گستاخانہ خاکے بنانے والا ٹریفک حادثے میں جل کر خاک ہو گیا – مفت معلومات

UrduDesigner-1633593678015.jpeg

 گستاخانہ خاکہ بنانے والا ٹریفک حادثے میں جل کر ہلاک     

سویڈن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص لارز والکس جو کہ ایک ویژول آرٹسٹ تھا۔ جو بہت سی ارٹ کی چیذیں بناتا تھا ۔ لیکن اس کو شہرت مسلمانوں کے خلاف کام کر کے ملی ۔

اس نے2007 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہونے خاکہ بنایا ۔اس کے بنائے کارٹون پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا ،سڑکوں پر نکل ائےاور سویڈن سے اس کو سزا دینے کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے اسے سزا دینے کی بجائے اسے پولیس سیکیورٹی میں رکھا گیا 

کہیں بھی آتے جاتے ایجنسیاں ہر وقت ساتھ ہوتی تھیں ۔اس پر مسلمانوں کی طرف سےجعلی حملے بھی کروائے گئے مگر یہ ہمیشہ بچ نکلتا۔

لیکن قدرت کا قانون ہے کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اسے بے نام و نشاں اور جڑ سے ختم کر دیا جائے گا لہذا جن کی سیکیورٹی میں یہ شخص تھا انہی کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور ملعون لارذ والکس جل کر ہلاک ہو گیا اور اس کے ساتھ دو پولیس والے بھی جل کر ہلاک ہو گئے ۔ اللہ نے اسے سیکیورٹی کے حصار میں ہی جہنم کا ایندھن بنا دیا ۔

جب اس نے گستاخی کی اور خاکے 

بنائے تو اسے ایوارڈ سے نوازا گیا بہت پذیرائی ملی اور ان ممالک نے اس کو freedom of speech کا خطاب دیا ۔یہاں تک کہ ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں اسے خطاب کے لیے بلایا گیا ۔ اور تب سے اب تک سیکیورٹی میں ہی تھا ۔اصل میں ان جیسے لوگوں کو ایک خاص منصوبے کے تحت لایا جاتا ہے ۔تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں۔ کیونکہ یورپ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے طلاق کی شرح بھی کم ہوتی ہے اور دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمان اسلام کی زیادہ اچھے 

طریقے سے پیروی کر تے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ کلچر تبدیل ہو رہا ہے ۔اور سائنس بھی اسلام کی تمام چیزیں سچی ثابت کر رہی ہے۔

اس لیے ایسے لوگوں کو سامنے لانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ ایسی کوئی گستاخی کریں جس سے مسلمان بھڑک اٹھیں اور مرنے مارنے کی کوشش کریں تو وہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ مسلمان کس قدر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اگر مسلمان یورپ میں آگئے اور اسلام پھیل گیا تو یہ نہ جانے کیا کریں ان کا مقصد مسلمانوں کو دہشت گرد اور خونخوار ثابت کرنا اور برا دکھانا ہے ۔

ان کی فلمیں ہوں یا انڈیا کی سب میں مسلمانوں کا ہمیشہ برا ہی تصور دکھایا جاتا ہے ۔

جب اس شخص کو سامنے لایا گیا تو داعش، القاعدہ اور دوسری دہشتگردی کی جو تنظیمیں جنھیں سی ائی اے اور دیگر اجنسیاں کنٹرول کرتی ہیں ان کی طرف سے یہ بیانات آنے لگے کہ اگر سویڈن نے اس کے خلاف کاروائی نہ کی تو ہم سویڈن جا کر حملہ کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے لہذا جب اس قسم کے بیانات آتے ہیں تو غیرمسلم ان کے خلاف ہو جاتے ہیں کہ مسلمان کس طرح مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔پھر وہ ان کو ناپسند کرتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں ۔

کیونکہ ان کو خطرہ ہوتا ہے کہ اسلام پھیل رہا ہے ۔اس لیے وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں۔یہی میکرم نے بھی کیا تھا ۔

ایک عیسائی ڈاکٹر کریج کنسیڈائن نے بہت سی کتابیں لکھیں اس نے اپنی کتابوں کے ذریعے دنیا کو بتایا ہے کہ مسلمانوں کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تعلیمات پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے ۔اس نے دو کتابیں لکھی جن میں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار کیا تھا اور عیسائیوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا اور کہاں کہاں عیسائیوں 

کی مدد کی۔ایک عیسائی ہونے کے باوجوداس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے وہ سب بیان کیا جو ہم بھی نہ دیکھ سکیں ۔

ایسی صورت حال میں ان جیسے لوگوں کو جب بلایا جاتا ہے اور یہ لیکچر دیتے ہیں یا میڈیا پر آتے ہیں اور دنیا بھر میں جا کر مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کرو تاکہ جو زوال تم پر آیا ہوا ہے وہ ہٹ جائے گا ۔اس سے ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ایسی کتابیں لکھتا ہے تو یہ غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں وہ انہیں بتاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 

