ڈاکٹر عبدالقدیر خان  قوم کے محسن ۔ان کی قربانی سے کیسے ایٹمی پروگرام بچایا ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان  قوم کے محسن ۔ان کی قربانی سے کیسے ایٹمی پروگرام بچایا

ڈاکٹر عبدالقدیر خان  قوم کے محسن ۔ان کی قربانی سے کیسے ایٹمی پروگرام بچایا ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو اب اس دنیا میں نہیں رہے صرف قوم کے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے محسن ہیں انہوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے جو کام کیا ہے اللہ کے ہاں ان کا درجہ بہت بلند ہے۔

ان کی زندگی میں کچھ ایسے راز بھی تھے کہ جن کو جاننے کے بعد قوم کے اس ہیرو کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پاکستان پر دو بڑے احسان کیے اور اگر ساری دنیا بھی ان کے خلاف ہو جائے تب بھی یہ احسانات

قیامت تک پاکستان پر رہیں گے ۔

پہلا ۔انہوں نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام بنایا۔

دوسرا ۔انہوں نے  اس ایٹمی پروگرام کو بچایا ۔

وہ لمحہ جب امریکی جہاز سی آئی اے کے اہلکار اور آفیسر جب ڈاکٹر اے کیو خان کو امریکہ لے جانے کے لیے پہنچ چکے تھے اس وقت ڈاکٹر اے کیو خان کی قربانی اور امریکہ کے سامنے پرویز مشرف کی ذہانت نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام بچایا ۔اور آج تک امریکی بھول نہیں سکے کہ مشرف نے  کس طرح ان کو اپنی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دیا کہ دنیا میں کوئی نہیں دے سکا ۔

اصل معاملہ یہ تھا کہ ڈاکٹر اے کیو خان بہت ذہین تھے ۔دنیا میں دو خط ہیں جنہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ایک جو آئن سٹائن نے لکھا اور تاریخ کا حصہ بن گیا اور ایک ڈاکٹر اے کیو خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو ہالینڈ کی ایمبیسی کے ذریعے لکھا تھا جو ڈائریکٹ ہی ان کو ملا تھا ۔اس میں ایسی باتیں کی گئی تھیں کہ جس کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز ہو گیا ذوالفقار علی بھٹو کو سمجھ آگئی کہ یہ وہ شخص ہے جو پاکستان کو ایٹمی پروگرام کا مالک بنا سکتا ہے ۔

ڈاکڑ عبدالقدیر خان اس وقت ہالینڈ میں اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔ان  کو جرمن،فرنچ اور ڈچ زبانیں بھی آتی تھیں ۔بہت ہی ذہین انسان تھےمیٹا لرجیکل انجنیئر اور نیو کلیئر فزسٹ تھے  میٹا لرجیکل انجنیئر وہ شخص ہوتا ہے جو دھاتوں کا ماہر ہوتا ہے نیو کلیئر پروگرام میں جن مشینوں کی ضرورت تھی انہیں باہر سے پاکستان آنے نہیں دیا جا رہا تھا  ۔دنیا میں  پاکستان پر پابندی تھی ۔اس وقت ڈاکٹر اے کیو خان کی ذہانت سامنے آئی کہ موجودہ مشینوں کو اس قابل کرنا تھا کہ باہر سے آئی مشینوں کے بغیر ہی ہم ایٹم بم تیار کر سکیں ۔یہ کام ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنے ذمہ لیا اور کر کے دکھایا ۔

اس وقت ہنری کسنجر نے پاکستان کو کہا کہ ہم تمہیں دنیا کے سامنے عبرت ناک مثال بنائیں گے ۔جب ہم نے ایٹمی تجربہ کر لیا تو ہم پر پابندیاں لگ گئی اور ہمارے پاس تب کچھ بھی نہیں تھا ۔لہذا 2001 میں ایکا نے مشرف پر دباو ڈالا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کی سربراہی سے ہٹائیں اور مشرف نے یہ کام کیا اور ان کو خصوصی مشیر بنا دیا صورت حال یہ تھی کہ آئی ایس آئی نے مشرف کو اطلاع دی تھی کہ امریکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنا چاہتا ہے اور اس کی پوری تیاری ہے افغانستان تو صرف ایک بہانہ ہے اوراصل نشانہ پاکستان ہے ۔

جنرل حمید گل اور پرویز مشرف ایک دوسرے کے بڑے اچھے دوست تھے ۔دونوں کی ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں جو دنیا کے سامنے کم ہی  آتی تھیں ۔ایک منصوبہ تھا کہ جنرل حمید گل دنیا کے سامنے پرویزمشرف کو برا بھلا کہتے تھے وہ اصل میں امریکہ پر تنقید کرتے تھے تاکہ ایک توازن بنا رہے ۔اس پوری صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ اتنا خطرناک ہونے جا رہا ہے ۔پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق واش ڈاگ نے مشرف کو خط لکھا کہ پاکستان کے سائنسدانوں نے

