کپتان راشد خان نے طالبان کو ماننے سے انکار کر دیا- مفت معلومات

کپتان راشد خان نے طالبان کو ماننے سے انکار کر دیا
جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا اور حکومت میں آئے دنیا کی سپر پاورز نے بھی اسے تسلیم کر لیا حکومتوں نے تعاون کرنا شروع کر دیا۔مگر ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے ابھی تک طالبان کو تسلیم نہیں کیا وہ افغانستان کی T20کرکٹ ٹیم کا کپتان راشد خان ہے جو بھارت سے بہت زیادہ قریب ہیں اور بھارت کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں ۔ دیکھا جائے توان جیسے لوگوں کو استعمال کرنا بڑی طاقتوں کے لیے کوئی بڑی بات نہیں

پچھلے کافی عرصے سے افغانستان میں یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ عورتوں کو سڑکوں پر لایا جاتا ہے پھر وہ احتجاج کرتے ہوئے طالبان سے الجھتی ہیں ان کو اکساتی ہیں اور اس طرح احتجاج کے نام پر تصویریں بنائی جاتی ہیں ۔طالبان کا کہنا ہے کہ ان فارن فنڈڈ لوگوں کو ملک میں انتشار نہیں پھیلانے دیں گے لہذا ان سب کو طالبان بڑے صبر کے ساتھ ڈیل کر رہے ہیں ۔
دوسری طرف راشد خان ہیں کہ ورلڈ کپ کے لیے T20کی ٹیم کا اعلان کیا گیا تو بیس منٹ بعد ہی راشد نے ٹوئیٹ کر کے کپتانی سے استعفی دے دیا ۔کہ مجھے پوچھا نہیں گیا یہ وہ ۔۔۔

اپنے ساتھ جو جھنڈا وہ رکھتے ہیں وہ اشرف غنی والا ہے جبکہ افغانستان کا اب جھنڈا امارات اسلامی کا کلمہ والا ہے ۔وہ اس کو نہیں مانتے۔اصل میں وہ اشرف ٹو  بننا چاہ رہے ہیں اشرف غنی
جب سے طالبان حکومت آئی یہ جواز ڈھونڈ رہے کہ کچھ ایسا ہو کہ یہ ٹیم سے نکالے جائیں ۔جب امریکہ یہاں آیا تو اس نے کافی دبی دبی ٹوئیٹ طالبان کا نام لیے بغیر کیں کہ میری فیملی یہاں ہے اور تاثر یہ دیا کہ ہم بہت پریشان ہیں ۔پھر یہ لوگ افغان طالبان کے خوف سے بھاگ کر پاکستان آگئے۔اور کافی عرصہ یہاں رہے ۔راشد خان اپنی عمر کے بارے میں بھی جھوٹ بولتا رہا ۔

اصل میں ٹیم بیرونی طاقتوں کی وجہ سے عیاشی کا بھی شکار تھی جو اب ختم کرنی تھی ۔اگر راشد خان کچھ کھلاڑی اپنی مرضی کے لانا چاہتا تھا تو مینجمنٹ سے بات کرتا کہ مجھے یہ ٹیم چاہیے ورنہ میں استعفی دے دوں گا۔اسے بہت عرصہ پہلے کا پتہ تھا جو ٹیم سلیکٹ ہو رہی تھی تو تب بات نہیں کی بلکہ جب اعلان کیا گیا تو فورا ہی استفعی دے دیا۔اس سے اس کا مقصد دنیا کے سامنے یہ تاثر دینا ہے کہ طالبان کی حکومت انے سے ہمارا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔اب ظاہر ہے راشد خان چاہے گا کہ ٹیم سے بھی الگ ہو جائے کسی اور ملک میں

چلا جائے ۔یا اسے کسی اور ملک کی نیشنیلٹی مل جائے۔
اب اس نے جو ٹوئیٹ کی ہے اس کے نیچے انڈیا سے کمنٹ کئے گئے ہیں کہ آپ افغانستان کو چھوڑیں پاکستان کو بھی چھوڑیں اور یہاں بھارت آجائیں ہم آپ کو نیشنیلٹی دیں گے یہ وہاں کے لوگ کہ رہے ہیں ۔
جبکہ وہ اشرف غنی 0۔2 بننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اصل میں جب سے طالبان نے حکومت بنائی ہے اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ ملک میں انتشار ہو ۔کیونکہ میڈیا چیخ چیخ کر کہ رہا ہے کہ اگر طالبان مضبوط ہو گئے تو وہ کشمیر پر بھی چڑھ دوڑیں گے

اس لیے کھیلوں میں بھی بد نظمی پیدا کی جائے ۔اب میڈیا پر بھی یہ نہیں کہا جا رہا کہ راشد نے استعفی دیا بلکہ یہی کہا جا رہا کہ طالبان کے آنے سے ان کا نظام درہم برہم ہوا ہے اس لیے ان پر بین لگایا جائے۔
آسٹریلیا کی طرف سے بھی بیان آیا ہے کہ اگر افغانستان کی وومن کرکٹ ٹیم پر پابندی لگی تو ہم افغانستان کے ساتھ میچ نہیں کھیلیں گے ۔جو کہ طالبان نے کہا ہے کہ ہم عورتوں کو کرکٹ نہیں کھیلنے دیں گے۔
دنیا میں اب اسی چیز کو لے کر سازش کی جا رہی ہے اور راشد خان کے استعفی کو ایشو بنا یا جا رہا ہے جبکہ اکثر ہی ایسا ہوتا ہے کہ چیف سلیکٹر

کپتان سے رائے نہیں بھی لیتا ۔لیکن یہ بار بار میڈیا میں آکر افغانستان کے حالات کا رونا روتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔
اصل میں یہ لوگ جو مہاجر بن کر پاکستان آتے ہیں تو پھر یہی لوگ آگے چل کر پسند ہی نہیں کرتے ۔نہ افغانستان کو نہ پاکستان کو ۔اس کی مثال یلہ حاکم جو پاکستان میں تین سال رہی ہے اور اب باہر جا کر ایک بڑے میڈیا سے تعلق رکھ کر اینکر بن چکی ہے تو وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دن رات پروگرام کرتی ہے ۔ایسے لوگوں کو ہی نمک حرام کہا جاتا ہے ۔ یہ کبھی بھی ہمارے سگے نہیں ہو

سکتے ۔صرف یہی نہیں بلکہ ازبک ہیں تاجک ہیں یہ وقت پڑنے پر پاکستان کے خلاف ہو جاتے ہیں ۔اس کی مثال پی ٹی ایم کے جلسے دیکھ لیں کہ ان میں زیادہ تعداد ایسے ہی افغان مہاجروں کی ہوتی ہے جنہیں یہاں پناہ دی گئی یہ طالبان کو پسند نہیں کرتے اور موقعہ ملتے ہی زہر اگلتے ہیں ۔اسی طرح راشد خان کو استعمال کر کے افغانستان میں اداروں کو برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ ٹیم میں پھوٹ ڈلوائی جائے اور جب اچھا پرفارم نہ کر سکے تو الزام طالبان پر لگایا جائے کہ سب ان کی وجہ سے ہوا۔
طالبان کو بھی چاہئے کہ اب جلد ہی

اس کے حوالے سے کوئی ایکشن لے اس کے استعفی کو منظور کرے اور فورا نیا کپتان لائے پھر یہ چاہے لیگ کھیلے ۔کہیں اور جائے اس کی مرضی ۔مگر طالبان اپنا کام جلد کرے تاکہ کسی سازش کو راہ نہ مل سکے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.