خوبیاں کیا ہیں اور کس طرح انسانیت کی رہنمائی کرتے ہیں کوئی حدیث دیکھ لیں یا آیت ،اس میں ہر طرح سے فائدہ اور رہنمائی ہی ملے گی۔

ایسے لوگ جب کتابیں لکھیں گے اور تبلیغ کریں گے تو یورپ میں خود ہی اسلام تو پھیلے گا جس کو کنٹرول کرنے اور روکنے کے لیے پروپیگینڈے کیے جاتے ہیں اور ایسے گستاخی لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے ۔مگر جب ان لوگوں سے مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہ لوگ حکومت پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں کیونکہ ان کو ہر وقت سیکیورٹی دی جاتی ہے پھر یہ جن لوگوں سے ملتے یا جن کے لیے لکھتے ہیں ان کو بھی سیکیورٹی دی جاتی ہے پیسا 

خرچ کیا جاتا ہے تو بعض اوقات حکومت خود بھی ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے اور کوئی بہانہ بنا دیا جاتا ہے کہ حادثہ ہو گیا یا کچھ اور ۔

لیکن اللہ کا قانون یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کو سزا ضرور ملتی ہے اور ان کاانجام برا ہوتا ہے۔

مسلمان ہونے کے ناتے اگر ہم اپنے نبی سے محبت رکھتے ہیں اور اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آنا اور جو رہنمائی دینی تھی وہ آپ نے دے دی ۔اور پھر ہم ہی چوری کر رہے ہیں دوسروں کا حق مار رہے ہیں غبن اور 

فراڈ کر رہے ہیں دو نمبری کر رہے ہیں ۔ساتھ ہی حج بھی کر رہے ہیں نمازیں بھی پڑھ رہے ۔تو اور سب کچھ ہو سکتے ہیں ہم مگر اچھے مسلمان نہیں ۔کیونکہ ہم بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مر مٹنے کو تو تیار ہوتے ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔لہذا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دنیا کو اپنے کردار اور عمل سے دکھانا چاہئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کرنے والے ہیں ۔جس طرح افغانستان کی فتح نے فتح مکہ کی یاد دلائی کہ کس طرح پرامن طریقے سے فتح ہو سکتی 

ہے ۔لہذا خود ثابت کرنا ہے محض باتیں نہیں کرنی نعرے بلند نہیں کرنے ۔بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر کے برکت ہی بر

 گستاخانہ خاکہ بنانے والا ٹریفک حادثے میں جل کر ہلاک      

سویڈن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص لارز والکس جو کہ ایک ویژول آرٹسٹ تھا۔ جو بہت سی ارٹ کی چیذیں بناتا تھا ۔ لیکن اس کو شہرت مسلمانوں کے خلاف کام کر کے ملی ۔

اس نے2007 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہونے خاکہ بنایا ۔اس کے بنائے کارٹون پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا ،سڑکوں پر نکل ائےاور سویڈن سے اس کو سزا دینے کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے اسے سزا دینے کی بجائے اسے پولیس سیکیورٹی میں رکھا گیا 

کہیں بھی آتے جاتے ایجنسیاں ہر وقت ساتھ ہوتی تھیں ۔اس پر مسلمانوں کی طرف سےجعلی حملے بھی کروائے گئے مگر یہ ہمیشہ بچ نکلتا۔

لیکن قدرت کا قانون ہے کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اسے بے نام و نشاں اور جڑ سے ختم کر دیا جائے گا لہذا جن کی سیکیورٹی میں یہ شخص تھا انہی کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور ملعون لارذ والکس جل کر ہلاک ہو گیا اور اس کے ساتھ دو پولیس والے بھی جل کر ہلاک ہو گئے ۔ اللہ نے اسے سیکیورٹی کے حصار میں ہی جہنم کا ایندھن بنا دیا ۔

جب اس نے گستاخی کی اور خاکے 

بنائے تو اسے ایوارڈ سے نوازا گیا بہت پذیرائی ملی اور ان ممالک نے اس کو freedom of speech کا خطاب دیا ۔یہاں تک کہ ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں اسے خطاب کے لیے بلایا گیا ۔ اور تب سے اب تک سیکیورٹی میں ہی تھا ۔اصل میں ان جیسے لوگوں کو ایک خاص منصوبے کے تحت لایا جاتا ہے ۔تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں۔ کیونکہ یورپ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے طلاق کی شرح بھی کم ہوتی ہے اور دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمان اسلام کی زیادہ اچھے 

طریقے سے پیروی کر تے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ کلچر تبدیل ہو رہا ہے ۔اور سائنس بھی اسلام کی تمام چیزیں سچی ثابت کر رہی ہے۔

