Judicial remand of Azam Swati extended for another 14 days

Judicial remand of Azam Swati extended for another 14 days

The recent development in the judicial case against Federal Minister for Science and Technology Azam Swati has resulted in the Islamabad High Court extending his judicial remand for a period of 14 days. This decision was taken as the Federal Investigation Agency (FIA) has yet to complete its investigation. The case against the minister involves an alleged attempt of land grabbing, which has resulted in major public outrage. In this blog post, we will discuss the legal implications of this decision and what it means for the minister’s future. Moreover, we will also discuss the reaction of the public to the decision and the ways in which the controversy can be resolved

 

Judicial remand of Azam Swati extended for another 14 days

On Wednesday the Judicial Magistrate Islamabad had extended the remand of Federal Minister of Science and Technology, Azam Swati, for another 14 days. The former Minister of State was arrested on charges of ‘influencing a police officer’, in an investigation into a dispute between him and his neighbours over a piece of land.

 

The Islamabad High Court had suspended Swati’s ministry and ordered him to surrender to the police. According to reports, the police had initially refused to register the case against Swati, but after the court’s order, the police registered a case of ‘influencing a police officer’ against him.

 

The former minister has been in judicial remand since then and the extended remand period will give the police more time to complete their investigation. Swati has denied all allegations against him, claiming that he was simply trying to protect his rights as a citizen.

 

Swati’s case has sparked a debate on Pakistan’s judicial system, with many people questioning the integrity of the system and calling for an independent inquiry into the matter. Furthermore, pressure is mounting on the government to take action against those responsible for making false accusations against Swati

اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔

 وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے خلاف جوڈیشل کیس میں حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔ یہ فیصلہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ابھی تک اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ وزیر کے خلاف مقدمہ میں زمینوں پر قبضے کی مبینہ کوشش شامل ہے، جس کے نتیجے میں عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس بلاگ پوسٹ میں، ہم اس فیصلے کے قانونی مضمرات اور وزیر کے مستقبل کے لیے اس کا کیا مطلب ہے اس پر بات کریں گے۔ مزید یہ کہ ہم اس فیصلے پر عوام کے ردعمل اور تنازعہ کو حل کرنے کے طریقوں پر بھی بات کریں گے۔

 اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔

 بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد نے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کی تھی۔ سابق وزیر مملکت کو زمین کے ایک ٹکڑے کو لے کر ان کے اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان تنازعہ کی تحقیقات میں ‘پولیس افسر کو متاثر کرنے’ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کی وزارت معطل کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم عدالت کے حکم کے بعد پولیس نے ان کے خلاف ’پولیس افسر کو متاثر کرنے‘ کا مقدمہ درج کر لیا۔

 سابق وزیر اس وقت سے جوڈیشل ریمانڈ میں ہیں اور ریمانڈ میں توسیع سے پولیس کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید وقت ملے گا۔ سواتی نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ محض ایک شہری کے طور پر اپنے حقوق کے تحفظ کی کوشش کر رہے تھے۔

 سواتی کے کیس نے پاکستان کے عدالتی نظام پر ایک بحث چھیڑ دی ہے، بہت سے لوگ اس نظام کی سالمیت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مزید برآں حکومت پر سواتی پر جھوٹے الزامات لگانے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *