گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کا منظر عام پر آنا معمول بن چکا ہے ۔ مفت معلومات

“کچھ نہیں ہے لکھنے کے لیے”

آہ… ایک اور باب تمام ہوا ___!
گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کا منظر عام پر آنا معمول بن چکا ہے ۔
بقول شاعر~
بس اور کچھ نہیں ہے لکھنے کو
تمہارا کیا ہے تم تو ہر روز ایک نئی لاش اٹھا لاتے ہو ۔ اور سب سے کہتے پھرتے ہو ہیش ٹیگ جسٹس فار فلاں فار فلاں ۔
کیا سمجھ رکھا ہے؟ لکھنا کھیل ہے کیا ؟
ہر روز ایک ہی موضوع پر کتنا لکھا جا سکتا ہے ؟
بس اور کچھ نہیں ہے لکھنے کو
جاؤ لکھنے کے علاوہ بھی سو حل ہیں ، کچھ اور تلاش کرو
بچے پیدا کرنا بند کرو ۔ جسے دیکھو قطاروں کی قطاریں باندھنے پر تلا ہوا ہے
ان گنت لڑکے اور بے شمار لڑکیاں
حشرات الارض ۔ کیڑے مکوڑے
نہ ، مجھے یہ بتا و کس برتے پر یہ سب فوج بناتے جا رہے ہو ؟
ہے کیا تمہارے پاس ؟
تم کوئی جاگیر دار ہو ؟
سرمایہ دار ہو ؟
بیورو کریٹ ہو ؟
سیاستدان ہو؟
جج ہو ؟
جرنیل ہو ؟
میڈیا مالکان ہو ؟
پیر ہو ؟ مخدوم ہو ؟
کیا بچوں کو انگلینڈ، امریکہ یا کینیڈا کی شہریت دلوا سکتے ہو ؟
ڈیفنس یا بحریہ ٹاون میں رہائش رکھ سکتے ہو ؟
بچوں کو فوج میں افسر بھرتی کروا سکتے ہو ؟
کچھ بھی تو نہیں کرسکتے تم ۔ اوقات ہی کیا ہے تمہاری ؟
جب خود ساری عمر غلامی کی چکی جوتتے گزار رہے ہو تو بچوں کو کس لئے اس چکی کے پاٹوں میں پسنے کیلئے پیدا کر رہے ہو ؟
تم بوجھ ہو ، دھرتی کا بوجھ ، ملکی معیشت پر بوجھ۔
معیشت کا پتہ ہے ؟ کیا ہوتی ہے معیشت ؟ ڈالر کیوں مہنگا ہوا ہے ؟
آف شور کمپنیاں کیا ہوتی ہیں ؟ افراط زر ، منی لانڈرنگ، مجموعی قومی پیداوار، جامد قرضے،آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ،
گھنٹہ بھی نہیں پتہ تم لوگوں کو اور بس بچے بچے بچے
کم از کم طلب اور رسد کا تو میں تمہیں آج بتا ہی دیتا ہوں ۔
تو سنو جب مال کی رسد منڈی کی طلب سے زیادہ ہو جاتی ہے نا تو قیمت گر جاتی ہے ۔
اتنی گر جاتی ہے کہ مال باہر پھینکنا پڑ جاتا ہے ۔
نوچ کر ، مسل کر ، بھنبوڑ کر،
کچرے کے ڈھیر پر ، جھاڑیوں میں ، جنگلوں میں ۔
یہی ہو رہا ہے ۔ تمہیں کیا پتہ ۔ جاہل لوگ ۔ اجڈ نا ہنجار ۔
اچھا اتنا ہی شوق ہے نا بچے پیدا کرنے کا تو سلیقہ سیکھو ۔
لڑکوں کو زندہ چھوڑو اور لڑکیوں کو مار دو ۔بھلے زندہ دفن کردو ۔ بھلے پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دو ۔ اس سے کم از کم وہ نوچے جانے ، بھبوڑے جانے ادھیڑے جانے اور جلائے جانے سے بچ جائیں گی ۔
