کیا والدین کی روحیں فوت ہو جانے کے بعد گھر واپس آتی ہیں

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا کیا فوت ہونے کے بعد ہمارے والدین کی روحیں ہمارے گھر آتی ہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جی ہاں مرنے کے بعد والدین کی روحیں اپنی اولاد کے پاس آہ و فریاد کرنی آتی ہیں ۔

کہ ان کی اولاد ان کے لئے صدقہ اور اچھے اعمال کرے اور انکی روح کو ایصال کرے تاکہ ان کے درجات بلند ہو ں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیونکہ ان کے نامہ اعمال مرنے کے بعد بند ہو جاتے ہیں ۔ مرنے کے بعد ہر مسلمان جو زندہ ہے مرنے والا اس کے محتاج ہو جاتا ہے ۔

ہر جمعرات کے دن والدین کی روحیں ان کی اولاد کے پاس واپس آتی ہیں ۔ اور آہ و فریاد کرتی ہیں کہ ہماری اولاد ہمارے لئے صدقہ عورت سے عمل کرو اور ہماری روح کو ایصال کرو ۔

لیکن زندہ لوگ ان کی آواز کو نہیں سن سکتے کیونکہ وہ اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں ۔ اولاد کو چاہیے اپنے ماں باپ کے لیے اچھے اعمال کرے صدقات کرے اور جمعرات والے دن جب والدین کی روحیں گھر آتی ہیں ۔جب وہ آہ و فریاد کرتی ہیں اس وقت انہیں تحائف میں بہت زیادہ کیے ہوئے اچھے اعمال ان کی روح کو ایصال کرکے ان کی روح کو ثواب پہنچائیں ۔

اولاد کی طرف سے بھیجا گیا ایصال ثواب نورانی لباس میں والدین کو پیش کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ مسلمانوں کی روحیں جنت میں ہوتی ہیں اور وہ اس نورانی لباس کو پہن لیتے ہیں ۔ جس سے ان کے درجات جنت میں اور زیادہ بلند ہو جاتے ہیں ۔ ان کے عذاب اور ان کے گناہوں میں کمی کردی جاتی ہے ۔

والدین اپنی اولاد کی طرف سے بھیجے گئے ایصال ثواب کی وجہ سے بہت خوش ہوتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کے لئے اللہ سے دعا کرتے ہیں ۔ اے اللہ ہماری اولاد نے ہمارے لیے ایثال ثواب کیا جس طرح انہوں نے یہاں ہمارے درجات کو بلند کیا ہے ۔ اے اللہ تو بھی دنیا میں ہمارے بچوں کو اپنی رحمتوں سے نواز دے ۔

ہم نے اس آرٹیکل میں حضرت علی رضی اللہ عنہا کے اس جواب کا کچھ مفہوم بیان کیا ہے ۔ مزید برکتیں اور رحمتیں حاصل کرنے کے لیے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے نیچے دی گئی ویڈیو کو مکمل دیکھ لیں ۔

Kiaa parents Ki roohain wafaat k baad aati hain aur kon se din ghar aati hain.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *