گوشت خوری کے مضر اثرات سے بچیں۔ مفت معلومات

 مفت معلومات۔ عالم اسلام کے کروڑوں مسلمان ہر سال 10 ذوالحجہ کو خدا کی راہ میں بہت ہی شوق اور لگن سے جانوروں کی قربانی کرتے ہوۓ سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔

Harmful effects of eating meat
آقاۓ دو جہان ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ قربانی کے جانوروں کے جسم پر جس قدر بال ہوتے ہیں اس کے ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے ۔
اب بات یہ ہے کہ قربانی کا تصور کرتے ہی ہمارے ہاں چٹ پٹے اور مزیدار کھانوں کی سوچ منہ سے رال ٹپکانے کا کام کرتی ہے ۔
غریب طبقہ جس کو سارا سال گوشت کھانے کے اسباب کم ہی فراہم ہوتے ہیں وہ بھی عید الاضحٰی پر سیر ہو کر گوشت سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔مگر افسوس کہ اس گوشت کی فروانی اسے بدنی مسائل سے دوچار کر دیتی ہے ۔طبی نقطہ نظر سے گوشت میں موجودہ دور کی خطرناک اور مہلک بیماریوں مثلاً امراض قلب، امراض گردہ و جگر، کولیسٹرول اور ذہنی و دماغی امراض کے اسباب موجود ہیں ۔
“بزرگوں سے منقول ہے کہ گوشت انسان کے اندر حیوانی خصوصیات کو جنم دیتا ہے “۔
ہوش کی جگہ جوش اور اشتعال انگیزی کو ہوا دیتا ہے ۔
ہم یہاں آپ کو گوشت کے مثبت اور منفی اثرات سے روشناس کراۓ دیتے ہیں۔ تاکہ آپ گوشت کا مناسب استعمال کرتے ہوۓ اپنی صحت برقرار رکھ سکیں۔
(اونٹ کا گوشت)
اونٹ کا گوشت پٹھوں کو طاقت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس کو ختم کرنے اور پرانے بخار کو جڑ سے اکھاڑنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ اونٹ کا گوشت نمکین اور دیر سے ہضم ہوتا ہے جبکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی کم ہی خواص رکھتا ہے اور فاسد مادے پیدا کرتا ہے ۔ہمارے نبی کریم ﷺ سے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد لغوی وضو کی تلقین فرمائی ہے مطلب کہ اونٹ کے گوشت میں چکنائی وافر مقدار میں ہوتی ہے اس لیے پانی کا زیادہ استعمال ضروری ہے۔
اور نمکین ہونے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے انتہائی پیچیدگی کا موجب بنتا ہے ۔یہ سرد تر مزاج والوں کے لیے ہی مفید ثابت ہوتا ہے ۔

(گاۓ کا گوشت)

کہا جاتا ہے کہ “گاۓ کے دودھ میں شفا اور گوشت میں وبا ہے”
گاۓ کا گوشت خراب خون پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دیر سے ہضم ہوتا ہے ارتھرائیٹس، شاٹیکاپین اور زہریلے بخاروں کا سبب بنتا ہے ۔
مسوڑوں پر ورم پیدا کرتا ہے۔گاۓ کے گوشت کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے ۔
انہی وجوہات کی بنا پر گاۓ کا گوشت انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے ۔

(بھینس کا گوشت)

بھینس کے گوشت کے غیر ضروری استعمال سے سوداوی مادے بڑھ جاتے ہیں اس کے برعکس کم عمر بچھڑے کا گوشت کم مضر اثرات مرتب کرتا ہے ۔

(بکرے کا گوشت)

بکرے کے گوشت کی بات کی جاۓ تو یہ گوشت بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں مفید ہے ۔اعلی خون کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جلد ہضم ہوتا ہے۔
بکرے کے گوشت کی یخنی لاغر اور نحیف مریضوں کے لیے بے انتہا مفید ہے ۔اس کا مزاج گرم تر ہوتا ہے

(بھیڑ کا گوشت)

بھیڑ کے گوشت میں چربی چونکہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہے اس لیے یہ کمزور معدے والے افراد کو ہضم نہیں ہوتا۔بدن کو موٹا کرتا ہے اور خون کو گاڑھا کرتا ہے ۔

(دنبے کا گوشت)

دنبے کے گوشت میں غذائیت کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے ۔یہ جسامت کو دلکش اور اعصاب کو طاقتور بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
بس یہی نہیں بلکہ اس کی چربی پٹھوں کی سختی دور کر کے انہیں نرم بناتے ہوۓ ورم کو تحلیل کرتی ہے ۔
ماہرین کی تحقیقات کے مطابق چھوٹا گوشت بڑے گوشت کی نسبت کم مضرات کا حامل ہوتا ہے اور اگر گوشت میں سبزیاں ملا کر پکایا اور کھایا جاۓ تو بھی مضر اثرات کا کافی حد تک خاتمہ ہو جاتا ہے ۔
اس لیے کوشش کریں کدو، ٹینڈے، پالک اور شلجم کو گوشت کے ساتھ استعمال کر کے نقصانات سے محفوظ رہیں۔
اگر ہم عیدِ قربان پر گوشت کے استعمال کے حوالے سے اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کریں تو بہت سے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔
مطلب شرعیت کے مطابق قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاۓ مگر افسوس صد افسوس ہمارے ہاں عید سے پہلے ہی مخیل حضرات گوشت جمع کرنے اور محفوظ کرنے کی تراکیب ڈھونڈنے میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔قربانی کا تاثر مذہبی تہوار کے طور پر کم جبکہ گوشت کھانے کے مواقع زیادہ نظر آنے کا موجب بن چکا ہے۔
صاحب دولت تو سارا سال ہی گوشت کھانے کی استطاعت رکھتے ہیں جبکہ غرباء کو یہ موقع کم ہی ملتا ہے ۔
اس لیے ہماری التماس ہے کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق ہی قربانی کرتے ہوۓ گوشت کی تقسیم کریں، گوشت خود بھی کھائیں اور مستحقین تک بھی پہنچائیں ۔اپنی خواہشات اور ضروریات کو سنت ابراہیمی کی تقلید کرتے ہوۓ رضاۓ الٰہی کے لیے پس پشت ڈال کر دوسروں کی ضرورتوں پر قربان ہونے والے بن جائیں تاکہ قربانی کے صحیح اور مکمل اثرات سے فیض یاب ہونے والوں میں شمار ہو سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.