اور ہمیں ہر روز نئی درد ناک تحریریں بھی نہیں لکھنی پڑیں گی
اور جو لڑکے ہوں گے نا وہ بڑے ہو کر سورمے بنیں گے ۔ اپنے آقاؤں کے دست و بازو ۔ ان پر سب کو مان ہو گا ۔ آخر نظام سلطنت کے پائے مضبوط کرنے کو افرادی قوت بھی تو چاہیے نا ۔ نعرے لگانے ، دھرنے دینے اور ناچنے کے لئے بھی مضبوط جوانوں کی ضرورت رہتی ہے ۔
بس اور کچھ نہیں ہے لکھنے کو مگر میرا میری قوم کے ذی شعور لوگوں سے سوال ہے کہ کیا آپ اب بھی یہی کہیں گے کہ ڈومیسٹک وائلنس بل پاس نہیں کرانا چاہیے؟؟؟
کیا آپ کے نزدیک ایک خاندان کا یکتا رہنا ایک عورت کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟
کیا آپ کے نزدیک طلاق کی صورت میں ایک گھر کا بکھر جانا بچوں کا گھر سے بےگھر ہو جانا ایک عورت کی زندگی کی بازی ہار جانے سے زیادہ تکلیف دہ ہے؟
مرحومہ کے بھائی کا بیان ہے کہ
“معاشرے کے خوف سے طلاق نہیں لی ورنہ دس سالوں سے بہن متعدد بار شدید تشدد کا نشانہ بنائی گئی”
پڑھ کر میرا دل چاہا کیوں نہ ان بدبختوں کو پھانسی پہ چڑھایا جائے جن کی گز بھر لمبی زبانوں ،زہر اگلتے طعنوں کے خوف سے بچیاں ظلم سہنے پہ مجبور ہو جاتی ہیں مگر طلاق لینے کا نہیں سوچتیں۔۔۔!
بدبختو اگر ایسی مظلوم عورتوں کا ساتھ نہیں دے سکتے ہو تو کم از کم اپنی آگ اگلتی زبانوں پہ ہی قابو پا لو۔
اس درندے کو اسی طرح تشدد کرکے سرعام مارا جائے۔ایسے جانور کی لاش بھی گلنے سڑنے کے لیے کسی چوک میں لٹکادی جائے۔بدنسلو لوگ اپنی بیٹیاں تمھیں ظلم کرنے کے لیے دیتے ہیں؟
کتنی پیاری تھی وہ اور اسکے بارے کہا جارہا ہے کہ نہایت خوش اخلاق اور ملنسار خاتون تھی۔معصوم چار بچے بے آسرا کردیے اس شرابی بدکار انسان نے اس شخص کے بارے پوری قوم کو مہم چلانا چاہیئے جب تک اسے اسکی گردن نہ اڑا دی جائے۔اسکے وہ ہاتھ توڑے جائیں جن سے یہ اس مظلوم پہ تشدد کرتا رہا اور وہ وفاشعار سمجھوتے کرتی رہی کہ اب معافی مانگ لیتا ہے سدھر جائے گا یہ خبیث اسکی جان ہی لے گیا۔پھر عورت بغاوت کرتی ہے توفتوے لیکر آجاتے ہیں۔ایسے رذیلوں کو بیٹیاں دینے سے بہتر ہے اپنی رحمتوں کو دین دنیا کی تعلیم وہنر دے کر اپنے ہی سائے میں رکھا جائے۔جب اس ملک میں کوئی قانون نہیں کہیں انصاف نہیں انسانیت نہیں۔ظلم کے خلاف اٹھنے کی غیرت نہیں توکم از کم اپنی اپنی بیٹی کو تو ایسے جہنم میں پھینکنے سے بہتر ہے کہ ہمیشہ اپنے پاس رکھ لیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.