کے بعد پوری دنیا میں اس کو منظوری مل جاتی ہے ۔

اس ادارے میں ہنگامی بنیادوں پر اس کیپسول کو منظور کرنے کی درخواست دی گئی ہے ۔جو کہ یقین ہے کہ جلد ہی منظور ہو گی کیونکہ ڈاکٹرز اس کے بارے میں پرامید ہیں۔ پھر اس کے بعد بڑے پیمانے پر اس کیپسول کی مینوفیکچرنگ کا کام 

شروع ہوجائے گا ۔ابھی اس کی میسپروڈکشن پر کام ہو رہا ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے یو اے ای میں بھی کرونا سے بچاو کی دوائی ایجاد کی گئی تھی جو کہ انجیکشن تھا ۔مگر اب یہ کیپسول ہے ۔انتظار ہے کہ یہ جلد مارکیٹ تک پہنچے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.