(کسی ایک نے نہیں ) جن کی سربراہی ڈاکٹر اے کیو خان کر رہے ہیں ان سب نے مل کر پاکستان کے ایٹمی راز فروخت کیے ہیں ۔یہی وہ لمحہ تھا جب مشرف کو اندازہ ہو گیا کہ امریکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔اور ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کی ٹیم کے بارے میں جو بات کی گئی تھی کہ یہ کام وہ اور ان کا سارا نیٹ ورک کر رہے ہیں اس وقت پاکستان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا لہذا مشرف نے ڈاکٹر اے کیو خان سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ آپ قوم کے ہیرو ہیں اور اگر آپ قربانی دیتے تو آپ کو امریکہ کے حوالے نہیں کرنے دیا جائے گا کیونکہ امریکہ ہمارا

ایٹمی پروگرام رول بیک کرنا چاہتا ہے تو ایک شخص کو قربانی دینی پڑے گی اور اگر آپ تمام الزامات اپنے سر لے لیتے ہیں اور اعتراف کر لیتےہیں تو ہم سارا ملبہ صرف  آپ پر ڈالیں گے سارے نیٹورک پر نہیں ۔۔

کیونکہ یہ سب دنیا میں پروپیگینڈا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے راز بیچ دیے ۔آف شور کمپنی بنا لی وغیرہ

مگر حقیقت یہ کہ جس شخص نے ہالینڈ کی شاہانہ زندگی چھوڑ کر پاکستان آکر خدمت کرنا چاہی وہ کیا پاکستان کے راز بیچ کر پیسہ کمائے گا ۔لہذا امریکہ کا یہ سب ایک ڈھونگ تھا ۔

اس لیے ڈاکٹر اے کیو خان کو اس وقت منایا گیا اور ان کا بھی ظرف

دیکھیئے کہ انہوں نے بھی کہا اگر میری قربانی سے اگر پاکستان تا قیامت تک رہنے والا ملک رہ جائے اور میری وجہ سے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچ جائے تو میں قربانی دینے کو تیار ہوں ۔یوں انہوں نے اعتراف کیا کہ ہاں میں نے یہ راز بیچے ہیں ۔اس وقت ان کو لینے کے لیے امریکی جہاز آچکا تھا اور وہ مشرف دباو ڈال رہے تھے کہ ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کا سارا نیٹورک  اور ٹیم کو لے کر جانا ہے ۔تاکہ وہ بعد میں پاکستان پر پابندی لگا کر پورا ایٹمی پروگرام بند کر دیں ۔

اس موقع پر مشرف نےان کو کہا کہ یہ تو ہمارے لیے خطرناک صورت حال ہے

کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے قومی سلامتی بیچی یوں سارا الزام ڈاکٹر اے کیو خان کے سر رکھ دیا ۔کیونکہ یہ پہلے سے ہی ترتیب دیا گیا پلان تھا لہذا مشرف نے امریکیوں کو جواب دیا کہ میں خود تحقیق کرنا چاہتا ہوں اور اگر کچھ نکلے گا تو آپ کو بھی بتاوں گا اس کے لیے میں ڈاکٹر اے کیو خان کو اپنی نگرانی میں رکھنا چاہتا ہوں آپ کے حوالے نہیں کروں گا کیونکہ یہ ہماری سلامتی کا معاملہ ہے ہمارے ملک کے خلاف یہ سازش ہوئی ہے اور امریکہ کا شکریہ کہ اس نے ہمیں بتایا ۔ اس طرح ڈاکٹر اے کیو خان کی قربانی اور مشرف کی ذہانت سے

امریکی جہاز واپس چلا گیا ۔

اس وقت مشرف اور انٹیلیجنس اداروں کو یہی لگا  کہ امریکہ نے ڈاکٹر اے کیو خان کو مروا دینا ہے یا کچھ بھی کر سکتا۔امریکہ پلان واضح بھی تھا ۔پھر مشرف نے ڈاکٹر اے کیو خان کو معاف کرتے ہوئے نظر بند کر دیا اور ہر وقت سیکیورٹی اداروں کی نگرانی میں رہے ۔

مشرف اور ڈاکٹر اے کیو خان کی لڑائی بظاہر تھی اس میں کوئی سچائی نہیں تھی ۔یوں مشرف کی ذہانت اور ڈاکٹر اے کیو خان کی قربانی سے پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام آگے بڑھاتا رہا اور آج پاکستان الحمداللہ کس ایٹمی مقام پر آچکا ہے ۔

اس وقت اگر صورت حال مختلف ہوتی اور پرویز مشرف امریکہ کی باتوں میں آکر ڈاکٹر اے کیو خان کو لے جانے دیتا اور ذہانت سے امریکہ کو ڈبل کراس نہ کرتا تو امریکہ ہم پر پابندی لگا کر ہمارا ایٹمی پروگرام اب تک بند کروا چکا ہوتا ۔لیکن سارا الزام ایک شخص نے اپنے ذمے لے کر یہ سب بچا لیا کہ وہ آج بھی ہمارے قومی ہیرو ہیں کہ جنہیں ہم نےپورے اعزاز کے ساتھ دفنایا ہے ۔وہ پوری امت مسلمہ کے ہیرو ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.