ہمارے ملک پاکستان کے فخر سمیع اللہ خان کےمجسمہ سے ہاکی اور بال چوری ہوگئے

ہاکی اور گیند چور

ہمارے لیونگ لیجنڈ سمیع اللہ خان جن کو دنیا فلائنگ ھارس کے نام سے جانتی ہے وہ اور انکی فیملی (مطیع اللہ خان، کلیم اللہ خان) ہاکی کے حوالے سے بہاولپور کا فخر ہیں۔ 

اس عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کی خدمات پہ انکو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے شہر میں ان کا مجسمہ نصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ 

سمیع اللہ جان کا مجسمہ تو جیسا بھی بنا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسے سٹیڈیم کے داخلی گیٹ یا سٹیڈیم سے منسلک کسی چوک میں نصب کیا جاتا تاکہ آئندہ نسل کو نسبت کے ساتھ حوالہ دے کے تعارف کروایا جا سکتا ۔

نہیں تو کم از کم کسی مشہور شاہراہ کے مین چوک میں نصب کیے جانے کے تو حقدار ہیں ہی۔

لیکن ہوا یہ کہ بہاولپور کے ایک رہائشی علاقے ماڈل ٹاون A کے ایک غیر معروف چوک میں زبردستی کھڑا کر دیا گیا۔ جبکہ اس علاقے کی کوئی بھی نسبت سمیع اللہ خان سے نہیں۔ 

سمیع اللہ خان کا مجسمہ جس میں وہ ہاکی لے کے بال کو بڑھا رہے ہیں۔ 

اس پہ متضاد یہ ہوا کے مجسمہ نصب کرنے کے چند دن بعد کوئی سمیع اللہ خان کی ہاکی اور بال چرا کے لے گیا اب سمیع اللہ خان صاحب بنا ہاکی اور بال حیران پریشان کھڑے ہیں۔ 

آج ان کی ہاکی اور گیند تو انکو واپس لا دی ہے۔ ساتھ انہیں ایک جنگلے میں بند کر دیا ہے۔ 

اگر یہی مجسمہ مشہور و مصروف شاہراہ پہ لگایا جاتا جس کے یہ حق دار بھی تھے تو اس طرح کے اچکوں سے بچا جا سکتا تھا۔

 سیاستدان کی عقل کو سات سلام جن کو نہ عزت دینی آتی ہے نہ خراج تحسین اور نہ ہی خراج عقیدت جیسے لفظوں سے کوئی واقفیت ہے۔

اللہ اس بااختیار عفریت سے ہماری جان چھڑائے۔

 ہم اپنے ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.