اس لیے ایسے لوگوں کو سامنے لانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ ایسی کوئی گستاخی کریں جس سے مسلمان بھڑک اٹھیں اور مرنے مارنے کی کوشش کریں تو وہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ مسلمان کس قدر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اگر مسلمان یورپ میں آگئے اور اسلام پھیل گیا تو یہ نہ جانے کیا کریں ان کا مقصد مسلمانوں کو دہشت گرد اور خونخوار ثابت کرنا اور برا دکھانا ہے ۔

ان کی فلمیں ہوں یا انڈیا کی سب میں مسلمانوں کا ہمیشہ برا ہی تصور دکھایا جاتا ہے ۔

جب اس شخص کو سامنے لایا گیا تو داعش، القاعدہ اور دوسری دہشتگردی کی جو تنظیمیں جنھیں سی ائی اے اور دیگر اجنسیاں کنٹرول کرتی ہیں ان کی طرف سے یہ بیانات آنے لگے کہ اگر سویڈن نے اس کے خلاف کاروائی نہ کی تو ہم سویڈن جا کر حملہ کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے لہذا جب اس قسم کے بیانات آتے ہیں تو غیرمسلم ان کے خلاف ہو جاتے ہیں کہ مسلمان کس طرح مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔پھر وہ ان کو ناپسند کرتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں ۔

کیونکہ ان کو خطرہ ہوتا ہے کہ اسلام پھیل رہا ہے ۔اس لیے وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں۔یہی میکرم نے بھی کیا تھا ۔

ایک عیسائی ڈاکٹر کریج کنسیڈائن نے بہت سی کتابیں لکھیں اس نے اپنی کتابوں کے ذریعے دنیا کو بتایا ہے کہ مسلمانوں کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تعلیمات پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے ۔اس نے دو کتابیں لکھی جن میں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار کیا تھا اور عیسائیوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا اور کہاں کہاں عیسائیوں 

کی مدد کی۔ایک عیسائی ہونے کے باوجوداس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے وہ سب بیان کیا جو ہم بھی نہ دیکھ سکیں۔

ایسی صورت حال میں ان جیسے لوگوں کو جب بلایا جاتا ہے اور یہ لیکچر دیتے ہیں یا میڈیا پر آتے ہیں اور دنیا بھر میں جا کر مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کرو تاکہ جو زوال تم پر آیا ہوا ہے وہ ہٹ جائے گا ۔اس سے ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ایسی کتابیں لکھتا ہے تو یہ غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں وہ انہیں بتاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 

خوبیاں کیا ہیں اور کس طرح انسانیت کی رہنمائی کرتے ہیں کوئی حدیث دیکھ لیں یا آیت ،اس میں ہر طرح سے فائدہ اور رہنمائی ہی ملے گی۔

ایسے لوگ جب کتابیں لکھیں گے اور تبلیغ کریں گے تو یورپ میں خود ہی اسلام تو پھیلے گا جس کو کنٹرول کرنے اور روکنے کے لیے پروپیگینڈے کیے جاتے ہیں اور ایسے گستاخی لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے ۔مگر جب ان لوگوں سے مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہ لوگ حکومت پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں کیونکہ ان کو ہر وقت سیکیورٹی دی جاتی ہے پھر یہ جن لوگوں سے ملتے یا جن کے لیے لکھتے ہیں ان کو بھی سیکیورٹی دی جاتی ہے پیسا 

خرچ کیا جاتا ہے تو بعض اوقات حکومت خود بھی ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے اور کوئی بہانہ بنا دیا جاتا ہے کہ حادثہ ہو گیا یا کچھ اور ۔

لیکن اللہ کا قانون یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کو سزا ضرور ملتی ہے اور ان کاانجام برا ہوتا ہے۔

مسلمان ہونے کے ناتے اگر ہم اپنے نبی سے محبت رکھتے ہیں اور اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آنا اور جو رہنمائی دینی تھی وہ آپ نے دے دی ۔اور پھر ہم ہی چوری کر رہے ہیں دوسروں کا حق مار رہے ہیں غبن اور 

فراڈ کر رہے ہیں دو نمبری کر رہے ہیں ۔ساتھ ہی حج بھی کر رہے ہیں نمازیں بھی پڑھ رہے ۔تو اور سب کچھ ہو سکتے ہیں ہم مگر اچھے مسلمان نہیں ۔کیونکہ ہم بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مر مٹنے کو تو تیار ہوتے ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔لہذا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دنیا کو اپنے کردار اور عمل سے دکھانا چاہئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کرنے والے ہیں ۔جس طرح افغانستان کی فتح نے فتح مکہ کی یاد دلائی کہ کس طرح پرامن طریقے سے فتح ہو سکتی 

ہے ۔لہذا خود ثابت کرنا ہے محض باتیں نہیں کرنی نعرے بلند نہیں کرنے ۔بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر کے برکت ہی برکت حاصل ہو گی ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.